پیکر ایثار و محبت
ماں وہ لفظ جو کسی بھی انسان کے لئے ایثار، محبت، وفا شفقت غرض کہ یہ مثبت رشتہ کی انتہائی سطح کی علامت ہے ہر شخص چاہے وہ کسی بھی خطہ زمین سے، کسی بھی رنگ و نسل و مذہب سے تعلق رکھتا ہو اس ایک لفظ سے جذبات و محسوسات کی کیفیت یکساں رکھتا ہے۔
اس دن کو منانے کا آغاز بیسویں صدی کا اوائل سے اہل مغرب نے کیا حالانکہ ہم اہل اسلام کو جتنا ماں کی اہمیت و احترام کا سبق سکھایا گیا اتنا شاید ہی کسی مذہب اور معاشرے میں بتایا اور سکھایا گیا ہو گا خیر اب بات کی جائے ماؤں کے عالمی دن کی اہمیت کی یوں تو ہمارا ہر دن ہی ماں کی جہد مسلسل کی عملی تصویر ہوتا ہے لیکن اس خاص دن کو منانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اس عظیم رشتے کو ہمیشہ وہ محبت و احترام دیں کہ جو اس کا حق اور ہمارا فرض بھی ہے۔
یوں تو ہم بھی اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں چونکہ اسلام دین فطرت بھی ہے اس لئے وہ تو ماں کو خاندان کی ایک ایسی اکائی تصور کرتا ہے کی جس وجود سے پورا خاندان اور پھر وسیع تر معنوں میں پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے اس کی ضرورتوں کا خیال، عزت و احترام، اور اس کی دلجوئی کا نہ صرف حکم دیتا ہے بلکہ اسے فرائض میں شامل کر دیا گیا ہے کیونکہ ماں بننے کے عظیم منصب پر فائز ہونے اور صرف انسان کو دنیا میں لاتے وقت کی تمام تر تکالیف کو جھیلنا اور اپنی زندگی کو زندگی و موت کی کشمکش سے گزارنا ہی اس کی ذات کا خاصہ نہیں بلکہ اس ننھے وجود کو پالنا، پرورش کرنا، کسی قابل بنانا، معاشرے کا مفید شہری بنانا بھی اس کی مرہون منت ہوتا ہے غرض کہ ہماری ذات کی تمام تر کامیابیاں اس ایک ذات کی کاوشوں کا صلہ ہوا کرتی ہیں ان سب کے درمیان اس کی اپنی ذات اور خواہشیں کہیں دور پیچھے رہ جاتی ہیں۔
ہمیں اس ایک دن ہی نہیں بلکہ ہر دن اس عظیم ہستی کے لئے اسی طرح کوششیں کرنی چاہیے کہ جیسے اس نے ہماری ذات کے لئے اس وقت کیں جب کسی قابل بھی نہ تھے اور اللہ تبارک و تعالی بھی ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے کی ”ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو کہ جیسا انہوں نے تمہارے ساتھ کیا یعنی اچھا، محبت، احترام کا“
خاص طور پر حدیث مبارکہ جو کہ بار بار ہمیں کامیابی کی کنجی کی نشاندہی کرتی نظر آتی ہے اور اس کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے

