انقلاب کیوں نہ آ سکا؟

پاکستان میں سیاسی صورتحال آج کل اپنے مکمل ساز و سامان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف اور پھر اداروں کے خلافبیان بازیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ خان صاحب کی گرفتاری کے بعد جو ردعمل عوام نے دکھایا بلاشبہ اس کی مثال کم از کم پاکستانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس قدر شدید ردعمل اور اتنی قربانیوں کہ بعد بھی انقلاب کیوں نہ آ سکا؟
آئیے اس کے ممکنہ اسباب پہ بحث کرتے ہیں۔
اول یہ کہ کیا یہ تحریک جو بپا کی گئی اس کا مقصد واقعتاً انقلاب تھا یا صرف خان صاحب کی رہائی۔ اگر تو یہ صرف ایک فرد واحد کی رہائی کے لئے برپا کی گئی تحریک تھی تو پھر اس کی کامیابی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ عدلیہ نے جس انداز میں انہیں اداروں کے چنگل سے نکال کر واپس زمان پارک پہنچا دیا ہے یہ اس تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے۔ لیکن اگر یہ تحریک، پاکستان کے سیاسی نظام کو خالصتاً سیاسی کرنے کی تحریک تھی تو معذرت کے ساتھ یہ ایک مکمل نا کام تحریک تھی۔ اس کی وجہ صرف اور صرف شخصیت پرستی بنی۔
ثانیاً کیا اس تحریک کے رہنما کے ذہن میں اس نظام کو تبدیل کرنا تھا یا اس نظام کو اپنانے کی جدوجہد۔ کسی بھی تحریک یا انقلاب میں کلیدی کردار نظریے کا ہوتا ہے یا پھر اس راہنما کا جو اس نظریے کو لوگوں کے قلوب و اذہان کے اندر اتارتا ہے۔ اب اس معاملے میں عوام کشمکش کا شکار رہی، کہیں انقلاب کے بلند و بالا نعرے تھے تو وہیں سے یقین دہانی بھی کہ اگر ہم حکومت میں آئے تو نظام کو کچھ نہیں کہیں گے۔ تو اس غیر یقینی صورتحال میں عوام نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جو بھی کرنا ہے خان صاحب نے کرنا ہے تو ہمارا مقصد صرف اور صرف خان صاحب کو آزاد کروانا ہے۔
ثالثاً اس احتجاج، تحریک اور کاروان انقلاب میں شامل لوگ بھی نظریاتی کارکن سے کہیں زیادہ شخصی محبت میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے۔ جن کی پہلا اور آخری مطالبہ صرف اور صرف خان صاحب کی رہائی تھی نہ کہ حقیقی آزادی۔ کیونکہ اگر وہ حقیقی آزادی کے لیے نکلے ہوتے تو ابھی تک سڑکوں پر ہوتے۔ ہم تو ابھی بھی اسی فرسودہ نظام میں جی رہے ہیں۔ ابھی بھی ایک پارٹی اگر گود میں بیٹھی ہے تو دوسری پارٹی یقین دلا رہی ہے کہ ہمیں گود میں بٹھا لیں، قسم سے شرارت نہیں کریں گے۔
اب جب خان صاحب زمان پارک پہنچ چکے ہیں، عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہے وہ ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اس ساری توڑ پھوڑ اور قیمتی انسانوں کی جان کے ضیاع سے اس ارض پاکستان کو کیا فائدہ پہنچا؟ کیا اب ہم واقعتاً آزاد ہو گئے؟ کیا ہمارا سیاسی نظام عوام کے تابع آ گیا؟ کیا غریب عوام کو ریلیف مل گیا؟ کیا تبدیلی آ گئی؟ کیا اداروں کے تعاون کے بغیر حکومت میں آنا اور چلانا ممکن ہو گیا؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر ابھی تک تمام سیاسی جماعتوں کی پہلی ترجیح گود میں بیٹھنا کیوں ہے؟ ابھی تک تمام رہنماؤں کی ساری توانائیاں اسی یقین دہانی میں کیوں صرف ہو رہیں کہ ہم سے بہتر آپ کے لیے کوئی نہیں؟ اگر جواب ناں ہے تو پھر اس ساری تحریک کا کیا فائدہ، اس توڑ پھوڑ کا کیا فائدہ، ان جانوں کے ضیاع کا کیا فائدہ ریلیف تو بہرحال مل ہی جانا تھا۔

