مگر کیا آپ مظلوم کہلانے کے لائق ہیں؟
حق اور سچ کے لئے ہم نے بھی آواز اٹھائی
ظالموں کے خلاف ہم بھی ڈٹ کر کھڑے رہے
آپ کی کہانی دس، بارہ مہینوں کی ہے
ہم سالہا سال لڑتے آ رہے ہیں۔
صبر و تحمل سے، امن و آشتی سے
مگر آپ!
آپ ہمیشہ ظالموں کے طرف دار رہے
اُن کے ترجمان اور آلہ کار رہے
ہمیں زخم لگے تو آپ نے نمک چھڑکا
ہم درد سے بِلک اٹھے تو آپ نے مذاق اڑایا
ظالموں نے گولی چلائی تو آپ نے ہمیں گالی دی
ہم نے حق اور حقوق کے لئے آواز بلند کی
تو آپ نے ہمیں ایجنٹ کہا
ملک دشمن سمجھا، غدار کہا
ہمارے کرب ناک ٹراما کو
سازش سمجھا، ڈراما کہا
ہمیں اسلام تک سے خارج کر دیا
ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا
نہ کسی عہدے کا لالچ، نہ کسی رتبے کی تمنا
ہم امن اور تعلیم کے لئے کھڑے تھے
اور آج بھی امن اور تعلیم کے علم بردار ہیں
ہمارا جُرم صرف اتنا ہے
کہ ہم اپنی سرزمین پر جنت کے متلاشی ہیں
ہمارا قصور صرف اتنا ہے
کہ ہم اس دھرتی پر رہنے والے تمام انسانوں کے لئے
بلا امتیاز رنگ و نسل و عقیدہ
امن چاہتے ہیں، خوشحالی چاہتے ہیں اور
قانون کی حکم رانی چاہتے ہیں
اس لئے ہم نے دھرتی کے ناراض بیٹوں کی مسخ شدہ لاشوں کی بات کی
اپنے بھائیوں کی جبری گم شدگیوں پر آواز اٹھائی
مگر آپ نے ہر ظلم اور لا قانونیت کی وکالت کی
آپ معمولی اقتدار کے لئے
مقتدر حلقوں کے ہم نوا رہے
آپ کو ایک پیج پر ہونے پر بڑا فخر تھا
مگر صفحہ پلٹنے میں دیر نہیں لگتی
آج آپ خود مظلوم ہونے کا شور مچا رہے ہیں
آپ انقلاب، تبدیلی اور حقیقی آزادی جیسی
خوب صورت اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں
مگر آپ کسی اعلیٰ مقصد کے لئے نہیں اُٹھے ہیں
آپ لوگ
جس شخص کی محبت اور عقیدت میں مبتلا ہیں
آپ جس شخص کی اندھی تقلید کر رہے ہیں
اُن کے چنے ہوئے رستے کی کوئی منزل نہیں
وہ پہلے بھی اپنی ذات کے لئے کھڑا تھا
اور آج بھی اپنی ذات کے حصار میں بند ہے
مگر ہمیں پھر بھی آپ سے ہمدردی ہے
بہ خدا
ہم نہ آپ کو غدار سمجھتے ہیں اور نہ ایجنٹ
آپ نہ شرپسند ہیں اور نہ ہی دہشت گرد
بس
مگر کیا آپ مظلوم کہلانے کے لائق ہیں؟



Well said. So crisp and spot on