اقتدار اور پیسے کی ہوس


لالچ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ کی خواہش کا احساس ہے، لہذا یہ آپ کو ہمیشہ غیر مطمئن اور دکھی رکھتا ہے۔ لالچ کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات لالچ، مایوسی اور عدم اطمینان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن بیشتر اوقات لالچ کی بنیادی وجہ موقع پرستی ہے۔ کبھی کبھی حالات و واقعات اور معاشرے کے غیر مساوی رویے، لالچ اور چوری کو زندگی گزارنے کا واحد راستہ بنا دیتے ہیں۔ عموماً ہمیں زندگی کی اس ٹریڈ مل پر دھکیل دیا جاتا ہے جو پہلے ہی تیزی سے چل رہی ہے اور پھر ہم سے جلد از جلد اس تیز رفتاری تک پہنچنے کی توقع کی جاتی ہے، نتیجتاً زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی لت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی طور پر بہتر بننے کے لیے ہر شخص کو ہمیشہ دوسروں سے زیادہ کی خواہش رہتی ہے اور قناعت پسندی کو ایک فرسودہ سوچ سمجھا جانے لگا ہے۔

جب ہم ہوش سنبھالتے ہیں، تو ہم اپنی زندگی میں ”مزید“ کی ضرورت کا ترجمہ سیکھتے ہیں۔ ہمیں اپنی پلیٹ میں گوشت کا سب سے بڑا ٹکڑا چاہیے، ہماری آنکھ تندور کی سب سے بڑی روٹی کا پیچھا کرتی ہے۔ ہم سب سے بڑی کار اور گھر چاہتے ہیں۔ ہم ہمیشہ مہنگے ریستوران میں سب سے مہنگے کھانے کی ادائیگی کے لیے سب سے زیادہ معاوضہ والی نوکریوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اشرافیہ ہونے کا تاثر دے سکیں اور پھر یہ فہرست آگے ہی بڑھتی رہتی ہے۔

لالچ کا غلبہ رکھنے والا شخص اکثر اس نقصان کو نظر انداز کر دیتا ہے جو اس کے لالچ کی وجہ سے دوسروں کو پہنچتا ہے۔ حسد اور لالچ جڑواں بچوں کی طرح ہیں۔ لالچ زیادہ سے زیادہ چیزوں (جیسے دولت اور طاقت) کی شدید خواہش ہے، جبکہ حسد ایک قدم بڑھ کر ہے اور اس میں دوسروں کے مال کا حصول بھی خواہشات کا حصہ بن جاتا ہے۔

بحیثیت پاکستانی ہمارے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں لالچ اور حسد کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

اگر ہم تاریخی تناظر میں تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ (خصوصاً فوجی اور سیاسی اشرافیہ) نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کو ایک استحصالی کارخانے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں عام لوگ یا تو اپنی بقا کے لیے محنت مزدوری کرتے کرتے پوری زندگی بتا دیتے ہیں یا تمام عمر کسی نہ کسی فرار کی تلاش میں رہتے ہیں چاہے وہ ملک سے فرار ہو یا اپنی اخلاقیات سے فرار ہو۔ موجودہ حالات میں بھی یہ اشرافیہ ملک میں جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ کرنے اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

پاکستان کا غیر ملکی امداد پر انحصار بھی ملکی معیشت اور سیاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ غیر ملکی امداد کے مثبت اقتصادی اور سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے، امداد دینے والے ممالک اکثر امداد کے وعدے (یا امداد روکنے کی دھمکیاں ) استعمال کرتے ہیں تاکہ ملک پر بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے ترجیحی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کو اپنانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

اگر ہم عالمی سطح پر جائزہ لیں تو کچھ ممالک ترقی کی دوڑ میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں مثال کے طور پر امریکہ، کیونکہ اس کے باشندوں نے اقتدار پر قابض اشرافیہ کا تختہ الٹ دیا اور اپنی پسند کا ایک معاشرہ تشکیل دیا اور اسی وجہ سے وہ ایسی فضا کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے جہاں شہریوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کو منصفانہ پیمانے پر تقسیم کیا گیا ہے۔ جہاں حکومت ہر شہری کو جوابدہ اور ذمہ دار ہے۔ اسی طرح جاپان، بوٹسوانا اور برازیل جیسے ممالک نے جو بنیادی تبدیلی اپنائی وہ سیاسی نظام کی تبدیلی تھی جس نے ان ممالک کو اقتصادی طور پر مستحکم بنا دیا۔

پاکستان میں ذہین اور محنتی لوگوں کی کثرت ہونے کے باوجود، ملک جاگیردارانہ نظام اور، کرپٹ سیاسی یا ملٹری اشرافیہ کی گرفت میں ہے جن کو صرف اور صرف اپنی مراعات سے غرض ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے باقی تمام مسائل غیر اہم ہیں۔ تقریباً دس ملین سمندر پار پاکستانی سالانہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ پاکستان بھیجتے ہیں اور وہ کرپٹ اشرافیہ کے اس خودغرض اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف نوجوان نسل ملکی حالات اور معاشی مسائل سے دلبرداشتہ ہیں اور ملک سے فرار چاہتے ہیں۔

لیکن کیا ان تمام مسائل کا ذمہ دار ہمارا ذاتی لالچ اور خود غرضی بھی نہیں؟

طاقت کے لالچ کی ایک موزوں ترین مثال یہ ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں انفرادی سطح پر ہم قانون کی بالادستی کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن جب قانون پر عمل کرنے کا وقت آئے تو ٹریفک سگنل کی پابندی بھی ہم پر گراں گزرتی ہے۔ ہمارا ذاتی مفاد ہمارے لیے سب سے مقدم ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہر شہری کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کے کسی بھی فیصلے کے تناظر میں وہ بالکل غیر اہم ہیں۔ ایک تلخ لیکن سچا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کے دوران ہم نے اپنے موبائل اور ٹیوی سکرین پر جو کچھ دیکھا وہ بہت ہولناک ہے، ہر فرد چاہے وہ پولیس والا ہو، عام گھریلو خاتون ہو، نوجوان طالب علم ہو، سیاسی کارکن ہو یا پاکستان کا کوئی بھی عام شہری ہو، جب تھوڑی سی طاقت بھی حاصل کرتا ہے تو وہ سفاک اور خود غرض ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد کا ایسا ردعمل دیکھا جو اخلاقی اقدار سے مکمل طور پر عاری تھا۔ یہی وہ ہجوم کا رویہ ہے جو بلاسفیمی کے نام پر کسی کو قتل بھی کر سکتا ہے کچھ لوگ اس رویے کا یہ کہہ کر دفاع کر رہے ہیں کہ یہ رویہ نفرت اور مایوسی کا نتیجہ ہے۔ لیکن کیا یہ رویہ قابل جواز ہے؟

ہم بحیثیت قوم فرسودہ، یا مکمل طور پر ناکارہ تصورات کو اپنے پسندیدہ فیشن کے طور پر قبول کرتے ہیں بشرطیکہ یہ تصورات طاقتور لوگوں کے ہوں، خواہ ان طاقتور لوگوں کو یہ طاقت غیر قانونی طریقوں سے حاصل ہوئی ہو خواہ وہ اخلاقی کرپٹ سیاستدان ہو، انتخابی نتائج پر غلبہ پانے والا فوجی آمر ہو یا منشیات استعمال کرنے والا مقبول کھلاڑی۔

اب اگر ہم حالیہ سیاسی ہنگاموں میں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں ہجومی ذہنیت کے مناظر کو دیکھیں تو یہ سب نفرت اور مایوسی سے بھرپور تھے۔ یہ سب انتہا پسندی کا نتیجہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں کے ذہنوں میں پیوست ہو چکی ہے۔ ہم نے لوگوں کو سرکاری عمارتوں کو آگ لگاتے، کور کمانڈر ہاؤس میں توڑ پھوڑ کرتے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچاتے دیکھا۔

ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟

معاشی تباہی، سیاسی عدم استحکام اور بیڈ گورننس کو روکنے کا کوئی جلد یا فوری حل تو نظر نہیں آ رہا لیکن درست سمت کا تعین تبھی ممکن ہے جب ملک کے اشرافیہ کی سوچ اور کنٹرول میں تبدیلی آئے گی۔ ریاستی قیادت کو اپنی مراعات یافتہ حیثیت کے تحفظ پر توجہ دینے کے بجائے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے سے نکالنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کرنے ہوں گے۔

عسکری قیادت کو آئین کا پاسداری کرنی ہو گی اور پارلیمان کو مکمل خودمختاری کے ساتھ قیادت کا اختیار دینا ہو گا۔ اور سیاسی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرنا ہو گا۔

ریاست کو بدعنوانی اور اقربا پروری کے خاتمے اور گڈ گورننس، قانون کی حکمرانی، میرٹ کی پاسداری اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر، اگر پاکستان ملکی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں ایک ناکام ریاست بن جاتا ہے تو اقتدار پر قابض سیاسی و عسکری اشرافیہ ہی ذمہ دار ہو گی اور پبلک اپنی عدالت لگا کر ان کا احتساب کرے گی اور سزا کا تعین کرے گی۔

Facebook Comments HS