ناگزیر تشکیل نو
وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی جاتی ہے۔ سوات میں سکول کی گاڑی پر فائرنگ ہوتی ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اور پھر سیکورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی جاتی ہے۔
کرم ایجنسی میں سات اساتذہ شہید کر دیے جاتے ہیں۔ یوں ایک بار پھر لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اور سکیورٹی اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی ہے۔
اسی طرح جب سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ تو لوگ پھر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ اور ایک بار پھر سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی جاتی ہے۔
یہ حال ہی کے وہ چند واقعات ہیں جن کے نتائج میں ہمارے سیکورٹی اداروں کے خلاف ہمارے ہی عوام نے نفرت بھرے نعرے بلند کیے ۔ ان نعروں میں پاکستان کے سیکورٹی اداروں کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ پاک فوج کے جرنیلوں کو برا بھلا کہا گیا۔ جس طرح سابق وزیراعظم عمران خان اپنے اوپر ہوئے حملے میں چند جرنیلوں کے نام لے کر ان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں بالکل اسی طرح وزیرستان، سوات اور کرم ایجنسی میں ہونے والے حادثات میں جرنیلوں کو ہی ان حملوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ادارے جو ہمارے یعنی پاکستان کے شہریوں کے محافظ سمجھے جاتے تھے آج ان کو ہی خطرہ کیوں تصور کیا جاتا ہے۔
9 اور 10 تاریخ کو جو کچھ ہوا یہ سب ہمارے سامنے ہے۔ اس سب کے بعد جہاں سماج کی تشکیل نو کی ضرورت ہے وہی پر اداروں کی تشکیل نو بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ ان واقعات میں عوام نے ہمارے اداروں کے خلاف جس نفرت کا مظاہرہ کیا اس کی وجوہات تلاش کرنی چاہیں۔
آخر ہمارے عوام کے دلوں میں ہمارے فوج اور پولیس کے اداروں کے خلاف اتنی نفرت کہاں سے پیدا ہوئی؟
پاکستان کے عوام کیوں اپنے اداروں کو ہر جرم اور بد امنی کے سزاوار ٹھہراتے ہیں؟
ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی عوام ان اداروں کی قربانیوں کو پس پشت ڈال کر ان کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں؟
میرے خیال میں ایک دوسرے پر ان واقعات کا الزام لگانے سے بہتر ہے کہ ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانکے اور سب اس نظام کی ساخت میں غلطیوں کی تصحیح کریں!


