اردو زبان ہماری پہچان


آج کل جیسا دور رواں ہے جس میں لوگ طرح طرح سے زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں اس سے قبل لوگوں کا رہن سہن ہی نہیں بلکہ معمولات زندگی بہت ہی سادہ تھی۔

لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے بھی خود کو خود اعتماد محسوس کرتے تھے۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کا اثر خاص سے خاص اور عام سے عام زندگیوں پر ہوا۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں لوگوں کے رہن سہن، بول چال اور طرز زندگی پر بہت بدلاؤ آیا جس کی مثال کچھ اس طرح سے لی جا سکتی ہے کہ ماضی میں جہاں لوگ سادہ رہنا پسند کرتے تھے سادہ کھانا اور سادہ بولنا پسند کرتے تھے یعنی وہ اس فکر سے مکمل آزاد تھے کہ اگر ہم معاشرے میں کہیں پیچھے بھی رہ جائیں پہننے اوڑھنے اور بولنے کے معاملے میں تو اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں مگر آج سب کچھ اس سوچ کے برعکس ہو رہا ہے لوگ ایک دکھاوے اور اونچے منصب کی ایسی دوڑ میں مصروف ہے کہ وہ کسی سے ایک قدم پیچھے رہنا بھی اپنی شان کی توہین سمجھتے ہیں۔

یہاں مجھے اپنے معاشرے سے ایک بڑا اختلاف ہے ہمارے گھروں میں جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے لئے یہی کہا جاتا ہے کہ انگریزی اسکول میں تعلیم حاصل کروانی ہے تاکہ انگریزی بولے اور معاشرے میں اسے پڑھا لکھا سمجھا جائے۔ آج کل اسکولوں میں اردو کا مضمون چھوڑ کر باقی ہر مضمون انگلش میں پڑھایا جا رہا ہے خواہ وہ معاشرتی علوم ہے یا اسلامیات، چاہیے پچوں کو صحیح سے سمجھ آ رہا ہے یا نہیں مگر ان کی تسکین کے لیے یہ کافی ہے جو پڑھایا جا رہا ہے وہ انگریزی زبان میں ہے۔

اس طرح اگر ہمارے معاشرے میں کوئی فرد اگر انگریزی نہیں بول پاتا تو اسے ان پڑھ اور نچلے درجے کا سمجھا جاتا ہے چاہیے بے شک اس شخص کی تعلیم بہت زیادہ ہو مگر انگریزی نہ بولنے کے سبب اس کو جاہل قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اردو بولنے والا کم پڑھا لکھا اور پرانے زمانے کا آدمی جانا جاتا ہے ۔

ان سب کی وجہ سے ہم اپنی زبان اردو کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں جتنی خوبصورتی اور نفاست اس زبان میں ہے شاید ہی کسی اور زبان میں ہو۔ اسلام ہمیں خودداری کا سبق دیتا ہے کسی اور زبان، مذہب، کلچر کے آگے زیر ہونا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ اپنی حقیقی شناخت کو محفوظ کرنا ہی ایک انسان کے لیے غیرت اور خودداری کے فضائل پیدا کرتا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو فخر سے انگلش زبان کے متعلق بتاتے ہیں مگر اردو کے متعلق ہم بتانا ضروری نہیں سمجھتے تو ہمارے بچے بھی اس معاملے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ آج کل یہ نکل رہا ہے کہ بچوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے میں مسائل کا سامنا ہے مگر وہی لاپرواہی ہمارے والدین کر رہے ہیں کہ اردو کی اگر کوئی غلطی ہے تو اسے نظر انداز کریں مگر انگلش کے اسپیلنگ درست ہونے چاہیے ہر حال میں۔

ہمیں اس چیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کوئی ملک ہو یا معاشرہ کسی غیر زبان سے ترقی یافتہ نہیں بنتا اس کی اصل کامیابی اور پہچان اس ملک کے اپنی سرکاری زبان ہے۔

کوئی امریکی، فرانسیسی یا چائنیز اپنی زبان چھوڑ کر اردو کو ترجیح نہیں دیتا اور اگر کوئی دے بھی تو صرف سیکھنے یا بولنے کی حد تک جو کے ضروری ہے اگر وہ اردو نہیں بول پاتے تو انہیں کوئی ملال نہیں ان کے کانفیڈنس میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ان کی نجی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی معاشرے میں وہ کسی کی نظر میں حقیر بن جاتے ہیں اور یہی ان کے کامیاب اور خود مختار معاشرے کی اولین ترجیح ہے۔ جبکہ ہمارے دقیانوسی اور لکیر کے فقیر جیسے معاشرے میں لوگ انگریزی نا آنے کی وجہ سے خود کو کم تر درجے کا سمجھنے لگتے ہیں۔

یہاں انگریزی کا ایک لفظ غلط بولنے پر اتنا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ جیسے معاشرے میں سب فلاسفر ہیں۔ ہمارے ہاں اصلاح کا طریقہ کار نہایت منفی ہے لوگ اصلاح کی بجائے مذاق اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے بولنے اور سیکھنے والا اپنا اعتماد کھو دیتا ہے اور خود کو حقیر جاننے لگتا ہے۔ معاشرے میں اصلاح کے طریقے کار کو بہتر بنانے کے لئے ہر انسان کو اپنا طریقہ کار بدلنا چاہیے تاکہ لوگوں میں سیکھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ معاشرے میں اردو بولنے اور انگریزی غلط بولنے پر شرمسار نہ ہوں بلکہ ان میں درستگی کا جذبہ پیدا ہو اور اپنی مادری زبان اردو سے انسیت ہو۔ تاکہ وہ آئندہ زندگی میں اس زبان کی افادیت کو سمجھ سکیں کہ جیسے درست انگریزی بولنے والا پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے ویسے ہی خالص اردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے والا معاشرے میں پرکشش، معتبر اور قابل ذکر ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ زبان ہماری پہچان کا ایک نہایت اہم ترین حصہ ہوتی ہے، اسے اگر فراموش کر دیا جائے اور پھر بعد میں یہ دعویٰ کریں کہ میں نے اپنی شناخت کو محفوظ رکھا ہوا ہے اور خود کو مطمئن کریں تو یہ بات نہایت قابل رحم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پہچان کو محفوظ رکھنے اور کمتری کا شکار ہونے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے!

Facebook Comments HS