1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ (5)
اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے 23 اگست کو اس جنگ کو چھ روزہ جنگ کا نام دے دیا، جس کا ایک تاریخی تعلق انجیل مقدس سے جوڑا گیا، 22 نومبر کو اقوام متحدہ میں قرارداد 242 پیش کی گئی جس میں اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کردینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جنگ کے چھٹے روز اسرائیل نے سیز فائر پلان قبول کر لیا۔ نقصان تو ہو چکا تھا، اس جنگ نے فلسطینیوں کو دیا تو کچھ نہیں، بلکہ بہت کچھ ہمیشہ کے لئے چھین لیا۔
یہ جنگ خطرناک نتائج پر ختم ہوئی، ایک تو بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ہو گیا، عربوں کی شکست ہوئی، سوویت اثر و رسوخ کو ضرب لگی، فلسطینیوں کے کھاتے میں مزید دکھ بیت المقدس کا علاقہ جو اردن کی افواج کے کنٹرول میں تھا، اسرائیل نے فوج کے ذریعے چھین لیا، مزید غزہ اور سینائی کا علاقہ جو مصری کنٹرول میں تھا، گولان کی پہاڑیوں کو شام سے چھین لیا۔ اب اس کا رقبہ اپنے مجموعی رقبے سے تقریباً تین گناہ ہو گیا تھا، اب اسرائیل نہر سوئز کی دوسری جانب قابض تھا، مصر کی سلامتی بھی مکمل خطرے میں تھی۔
جنگ کے خاتمے پر عرب ممالک نے امریکہ پر الزامات لگائے، شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا، لیکن جنگ میں عملی طور پر امریکہ کہیں نہیں تھا، بلکہ ایک امریکی جہاز کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس میں اسرائیلیوں کے حملے کا نشانہ جس میں امریکی نیوی سے تعلق رکھنے والے 34 افراد جان سے گئے ( یہ واقعہ یو ایس ایس لبرٹی کے ساتھ پیش آیا، 8 جون 1967 کو پیش آنے والے واقعے میں اسرائیلی ائر فورس کے طیارے اور اسرائیلی نیوی کی ٹارپیڈو بوٹس شامل تھیں، یہ بحری جہاز بنیادی طور پر جاسوسی کے آلات سے لیس تھا) ہاں زمینی جنگ میں امریکہ کے دیے ہوئے ٹینک جیسے اسرائیل نے استعمال کیے، بعض عرب ممالک نے بھی کھل کر استعمال کیے، میری درخواست ہوگی میرا بلاگ پڑھنے والوں سے اگر کسی کتاب میں یا کسی ویڈیو میں اگر کوئی شواہد یا ثبوت ہوں تو ضرور شیئر کریں نیچے کمنٹز ایریا میں۔ عرب اسرائیلی جنگوں اور تنازعات کی سیریز کے حوالے سے آگے بھی کافی کچھ لکھا جانا ہے۔
جنگ میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جنرل عبدل حکیم امیر نے صدر جمال عبدالناصر کو صاف کہہ دیا، دونوں میں بیس سالسے زائد پرانی دوستی تھی، وہ جگہوں میں ایک ساتھ لڑ چکے تھے، مصری بادشاہت کے خلاف دونوں نے ہتھیار اٹھائے تھے، چیف اپنے صدر سے جب مخاطب ہوا تو اس اس کے نام سے روتے ہوئے مخاطب ہوئے، جمال مجھے اپنے فوجیوں کو بچانے کا موقع دو، ان کی بحفاظت واپسی دیکھنا چاہتا ہوں، جمال بھی صورتحال سے دل گرفتار تھے، اپنے دوست امیر سے کہنے لگے میں اس صورتحال کا ذمہ دار ہوں، مجھے معاف کردو، بتایا جاتا ہے 15000 مصری فوجی اس حالت میں جان سے گئے، اسرائیلی نقصان اس کے مقابلے میں بہت کم تھا، مصری صدر جمال عبدالناصر نے اس جنگ میں شکست کے بعد اپنی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا، لیکن مصری عوام فوراً سڑکوں پر ناصر کے حق میں نکل آئے، اور جمال عبدالناصر سے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، جمال نے عوام کی درخواست مان لی لیکن وہ شکست پر بہت دل گرفتہ تھے۔
تصویر کیپشن ؛ شکست کے دل خراش مناظر، ہتھیار ڈالے ہوئے، ہاتھ اٹھائے ہوئے عرب فوجی اور شہری، بیت المقدس، نقشے میں 67 کی جنگ میں اسرائیل کی وسیع شدہ حدود ایک جانب تمام تر مغربی کنارہ دوسری جانب مکمل سینائی کا صحرا تا نہر سوئز اسرائیل کی عمل داری میں چلا گیا۔
عرب اتحادیوں کی شکست کی وجوہات
مصری افواج کی شکست کھانے کی وجہ جمال عبدالناصر اسرائیلی فوج کے مقابلے میں مصری افواج کی صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ پر اعتماد تھے، اس کے علاوہ اسرائیلی افواج کو کمتر بھی سمجھتے تھے، سربراہ کی حیثیت سے اپنی فوج پر فخر کرنا یکسر الگ بات ہے، لیکن انٹیلی جنس گیمنگ ایسے معاملات میں اہم ہوا کرتی ہے، غلط اندازوں اور سوویت انٹیلی جنس کی غلط اطلاعات نے بھی کمال دکھایا، پھر ائر فورس کی ناکامی کے بعد زمینی افواج کے لئے صحرائے سینا میں بکھری ہوئی افواج، اسرائیلی فضائیہ اور زمینی افواج کے رحم و کرم پر تھیں اور پھر پسپائی بغیر منصوبہ بندی کی وجہ سے کافی مہنگی پڑ گئی۔
اردن کی فضائی قوت جس کو بچانے میں پاکستانی پائلٹوں کا کردار اہم تھا، لیکن زمینی افواج جنگ میں خاص جا رہا نہ روپ میں نظر نہیں آئیں، بیت المقدس کا چند گھنٹوں میں ہاتھ سے نکل جانا یہی ثبوت دیتا ہے، تیسری جانب شامی افواج بہتر افواج ثابت ہو سکتی تھیں، لیکن بتایا جاتا ہے سیاسی قوت ہونے کی وجہ سے بھی وہ جنگ میں کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ یہ جنگ کم از کم عربوں کے حساب سے ایک فیصلہ کن جنگ ثابت ہو سکتی تھی، لیکن انٹیلی جنس (جاسوسی) ، اتحاد خاصہ جذباتی سا رہا، جس کو ہوشمندی اور ایک دوسرے سے بہتر رابطہ کاری سے اچھا رکھا جاسکتا تھا، اسرائیل کو اندازہ تھا، عربوں کی ذہنیت کا لیکن شاید عرب اسرائیل قیادت، فوجی سوچ کو نہیں سمجھ پائے تھے، پروپیگینڈا اور جا رہا نہ سفارتکاری بھی ہوتی تو اور اچھا ہوتا۔ صرف روس کے تعلقات سے کام نہیں بن سکا، پلان بی، پلان سی کی غیر موجودگی بھی اہم عنصر رہی، جو پسپائی، یا دوبارہ حملے کے لئے ضرور ہونی چاہیے تھی۔
جنگ بی بی سی کی نگاہ سے
https://www.bbc.com/news/world-middle-east-39960461



