موت کے تین دن


کبھی تم نے یہ سوچا ہے کہ تین دن کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہوتی ہے۔ تین دن میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ انسان اپنے ان سپنوں کی جانب تین قدم مزید بڑھا سکتا ہے جن کے تعاقب میں وہ برسوں سے سرگرداں رہا ہو۔ خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر طے کر سکتا ہے۔ تین دن میں تین صدیوں کے واقعات کو کھنگالا جا سکتا ہے۔ تین ہزار سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ فیس بک پر تین سو سے زائد نئے لوگوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹیوٹر پر کئی نئے ٹرینڈز چلائے جا سکتے ہیں۔ مگر یہ حکومت کیا جانے کہ ایک عام آدمی کی زندگی میں تین دن کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ تین دن سے ملک آف لائن رہا یعنی زندگی سے دور رہا۔ آسان لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ تین دن ملک موت کی آغوش میں سویا رہا۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ٹک ٹاک پر کون سی ویڈیؤ وائرل ہے۔ یوٹیوب پر کس ویڈیو کے چرچے ہیں۔ انسٹاگرام پر کس شخص کی ریل پر لوگ دھڑا دھڑ کمنٹ کر رہے ہیں اور ٹیوٹر پر کیا ٹرینڈز چل رہے ہیں۔ تین دن سے پورے ملک کو کچھ خبر نہیں۔ ہوش کھو گیا ہے۔ ہوش جاتے رہنے کا تو یہی مطلب ہوتا ہے کہ موت نے اپنا ہنٹر برسا دیا۔

تین دن ملک مردہ رہا۔ اب بات کرتے ہیں کہ موت کے اس دورانیہ میں انسان نے کیا کیا کام کیے اور کیسے زندگی سے زندگی تک کا سفر پورا کیا اور موت سے چھٹکارا پایا۔

موت کے تین دنوں میں انسان اپنوں سے ملا، انہیں گلے لگایا۔ ان کے ساتھ سکھ کی شیرینی اور دکھ کی تلخیاں بانٹیں۔ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ بچپن کے قصوں پر قہقہے لگائے اور سہ پہر میں چائے پیتے ہوئے، والدین سے ان کے بچپن کے متعلق گفتگو کی۔ اس دور میں بچپن کیسا ہوتا تھا اور آج کے بچپن میں کیا فرق ہے پر بحث ہوئی۔ انسان نے اپنے متعلق غور کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیا ایسی وجہ ہے جس کی بنا پر اسے عدم سے وجود بخشا گیا اور دنیا کی بھل بھلیوں میں پھینک دیا گیا۔ ان یادوں کو جو ذہن کی کسی گمنام کونے میں پڑی، دھول ہوئی جاتی تھیں، نکالا اور گرد صاف کرتے ہوئے اس وقت کو زندہ کرنے کی کوشش کی گئی جب وہ محفوظ کی گئی تھیں۔

موت کے ان تین دنوں میں انسان نے افق پر چھائے بادل دیکھے اور ان بادلوں سے جھانکتے سنہری سورج کا نظارہ کیا۔ شمال کی جانب سے آتی معطر ہوا کا ٹھنڈا لمس محسوس کیا۔ آسمان کی وسعت میں اڑتے کبوتروں کے غول دیکھے۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ اور کوئل کو مدھر آواز میں راگ الاپتے سنا۔ سورج کو شب کی دہلیز پر اترتے دیکھا۔ رات کی سیاہی میں آسمان پر بکھرے ستارے، جو چاند کو اپنی آغوش میں لیے مسکرا رہے تھے، دیکھے۔

مگر یہ وقت انسان کے لیے آزمائش کا وقت تھا۔ پورا ملک موت کی آغوش میں تھا اور چار سو خاموشی چھائی تھی۔ لائف لائن مونیٹر پر ”آف لائن“ لکھا آ رہا تھا۔ انسان فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب سے دور، گھر کے بستر پر پڑا تھا۔

موت کے ان تین دنوں میں انسان نے بستر کی نرمی کو محسوس کیا۔ کمرے میں بکھری کتابیں دیکھیں۔ کھڑکی سے جھانکتے رنگوں کا مشاہدہ کیا۔ راہداریوں میں دوڑتی دھول کی بے چینی کو اپنے اوپر طاری ہوتے دیکھا۔ پھولوں کی پتیوں میں رقص کرتی خوشبو سونگھی۔ پھول کے رنگوں کو اپنی شخصیت میں اترتے دیکھا۔ نل سے ٹپکتے پانی کی ایک ایک بوند کے اندر پنہاں زندگی کا نظارہ کیا۔ بارش کی رم جھم سے پیدا ہونے والی موسیقی سے لطف اندوز ہوا۔ رات گیارہ بجے سونے کا لطف اٹھایا، تڑکے اٹھ کر شبنم کے آنسوؤں سے وضو کیے ہوئے گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کا مزا جانا۔ دن اور رات کے مختلف پہروں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والی روشنی کے ہفت رنگوں کا نظارہ کیا۔

مگر موت کے یہ تین دن انسان کے لیے سخت آزمائش کے دن تھے۔ وہ اپنی دنیا سے دور، اردگرد کے ماحول میں پھنس گیا تھا۔ آج صبح نیند سے بیدار ہوا تو معلوم ہوا ملک زندہ ہو چکا ہے اور آزمائش کے دن گزر چکے ہیں۔ میرا انٹرنیٹ چل رہا تھا اور میں بھی اپنی دنیا میں واپس آ گیا تھا۔ خوشی کا دن ہے لیکن دوسری طرف یہ خوف بھی گلو گیر ہے کہ وہ تین دن زندگی میں کیسے واپس لاؤں، جو موت کی نذر ہو چکے ہیں۔ تین دن موت کی آغوش میں رہنے کے بعد اب میں زندہ ہو چکا ہوں۔ میں اپنی فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور ٹیوٹر کی دنیا میں واپس آ چکا ہوں۔

اب مجھے خبر نہیں کہ ہوا کس رفتار سے چل رہی ہے۔ پھول جب سورج کی روشنی میں مہکتے ہیں تو کیا منظر ہوتا ہے۔ مجھے یہ خبر نہیں کہ شام اور رات میں کیا فرق ہے۔ مجھے یہ ہوش نہیں رہا کہ تاروں بھری رات میں چاند نکل آیا ہے اور دعوت نظارہ دے رہا ہے۔ میں بھول چکا ہوں کہ سورج نکلنے سے پہلے کا منظر کیسا ہوتا ہے۔ مگر اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔ کیوں کہ میں آن لائن ہوں۔ اور تمہیں تو معلوم ہے کہ آن لائن ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ زندگی۔ میں زندگی میں واپس آ چکا ہوں۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais