نوحۂ فلسطین

فلسطین میں حال ہی ایک مختصر جنگ ہوئی جو پانچ روز جاری رہنے کے بعد ایک جنگ بندی کے معاہدے پہ منتج ہوئی۔ جنگ میں اسلامی جہاد تنظیم اور اسرائیلی فوج مدمقابل تھیں اور دونوں فریقین اپنی فتح کا اعلان کر رہے ہیں مگر واضح شکست اور فتح کا حتمی فیصلہ ابھی کیا نہیں جاسکتا۔ فلسطین کا مسئلہ ٔ کوئی نئی بات تو ہے نہیں یہ تو 75 سالہ المیہ ہے جس کی حدت و شدت قرب و جوار میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں بے آسرا فلسطینیوں نے اس ناکبہ کی یاد منائی اور اس موقع پہ ایک نہایت اہم تحقیق کا اہتمام کیا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطینی لوگ اپنی حکومت سمیت کسی پہ اعتبار نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ یقین ہے کہ ان کے نمائندے اس قابل نہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس جنگ کی بنیاد تو اسرائیلی حکومت کی اپنی اتحادی حکومت ہے جس میں اکثریت وہ دائیں بازو کے انتہاپسند ہیں جو فلسطینوں کو ان کے حقوق دینا تو درکنار انہیں وہ انسان ہی نہیں سمجھتے۔
نیتن یاہو کی موجودہ حکومت ایک خفیف دھاگے سے جڑی ہوئی ہے جو کسی بھی صورت دھڑام ہو سکتی ہے۔ انتہا پسند وزیر اعتمار بین گاویر تو فلسطینیوں کا جانی دشمن ہے وہ نیتن یاہو کو کھلے عام دھمکیاں دیتا ہے کہ اگر کوئی عدالتی اصلاحات کی گئیں اور فلسطینوں کے ساتھ کوئی امن معاہدے کیا گیا تو وہ حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔ اسی لئے اسرائیلی عوام کئی ہفتوں تک سڑکوں پہ احتجاج کناں رہے کہ حکومت کسی طرح بچ جائے مگر ایسا نہ ہوا اور بالآخر نہتے فلسطینیوں کے خلاف یہ پانچ روزہ جنگ مسلط کردی گئی۔
شکر ہے اس میں بہت زیادہ جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر اس سے اسرائیلی امیدوں پہ گہری چوٹ لگی ہے۔ اسلامی جہاد ایک نسبتاً چھوٹی تنظیم ہے جو فلسطینی حقوق کے برسر پیکار ہے اور اس کی پیشبانی ایران کرتا آ رہا ہے۔ ان کے پاس جو راکٹ سازی کی تربیت وغیرہ بھی ایرانی درآمدہ ہے۔ اس جنگ بندی کا سہرا مصری صلح کاروں کے مرہون منت ہے کیونکہ جب اسلامی جہاد نے راکٹ برسانا شروع کیے تو اسرائیلی حکومت نے صلح بندی کی پیشکش کی مگر کامیابی تب ہی ہوئی جب پانچ روزہ جھڑپوں میں شدت آنا شروع ہوگی اور مصریوں نے پھر جنگ بندی کی کوشش کی۔
نڈر جنگجوؤں نے اسرائیلی ہوائی برتری اور جنگی صلاحیتوں کو مٹی میں ملا کر اس کی نخوت و جبروت کو گہرا زخم لگا دیا ہے اور یوں وہ منہ دکھانے کے قابل نہ رہا۔ اس جنگ میں نقصان اگرچہ غزہ کے مکینوں کو بھی ہوا مگر اسرائیل کو بھی شدید نقصانات ہوئے جس طرح غزہ کے ملحقہ علاقوں سے ہزارہا پناہ گزین لوگ محفوظ مقامات پہ منتقل کرنا پڑے، تل ابیب کا ائرپورٹ بند کرنا پڑا جس سے سیاحت کو شدید ضربات لگیں۔ اسرائیل کے پاس دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ موجود ہے اور اسی زھم میں وہ مبتلا ہو کر ہر تھوڑے عرصے بعد وہ جذبۂ حریت کچلنے کے لئے مچلتا رہتا ہے مگر اب تک اسے اپنے خواب کی تعبیر نہیں مل سکی۔
ہر نومولود فلسطین میں پیدائش کے ساتھ ہی اسی جذبہ اور ولولۂ نو سے سرشار نظر آتا ہے۔ قربانیوں کا ایک طویل اور کٹھن سفر انہیں درپیش ہے۔ وہ اپنے زور بازو اور جذبۂ ایمانی سے سرشار لیس ہو کر اپنی آزادی کی خاطر برسرپیکار ہو جاتے ہیں اور یوں ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد میں مشغول ہیں۔ انہیں اپنی نام نہاد حکومتی کاوشوں پہ بھی کوئی بھروسا نہیں۔ غزہ کا سب سے طاقتور گروہ ہماس ہے مگر اس کے سیاسی ونگ نے اسرائیلی حکومت سے کئی ایک معاہدات بھی کر رہے ہیں جس کے تحت فلسطینی ورکرز تل ابیب میں جاکر کام روزگار کر سکتے ہیں جو ان کی مالی و معاشی مشکلات کم کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
اسرائیل کو سمجھ آ گئی ہے کہ اگر کسی دن غزہ کے سرفروشوں کے ساتھ شام اور لبنان کے لوگ مل کر بیک وقت کوئی راکٹ اٹیک کریں گے تو پھر اس کی مکمل تباہی کو کوئی بھی روک نہ سکے گا۔ فلسطینی نوجوانوں نے اپنے معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لئے ہیں اب وہ نہ تو کسی غیر ملکی آسروں کی تلاش میں ہیں اور نہ اپنی بے حس حکومت کو اس قابل سمجھتے ہیں۔ نہایت ذہین و فطین، جدت پسند اور نڈر غیور فلسطینی عوام اب اسرائیل کے ساتھ خود سب کچھ سلجھانے کی جستجو میں مشغول ہیں۔
اسرائیلی حکومت چاہے وہ دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی کسی پہ امن معاہدے اور پائدار جنگ بندی کی انہیں امید نہیں نیز وہ اغیار مثلاً عرب ممالک و امریکی حکومت سے بھی کوئی امید نہیں البتہ چینی حکومت پہ 80 فیصد لوگوں کو اعتبار ہے کہ وہ کوئی جامع اور قابل عمل امن معاہدہ کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آزادی اور خودمختاری کی تمنا ان کے لہو میں شامل ہے اور شہادتوں کی بارات سجا کر وہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ سنگ و خشت سے وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے اس کے برعکس عدو اپنی عددی و عسکری قوت و جبروت کے باوجود ان کے جذبات کا سامنا نہیں کر سکتا کیونکہ جو آشیانہ شاخ نازک پہ بنے گا وہ ناپائدار ہو گا۔
یہ خونریزی کب تک جاری رہے گی اس کا ادراک کرنا خاصا دشوار ہے۔ مگر امید کا دامن چھوڑنا بھی مناسب نہیں۔ اللہ کرے فلسطینیوں کو بھی جلد آزادیٔ دوام مل جائے۔

