الیکٹرک کار۔ الف لیلہ کی داستان

کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ میں بائیں طرف ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا سارے کنٹرول ڈھونڈ رہا تھا اور بیٹا دائیں نشست پہ بیٹھا مجھے سمجھا رہا تھا۔ یہ جو سٹیئرنگ کے نیچے راڈ ہے اس کے سرے پہ پش بٹن کو دبائیے۔ بس کار سٹارٹ ہو گئی۔ یہ راڈ واحد گیئر شفٹ ہے۔ کھینچ کے نیچے کریں، یہ آگے چلانے والا اور اوپر کریں تو ریورس گیئر ہے۔ بس باقی آپ نے کچھ بھی نہیں کرنا سوائے ایکسیلریٹر دبانے کے اور کبھی کبھار بریک لگانے کی بھی ضرورت پڑے گی۔ چلیں گھبرائیں نہیں۔ بس صرف دو منٹ لگیں گے ہاتھ رواں ہونے میں۔
پینتیس برس قبل بھی کچھ ایسا ہی ماحول تھا یہی بیٹا چودہ سال کا تھا۔ یہ دائیں طرف ہی ڈرائیونگ سیٹ پہ تھا اور میں ساتھ کی بائیں نشست پہ ہی تھا اور اسے کلچ دبا کے گیئر بدلنے کی، بریک لگانے کی، ہینڈ بریک کھینچنے، چھوڑنے، چابی ڈال کر سوچ گھما کر سٹارٹ کرنے اور بند کرنے کی، گیراج کے باہر کھڑی گاڑی میں مشق کرا رہا تھا اور دوسرے کنٹرول سمجھا رہا تھا کہ اس کا یہ کام ہے اور اس پہ یوں نظر رکھتے ہیں۔ نشستیں وہی دائیں بائیں والی تھیں۔
بس سکھانے والا جوان اب بڈھا کھوسٹ شاگرد تھا اور سیکھتا بچہ اب اس وقت کے اپنے باپ کی عمر کا ہو کر استاد تھا۔ نشستیں وہی ہیں کار کی، راہی بدل گئے۔ سٹیئرنگ بھی اس وقت دائیں جانب تھا اور اب بائیں۔ اس وقت میں ڈرائیونگ کا ہر عمل ہاتھ یا پاؤں سے کرنا سکھا رہا تھا اور اب بیٹا ہر عمل کے خودکار ہو جانے کی تسلی دے کر بہلا رہا تھا۔ جی ہاں، بیٹا مجھے الیکٹرک کار چلانا سکھا رہا تھا۔ ”بس ابو آپ کو بس دو منٹ جھجک ہوگی۔ چلیں۔ ویسے ہی اعتماد پیدا کرنے والے فقرے۔ اور سامنے لگی لیپ ٹاپ سائز کی سکرین پہ انگلیاں چلانا سیکھتے میں گویا الف لیلہ کی کہانیوں کے زمانے میں آ چکا تھا۔ یہ سکرین گویا عمرو عیؔار کی زنبیل تھی جس میں سب کچھ بند تھا۔
کوئی مہینہ بھر قبل جب الیکٹرک کار کی ڈیلیوری لینے گئے تھے اور وہاں مامور پاکستانی سیلز مین بتا رہا تھا کہ انکل اس میں تین سو پچاس سے زائد سینسر لگے ہیں جو سب کچھ دور سے سونگھ لیتے ہیں بلکہ ”تو جہاں کہیں بھی جائے میرا سایہ ساتھ ہو گا“ کے مصداق مرکزی کمان کے علم اور نظر میں ہو گا۔ اس لئے سب سے کم امکان اس گاڑی کے چوری ہونے کا ہے کہ چوری کی اطلاع ملتے ہی جہاں ہے وہیں گاڑی رک جائے گی۔ اور الیکٹرک کارڈ قسم کی چابی یا موبائل فون جن کی حیثیت پرانے زمانے کے دیو کی جان چھپائے طوطے کی ہی ہے۔ منجمد ہو جائیں گے۔ جیسے طوطا بے ہوش ہو گیا۔ میرے منہ سے نکلا تھا تو یہ تو کوہ قاف کا دیو ہوا جو محل میں آتے ہی آدم بو، آدم بو، کا شور مچا دیتا تھا۔ اور آج میرے ہاتھ میں پکڑا موبائل وہ طوطا تھا جس میں اس الف لیلہ کے دیو کی جان تھی۔ کار کے نزدیک آتے ہی ہر پرزہ میں جان پڑ گئی۔ کار میں داخل ہونے سے قبل دروازہ کا لاک خود ہی کھل جائے گا۔ دروازہ کھولو نشست حرکت میں آتی آپ کے جسامت کے مطابق پوزیشن میں آ چکی ہے۔ سامنے نیچے بنے چوکھٹے میں موبائل بس رکھتے ہی اس طوطے کے دل کی دھڑکن متوازن ہونا شروع ہو گئی یعنی ساتھ ساتھ چارج ہو رہا ہے۔
بیس پچیس منٹ ڈرائیو کرتے واپس پہنچ چکے تھا۔ اور میں گھر یوٹیوب پہ کار کے مینوؤل کتابچہ کی ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ مگر میری یاداشت میری توجہ ساتھ سینکڑوں سال قبل لکھی اور مشہور ہوئی کہانیاں بھی یاد دلاتی جاتی تھی۔ الف لیلہ کی کہانیوں، کوہ قاف کی پریوں کی داستانوں، شہزادی کو اٹھا لے جانے والے خطر ناک دیو سے چھڑانے نکلے شہزادے کی غار سے کے باہر کھڑے بزرگ کی ملاقات جس کے پیالہ میں وہ اپنے راستے کو دیکھتا۔ پگڈنڈیوں کی گزرگاہوں، راہ میں آنے والی چٹانوں اور ان سے بچ نکلنے کی راہوں کو تلاش کرتا ہے۔ پیچھے بھی آنکھوں والا بزرگ جن۔ انگوٹھی جو راہ کی مشکلات اور ماحول سے آگاہ کرتی ہے اور ہر مشکل کا حل اسے انگلی میں پہنے رکھنے میں ہوتا ہے۔ اب بوتل کا جن بوتل سے نکل آیا ہے۔ بس آواز دو اور حکم کی تعمیل۔ الٰہ دین کا چراغ۔ سلیمانی ٹوپی۔ اس کار میں یہی کچھ تو ہے۔
سٹاپ سائن آیا خود ہی بریک لگ کار رک گئی۔ سرخ بتی آئی کار کی بریک لگنا شروع اور مقررہ لائن پہ مؤدب کھڑی۔ سبز بتی آتے ہی ٹن کی آواز آئی، چلو بھائی چل دو۔ اگلی کار آہستہ ہوئی یہ خود آہستہ ہو گئی۔ درمیانی فاصلہ رفتار کے لحاظ سے خطرناک حد تک کم۔ یہ ساتھ بیٹھی بیگم کی طرح چیخنا شروع۔ بوتل کے جن کو آواز دیتے حکم دیا فلاں ایڈریس پہ لے چلو۔ حکم کی فوری تعمیل ہوئی سامنے نقشہ پہ لکیریں ابھر آئیں۔ اتنا فاصلہ فلاں رستہ سے اتنا وقت۔ فلاں فلاں جگہ ٹریفک جام۔ فلاں پہ رستہ صاف۔ جن کو حکم ہوا فلاں دوست کو فون ملاؤ۔ دوست فون پہ موجود۔ واہ رے میرے بوتل کے جن۔
کار پیچھے کی تو پچھلا سارا دائیں بائیں سمیت منظر سامنے سکرین پر۔ سڑک کی لین تبدیل کرنے کو اشارہ دیا تو اس طرف پیچھے سے آتی تمام گاڑیاں اور ان کے فاصلے موجود۔ پہنچے ہوئے بزرگ کا پیالہ ہے یہ تو۔ شہزادے کو بتا دیتا ہے شہزادی کہاں ہے کس طرف کتنی دور سے دوڑتی چلی آ رہی ہے۔ رات کو نواسہ شاپنگ مال سے باہر نکل کر ویڈیو پہ دکھا رہا تھا۔ اس نے موبائل پکڑا ہے تو کار پارکنگ لاٹ سے نکل خود بخود پاس آ کھڑی ہو گئی۔ اور پھر اسی کار نے ڈانس شروع کر دیا۔ ساتھ بجتے میوزک کی دھن پر جلتی بجھتی بتیاں۔ اوپر نیچے ہوتے شیشے۔ ٹائروں کے اوپر دائیں بائیں جھومتی کار۔ بغیر ڈرائیور بھی منزل پہ لے جا سکنے والی کار۔
الف لیلہ اور عمرو عیار کی زنبیل سے بڑھتے، تصور میں اڑنے والے قالین کا سفر کرتے الہ دین کے چراغ کی کارستانیاں یاد کرتے، سفید چٹان کے دیو زاد کے شہزادی کو لپٹائے سمندر میں غوطہ لگاتے ساٹھ میل پل بھر میں طے کرتے، اور اس کے ہاتھ سے اٹھا پھینکی چٹان کے گرنے والی جگہ پر ہی آ نکلنے کے دیو مالائی عجوبے اب حقیقی دنیا کی اپنے قابو میں آ چکی ایجاد بن جانا خاصی دیر ذہن میں گھومتے رہے۔ اور پھر حقائق کا ادراک شروع ہوا۔
یہ سب جو آج حضرت انسان کی انگلیوں کے اشاروں اور آواز کی لہروں اور ذرائع آمدورفت اور ٹیکنالوجی کی مہیا کردہ نت نئی سہولتیں ہمارے لئے مسخر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کا سہرا کس کے سر سجتا ہے کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔ سینکڑوں ہزاروں سال قبل جادوئی کمالات، دیو مالائی کہانیوں اور انسانی خواہشوں کی معراج کا تصور اپنے ذہن میں لا کر حضرت انسان کو پیش کر دینے والے قصہ گو اور کہانی نویسوں کو، ان تصورات کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے مظاہر قدرت کے گہرا مشاہدہ کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے ان تصورات کے حقیقت میں ڈھلنے کی راہوں کو تصور میں لاتے ان کو ممکن بنانے کی تدبیریں سوچنے والے ذہنوں کو یا ان سائنسدانوں، محققوں اور تخلیق کاروں اور تکنیک کاروں کو جنہوں نے زمین و آسمان، فضا اور سمندر کے پوشیدہ خزانوں کو نکال اپنی مہارت سے ہمارے لئے وہ کچھ بنا دیا جن سے ہم موجیں اڑاتے پھر رہے ہیں۔
شاید یہ کہانی کہانی میں وہ کچھ تصور دے جانے والے بھی کریڈٹ کے حق دار ہیں، جن تصورات کو خوابوں میں رکھتے عملی حقیقت میں ڈھالا جا چکا اور ڈھالا جا رہا ہے۔ اتنے ہی کریڈٹ کے جتنا آج کے دور کے سائنسدان اور تخلیق کار اور صناع۔ قدرت کے چھپے خزانے ڈھونڈ بنی نوع انسان کے تصرف میں لانے والے۔ یہاں بھی دونوں چہرے نظر آتے ہیں۔ بنی نوع انسان کی زندگیاں سہل بنانے والی ایجادیں کرنے والے بھی اور اسی بنی نوع انسان کو پل بھر میں بھسم کر چھوڑنے والے مہلک ہتھیار بھی۔ بھر پور چاندنی رات میں جھیل سیف الملوک میں اتر نہانے والی پریاں بھی اور لالچ، تعصب، رقابت، تسلط کے غصے میں ان پریوں پر ظلم کرنے اور گلا گھونٹ دینے والے بھی۔





