حرف نامہ کبوتر بازی
گزشتہ چند دنوں سے ایک کبوتر گھر کی منڈیر پر بے خودی سی کیفیت میں آتا ہے اور حسب طاقت فرش پر ٹھونگے مار مار کر اڑ جاتا ہے۔ کل دوپہر کے تین بجے بھی وہ سخت لو میں منڈیر پر بے خود بن کر بیٹھ گیا۔ شاید سستانے کی خاطر یا پھر کچھ کھانے کی خاطر۔ لیکن آج نہ جانے کیا ہوا کہ وہ خوب صورت پروں کو فرش پہ بکھیرے، گردن چھوڑے بے دم ہو کر سو رہا تھا۔ بے ہوشی کی حالت تو ہر دن اس پہ طاری رہتی تھی مگر شاید آج کھانے پینے کو کچھ نہ ملا ہو۔ اس تمہید سے آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کبوتر ویسے ہی فرش پر ٹھونگے مارتا رہا ہو گا اور اپنی محرومی قسمت پہ روتا ہوا دنیا سے ہی اڑان بھر گیا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ غش پہ غش اس لیے کھا رہا تھا کہ کبوتر کے مالکان (جن میں چند بچے ہیں، جوان ہیں یا پھر نیم بوڑھے ) سخت گرمیوں میں ایماں کی حرارت کو لات مار کبوتر بازی کرتے ہیں اور اس بے ضرر سے پرندے کو نشے کی گولیاں کھلاتے ہیں تا کہ یہ تیز رفتاری کے ساتھ آسمان کی بلندیوں پہ جاکر باقی حریف کبوتروں سے مقابلہ جیت جائے۔ اس کبوتر بازی کے آسمانی کھیل میں کبوتر نہ تو ہارتے نہ جیتتے ہیں بس اس کبوتر کا مالک جیت جاتا ہے جو بدحواسی کی گولیاں خوراک سمجھ کر نگل لیتا ہے اور پروں کو پھڑپھڑاتا، تھرتھراتا اور سٹپٹاتا فضائی حدود پار کر کے گم ہوجاتا ہے۔
اب باری آتی ہے جیتنے والے کے انعام کی۔ یا تو وہ پیسے لے یا بدلے میں حریف کا سب سے بلند اڑان بھرنے والا کبوتر ہتھیا لے۔ یوں کبوتر کبوتر کا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ آسمان میں اڑتے کبوتر کی کیفیت خدا جانے لیکن زمین پر موجود حریف اور ان کے حامی اپنے کبوتروں پر نظریں گاڑھے گردنیں تانے آسمان سے کامیابی کی بھیک مانگتے ہیں۔ اس دوران اگر دھکم پیل کی نوبت آئی تو کچھ دیر کے لیے کبوتر بازی کو بھول بھال کر چوتھی عالمی جنگ شروع کر دیتے ہیں۔
اس جنگ میں شکر ہے کہ صرف زبان ہی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار ہے۔ اگر ان قابل اعتراض لفظوں کی جنگ کی خبر حریفوں کے بڑے بزرگوں تک پہنچی اور زبان کی تیکھی تلوار کا ضرب کسی بزرگ یا گھر کی عورتوں تک پڑ جائے تو الفاظ ایک طرف ہو جاتے ہیں اور ہتھیار کی نالیاں چنگھاڑنے لگ جاتی ہیں۔ پھر رہے نام اللہ کا۔
یاد رہے کہ کبوتر ان سب ہنگاموں سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں کہ آسمان کی سیر کو نکلنے کے بعد زمین پر کیا بیتی ہے۔
دیوانہ وار دونوں کبوتر حسب بے خودی جتنی اڑان بھر سکتے ہیں بھر لیتے ہیں۔ واپسی کے سفر میں جو بھی بے ہوشی میں زیادہ عقل سے پیدل ہوجاتا ہے تو وہ اپنا گھر، مالک اور منڈیر بھول جاتا ہے۔ ٹھکانا ڈھونڈنے کے چکر میں ایک بار پھر اسے آوارہ پھرنا پڑتا ہے یا پھر کسی بھی گھر کی منڈیر پہ جاکر پانی اور خوراک کی حسرت اور امید لیے بیٹھ جاتا ہے۔ دستور تو یہ ہے کہ کھیل کوئی بھی ہو کھلاڑی کے لیے جو خوراک مختص کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر اسے دیا جاتا ہے تا کہ اگلی باری میں مزید طاقت کے ساتھ میدان میں اترے لیکن کبوتر کی یہ قسمت کہاں!
وہ تو بیچارا اپنا کبوتر خانہ بھی کھو دیتا ہے۔ غیر کی منڈیر پہ کبوتر کا بیٹھنا عاشق صادق کے لیے موت کے برابر ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ خود کبوتر پر کیا بیتے گی جب مالک بھی بھول بھال جائے اور خود کبوتر کی چھتری بھی اس سے آنکھیں چرا لے۔ صبح سے آوارہ، سرگرداں آب و دانے سے محروم کبوتر کو اب دو پہر کی لو ستانے لگتی ہے۔ حلق خشک، آنکھیں نم، پر نڈھال، تھرتھراتے زخمی پیر۔ بے بسی کے اس عالم میں سورج کی گرمی ظالم سماج اور ستم گر معشوقہ بن کر مزید مصائب ڈھاتا ہے اور بالآخر غالب کے اس شعر
؎ دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پر کہ پتھر نہیں ہوں میں
کو کبوتر جلا بخش کر اپنے خوبصورت نرم و ملائم جسم کو پتھر بنا کر غیر کی منڈیر پہ دم دے دیتا ہے۔ اب قمست کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے۔ آسمان سے مقابلہ جیتنے کے باوجود بھی جاتے جاتے نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ کا نعرہ لگاتے ہوئے بے چارہ کبوتر تپتی زمین کو سرہانا بنا کر گردن چھوڑ دیتا ہے۔
اب خدا کی عدالت تو جب کی تب لگے، انسانوں میں موجود کوئی عدل پسند مومن کیوں نہ کسی انصاف پسند منصف کی عدالت میں درخواست دائر کرے کہ انسان نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کھیل کھیل میں کبوتر کی جان لے لی۔
کتنی عقل سے ماورا بات کی ہے نا میں نے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے یہاں تو آئے روز انسان چلتے پھرتے گھسیٹتے پیٹتے مارے جاتے ہیں آپ کبوتر کے مرنے پر اتنا واویلا کر رہے ہیں!
میرا جواب سن لیں۔ کبوتر بہ کبوتر، باز بہ باز، ہمارے معاشرے کی حالت بھی تو کبوتر بازی سے کچھ مختلف نہیں۔ یقین نہ آئے تو گزرے ہوئے چند دنوں پہ نظر ثانی کیجیے۔
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی


