کیمبرج کی دوست ماحول مسجد


انگلستان کا شہر کیمبرج لندن سے پچاس میل دور جانب شمال واقع ہے۔ یہ ایک تاریخی پس منظر کا حامل شہر ہے۔ جو رومن اور وائکنگ دور میں ایک تجارتی مرکز تھا۔ اس کی کھدائی کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں انسانی آبادی کے نشان بارہ سو تا تین ہزار سال قبل مسیح کے دور سے ملتے ہیں۔ یہ شہر بارہویں صدی سے دنیا کے نقشے پر اپنی موجودگی کو ظاہر کر رہا ہے۔ جدید دور میں اس کی وجہ شہرت اس کی تیرہویں صدی کے ابتدائی دور کی درس گاہ ”کیمبرج“ اور اس کے قدرتی حسن سے مالا مال لہلہاتے سبزہ زار کھیت اور یہاں کی پرانی عمارات کی تعمیرات ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ شہر سیاحوں اور طالب علموں دونوں کے لئے یکساں دلچسپی کا باعث ہے۔

س کی کیمبرج درس گاہ دنیا کی مشہور درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کی لائبریریاں، پرانی دستاویزات، کتب اور مسودات تحقیق دانوں کی دلچسپی کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کے دانشوروں نے دنیا میں سب سے زیادہ نوبل انعام جیتے ہیں۔

اس شہر کہ وجہ شہرت اب ماڈرن اسلامی مسجد کی تعمیر سے بھی ہو رہی ہے۔ یورپ میں سب سے پہلے ایکو۔ دوست گرین، ماحول دوست مسجد تعمیر کرنے کا اعزاز کیمبرج شہر کو جاتا ہے ۔ جہاں ایک آرکیٹیکچرل جامع مسجد ”التوحید“ 23 ملین پاؤنڈز کی لاگت سے تعمیر ہوئی۔ اس میں ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس کا مین ہال لکڑی کے سولہ ستونوں پر کھڑا ہے جو اہل تشیع کے بارہ اماموں اور اہل سنت کے چار مذاہب کو پیش کرتا ہے۔ جس سے اسلام کے مذہبی بھائی چارے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

قرآن میں جنت کے باغات کے ذکر کو مد نظر رکھتے ہوئے مسجد کے سامنے بڑے گیٹ اور اس کے دروازوں کے درمیان خوبصورت باغیچہ و فوارہ بنایا گیا ہے جو مسجد کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے ہوئے ہے۔ شہر کی تعمیراتی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے چھوٹی اینٹوں کا استعمال نہایت ہی ذہانت اور خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ مسجد کو دوست ماحول بنانے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے ۔ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنا دیا جاتا ہے۔

قدرتی روشنی کے بندوبست کے لئے اس میں اعلی درجے کے سولر پینلز کا استعمال بڑی مہارت کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں فانوسوں کے ساتھ کچھ اس طرح منسلک کیا گیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس مسجد کو آرکیٹیکچر کا اعلی عالمی اعزاز بھی حاصل ہو چکا ہے۔ دنیا میں کھانے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی معاشرے پر بھی پڑا ہے جس سے مسلمان و غیر مسلمان سب متاثر ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مسجد کی انتظامیہ نے مقامی اسلامی چیریٹی کے تعاون سے خوراک کے پیکٹس بنا کر رضا کارانہ طور تقسیم کرنے شروع کیے اس کے علاوہ مسجد کے گرم کمروں کو سردیوں میں لوگوں کے لئے کھول دیا گیا تا کہ وہ سردی سے بچاؤ حاصل کر سکیں۔

اسی کے ساتھ ان لوگوں کے لئے مفت چائے و کافی کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ جو بھی مسجد کی سیر کو آتا ہے اسے اور اس کے ساتھیوں کو یہ مشروبات مفت دیے جاتے ہیں۔ لوگوں کو اسلام بارے لیکچر کا انتظام، پیغمبر اسلام کی زندگی کے سنہری اصولوں پر مبنی معلومات، دوست ماحول کھانے پکانے بارے معلومات، عورتوں، بچوں و نوجوانوں بارے پروگرام اور بچوں و نوجوانوں کے لئے قرآنی تعلیمات پروگرامز بھی شامل ہیں۔

رائے شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد اس شہر میں چھ ہزار ہے جن میں سب سے زیادہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری، اس کے علاوہ مشرق وسطٰی، ترکیہ، نائجیریا، پاکستانی اور ایرانی نژاد برطانوی باشندے بھی ہیں۔ جن میں دس فیصد باشندے مقامی گوری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنھیں اسلام کی دولت نصیب ہوئی۔ کیمبرج کی مسجد مسلمان کمیونٹی کے لئے ایک نمونہ ہے کہ کس طرح مسجد کو غیر مسلم ماحول میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے لوگ جوق در جوق یہاں کی سیر کرتے ہیں اور اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

مسجد میں مسلمان اپنے بچوں کے نکاح سر انجام دیتے ہیں۔ گزشتہ سال ایک سو چالیس غیر مسلموں نے یہاں اسلام قبول کیا۔ مسجد ایک ایسا گہوارہ ہے جہاں طمانیت و راحت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ہم اسلام کے سچے داعی کہلاتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں اسلام کے سنہری اصولوں کو نبی اکرم ﷺ کے طور طریقوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا اور بطور نمونہ دنیا کے سامنے اپنے کو پیش کرنا ہو گا۔ جس طرح مقامی کمیونٹی کو کیمبرج کی مسجد نماز، تعلیم، نماز جنازہ، نکاح کے علاوہ غیر مسلموں، عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کو مدعو کرتی ہے اور ان کے لئے مختلف پروگرامز منعقد کرتی ہے۔ یہ دوسری مساجد کے لئے مثال ہے۔ اس سے نہ صرف بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے بلکہ نوجوان نسل بھی مسجد کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔

 

Facebook Comments HS