طوق و دار کا موسم


How do you do؟ How are you؟ Good to see you۔ Have a nice day۔ What ’s going on؟ Wish you good luck۔ یہ چند وہ کلاسیک جملے ہیں جو انگریز صدیوں سے ایک دوسرے سے ملاقاتوں میں بولتے آئے ہیں۔ انگریز سے آزادی حاصل کر لینے کے باوجود ہم ابھی تک یہ جزوی جملے کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہماری اردو میں بھی ایسے بہت سے خوشگوار جملے گفتگو اور ملاقاتوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس بات سے سبھی واقف ہیں اور یہ ہماری اخلاقی بنیادی تربیت بھی ہے۔

لیکن ہمارے مؤدب چیف جسٹس صاحب کا یہ جملہ ”آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی“ پوری کی پوری پی ڈی ایم کو تیر کی طرح اتنی زور سے لگا کہ سینے میں جلن نے آنکھوں میں نفرت کے شعلے اور لہجے میں وہ طوفان بپا کیا کہ جناب مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے ڈنڈا بردار جتھوں کی بارات لے کر چیف جسٹس کی رخصتی کروانے پہنچ گئے۔ مریم بھی دل کی بات ہونٹوں میں دبائے ہوئے کنٹینر پر پہنچ گئیں اور لگیں للکارنے کہ پاکستان کی بہتری اور تباہی کا فیصلہ اس سفید عمارت سے نکلتا ہے۔

الیکشن ضرور ہوں گے لیکن تمہارے جانے کے بعد ہوں گے۔ تم گھر جاؤ تنخواہیں اور مراعات واپس کرو اور استعفیٰ دو۔ سہولت کاری بند کرو۔ یعنی وہی پرانی باپ کی۔ نہیں نہیں پاپ کی روش۔ موصوفہ کو ملزم اور مجرم کا فرق تو معلوم ہی ہو گا۔ ایک طرف سپریم کورٹ پر چڑھائی سے توہین عدالت ہو رہی تھی تو دوسری طرف پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے عزت مآب چیف جسٹس کے عہدے کی دھجیاں اڑا دیں۔

احسن اقبال نے بھی توپوں کا رخ چیف جسٹس صاحب کی طرف موڑ دیا۔ اس طرح کے تمام حکومتی حربے اتحادی حکومت کی بد نیتی کو برملا ظاہر کرتے ہیں۔ اتحادی اور نون لیگ کے رہنما تو اب سفید جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ان کا اپنا ہی مقولہ موت کی وادی میں اتر گیا۔ بار بار ون مین شو کہنا عدلیہ کو خوار کرنا ہے۔ آزاد عدلیہ کی اصطلاح کی آخر تعریف کیا ہے؟ کوئی تو پارلیمان کا ممبر بتائے۔ دوسری طرف حکومتی دھرنے کے خیمے کی رسیاں مکمل طور پر فضل الرحمٰن کے ہاتھ میں اور تعاون کے حکومتی ہاتھ ان کے سر پر ہیں۔

رجیم چینج کے بعد سے اتحادی حکومت نے جب ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی ہے ان کا فوکس صرف اور صرف عمران خان ہے۔ ہر گز انہیں فکر نہیں کہ عوام کو کس طرح متحد کر کے ملک کے اندرونی و بیرونی مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔ کوئی جامع اور واضح منصوبہ ان کے پاس نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کو تو شاید نظریہ حیات یعنی اسلام کے بارے میں بھی علم نہیں ہے کہ پاکستان کے لیے کیوں جدوجہد کی گئی۔ آئین بناتے وقت جمہوریت کو بنیاد کیوں بنایا گیا۔

مگر نہ تو کہیں اسلام ہے اور نہ ہی جمہوریت۔ جو مبہم اور فرسودہ نعرے لگتے رہے وہ اب خطر ناک ثابت ہو چکے۔ عوام اب ان کے چہروں سے اکتا چکے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو توڑ پھوڑ اور تشدد ملک کی املاک پر ہوا اس پر پوری قوم نہ صرف آزردہ بلکہ اس کی مذمت کرتی ہے۔ ہمارے عوام دل و جان سے ملک کی ترقی کے خواں ہے۔ عوام محنتی، جفاکش اور مصائب کا مقابلہ ہنسی خوشی سے کرتے ہیں۔ یہ اس دین کے داعی ہیں جو اتحاد اور اخوت کا سبق پڑھاتا ہے۔

لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ استحکام قائم ہو اور استحکام عدل کے بغیر نہیں ملے گا۔ سیاسی تناؤ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ آج پوری کی پوری پی ڈی ایم کو چیف جسٹس کا ایک جملہ ”گڈ ٹو سی یو“ تو بہت زیادہ برا لگا مگر جب جج صاحب نے میاں صاحب کو بیماری ٹھیک کرنے کے لیے باہر جانے کی اجازت دی تو تب بہت اچھا تھا۔ جب عمران خان کو عدالت کے احاطے سے غیر انسانی طریقے سے گھسیٹا اور اٹھایا گیا تب مولانا اور خواجہ دونوں نے کوئی مذمت نہ کی۔

لاہور کور کمانڈر ہاؤس اور پشاور ریڈیو سٹیشن جلانے والے تمام لوگوں کو سخت سزائیں دینی چاہئیں۔ وہ چہرے تو شناخت کیے جا چکے ہیں اور اخبار میں روز ان تصویریں بھی شائع ہو رہی ہیں۔ بلاول زرداری بھی بہت بڑھکیں مار رہے ہیں کہ صدر زرداری کو جیل میں رکھا ان کی زبان کاٹی گئی ان پر تشدد کیا گیا لیکن ہم نے کچھ توڑ پھوڑ نہیں کی۔ یہ سب بتاتے ہوئے وہ کیسے بھول گئے کہ جنہوں نے ان کے باپ کی زبان کاٹی تھی وہ ان ہی کی گود میں تشریف فرما ہیں۔

اس وقت پاکستان کی سیاسی بے اعتنائیاں وقت کے تقاضوں کے مطابق بدل رہی ہیں۔ لیکن یہ ملک جو قربانیوں سے حاصل ہوا اس کی بنیادی ترکیب جسے سب سیاست باز جمہوریت کا نام دیتے ہیں اسے شاید اب چھیننے کی تحریک کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ عوام کی نگاہوں میں اور دل کے نہاں خانوں میں چاک ہوئے گلاب اب انصاف اور جمہوریت کی انگلیوں میں تھامے قلم سے اپنی تقدیر کا فیصلہ مانگتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے نازک موڑ، نازک موڑ سنتے آ رہے ہیں مگر اب ابتری دیکھ کر وحشت ہونے لگی ہے۔

وہ تمام ملک دشمن لوگ جنہوں نے دونوں میں تباہی مچا دی حساس جگہوں کو نشانہ بنایا ان کو سزا دی جانی چاہیے۔ ہم آج بھی اپنی پاک فوج کے ان سپاہیوں اور آفیسرز کی دل سے تکریم کرتے ہیں جو سرحدوں اور ملک کے اندر اپنے وطن کی حفاظت میں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ مگر نون لیگ کی نام نہاد جمہوریت کے نعروں اور عدلیہ مخالفت تحریکوں نے سیاست کے رہے سہے اصولوں کو بھی گندا کر کے رکھ دیا۔ اب تو یوں لگتا ہے فیضؔ صاحب دست صبا میں آج ہی کے حالات کے بارے میں پیشن گئی کی تھی:

یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم

Facebook Comments HS