بانجھ پن کا دکھ
ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر میں صرف یہ سوچ رہی ہوں ماں کی تعریف کیا ہے؟ ماں کون ہے؟ وہ جو اپنی کوکھ سے بچے کو جنم دے یا وہ جو بنا جنم دیے ایک بچے کو اپنی گود کی گرمی دے؟
میں نہیں جانتی مجھے کس نے جنم دیا؟ میں یہ بھی نہیں جانتی وہ کون سی مجبوری تھی جب ایک جنم دینے والی ماں نے اپنے جسم کے ٹکڑے کو خود سے جدا کر کے ”آغوش“ کے باہر رکھے جھولے میں بے یارو مدد گار پھینک دیا۔ مجھے کوئی یہ بتانے والا بھی نہیں ہے کہ میری رگوں میں دوڑتا خون حلال ہے یا حرام لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں مجھے پالنے والی ماں، پیدا کرنے والی ماں سے بڑا رتبہ رکھتی ہے۔
میں محض چند گھنٹوں کی تھی جب میری سگی ماں نے مجھ سے اپنی مامتا چھین کر مجھے لاوارث کر دیا تب ”آغوش“ کی ٹھنڈی چھاؤں میں وہ عورت ماں کا روپ لئے داخل ہوئی اور مجھ روتی، بلکتی، کالی کلوٹی سی بچی کو اپنی گوری چٹی بانہوں میں بھر کر سینے سے لگایا اس عورت نے مجھے ممتا کا کھویا ہوا احساس واپس کیا۔ اس ماں کی بدولت میرا سفر ”آغوش“ سے ”گھر“ تک ممکن ہوا۔ میں ساری رات روتی اور میری پالنے والی ماں مجھے گود میں لئے اس وقت تک ٹہلا کرتی جب تک میں سو نہ جاتی۔
وہ چمچ سے قطرہ قطرہ دودھ میرے حلق میں ٹپکاتی اور رات مجھے اپنے سینہ سے لگا کر سوتی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اسے ماں کہہ کر پکارا اس وقت میری ماں نے ساری دنیا کو بتایا کہ اسے ”ماں“ کہا گیا ہے۔ ماں نے مجھے انگلی سے پکڑ کر چلنا سکھایا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنی ماں کی خوبصورتی دیکھ کر ہمیشہ خود پر رشک کیا۔ وہ اس قدر حسین تھی کہ من چاہتا پہروں اسے تکا کروں۔ ماں جب مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی میں نہال ہو جاتی۔ میں جب اپنی ماں کے ساتھ کہیں جاتی لوگ حیران ہو جاتے اور طرح، طرح کی باتیں کرتے ”شانی کی بیٹی کس پر گئی ہے بالکل اپنی ماں کی ضد، کہاں وہ نرم اجالا اور کہاں یہ کالا اندھیرا“
میں خاموشی سے سنا کرتی مگر میری پیاری ماں چڑ جاتی اور مجھے اپنے ساتھ لئے گھر واپس آ جاتی یہ ہی وجہ تھی کہ ماں نے رفتہ رفتہ ہر وہ رشتہ ختم کر دیا جو میری رنگت اور سوکھے سڑے وجود کو تنقید کا نشانہ بناتا اس طرح ہم دونوں صرف ایک دوسرے کے لئے جینے لگیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں ضدی ہوتی گئی ماں کو خوب تنگ کرتی مگر وہ ہنس کر مجھے برداشت کرتی، تیز دھوپ اور گرمی کے موسم میں وہ خود مجھے لینے اسکول آتی کیونکہ میں کبھی بھی وین میں لد کر جانے کو تیار نہ ہوتی تھی۔
میری ماں سارا دن مشین پر جھکی محلے بھر کے کپڑے سیتی اور جو پیسہ ملتا اسے میری ذات پر خرچ کر دیتی۔ مجھے یاد ہے میں دال سبزی نہ کھاتی تھی اور میری ماں اپنی محنت کی کمائی سے میرے لئے گوشت اور پھل لاتی جو وہ خود کبھی نہ کھاتی، مجھے اچھا کپڑا پہنا کر سنوارنے والی میری خوبصورت ماں دوسروں کی اترن پہن کر بھی خوش تھی۔ میں اور ماں دو کمروں کے اس چھوٹے سے گھر میں تنہا رہتے ہوئے ایک دوسرے کی ذات میں گم تھے جب ایک دن اچانک وہ شخص اماں سے ملنے آیا جس کے جانے کے بعد میری ماں بہت روئی۔
میں نے اپنی بہادر اور خوبصورت ماں کو زندگی میں پہلی بار روتے دیکھا تھا تب پہلی بار مجھے یہ بھی پتہ چلا میں اس عورت کی لے پالک بیٹی ہوں لیکن یہ جاننے کے بعد بھی میرے دل نے صرف اسے ہی اپنی ماں مانا جس کی گود نے مجھے تحفظ بخشا تھا۔ وہ مرد جو میری ماں کا شوہر تھا اس نے ماں کے بانجھ پن کی وجہ سے دوسری شادی کر کے ماں کو گھر سے نکال دیا تھا آج وہ ہی شخص میری ماں سے میرے متعلق جواب طلب کرنے آیا تھا۔ اس شخص کے لئے یہ بات ہی باعث حیرت تھی کہ ایک بانجھ عورت ماں کیسے بن گئی؟
وہ مرد اتنے سالوں بعد ایک بار پھر میری ماں کے دل میں اس کے بانجھ پن کا احساس جگا کر واپس جا چکا تھا اور میں سوچ رہی تھی کیا ایک بانجھ عورت کو ماں بننے اور ماں کہلانے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ایک بانجھ عورت کے دل میں مامتا نہیں ہوتی؟ یہ وہ سوال تھے جن کا جواب شاید یہ معاشرہ نہ جانتا ہو لیکن میں جانتی تھی کیونکہ میں ایک بانجھ عورت کی مامتا کے سائے میں پلنے والی بیٹی تھی۔ ایک عظیم بانجھ عورت جسے میرے خون کے حلال اور حرام ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا کیونکہ وہ ماں تھی صرف ماں۔ میری پیاری ماں


