مگر کیا آپ مظلوم کہلانے کے لائق ہیں؟

‎حق اور سچ کے لئے ہم نے بھی آواز اٹھائی ‎ظالموں کے خلاف ہم بھی ڈٹ کر کھڑے رہے ‎آپ کی کہانی دس، بارہ مہینوں کی ہے ‎ہم سالہا سال لڑتے آ رہے ہیں۔ ‎صبر و تحمل سے، امن و آشتی سے ‎مگر آپ! ‎آپ ہمیشہ ظالموں کے طرف دار رہے ‎اُن کے ترجمان اور آلہ کار رہے ‎ہمیں زخم لگے تو آپ نے نمک چھڑکا ‎ہم درد سے بِلک اٹھے تو آپ نے مذاق اڑایا ‎ظالموں نے گولی چلائی

Read more

پشتو ادب کے خدائی خدمت گار

فضل محمود روخانؔ سوات اور پختون خوا کے ادبی حلقوں میں روخانؔ ہی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ روخان صاحب اسم بامسمیٰ ہیں، روشن و تاباں شخصیت کے مالک۔ وہ زندہ رہنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں اور تماشائے زندگی دیکھنے کا ہنر بھی۔ وہ ایک اچھے کالم نگار، ادیب اور نثری نظموں کے بہترین شاعر ہیں مگر اس سے بڑھ کر وہ پشتو ادب کے خدائی خدمت گار ہیں اور ان کی یہ بے لوث خدمت مستقل مزاجی

Read more

افغانستان میں دائمی قیام امن کے لئے طالبان سے چند گزارشات

پچھلے چالیس سالوں سے افغانستان اور بیس سالوں سے شمالی اور جنوبی پختون خوا پراکسی اور تزویراتی جنگوں کی آگ میں جلتا رہا۔ 1979 ء سے 1989 ء تک کی سوویت افغان جنگ میں دو ملین لوگ مارے گئے اور ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ ملک بدر ہو کر مہاجر بن گئے۔ 1989 ء میں روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ”افغان مجاہدین“ نے مل کر ڈاکٹر نجیب اللہ کو معزول ہونے پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر نجیب کے جانے کے بعد مجاہدین کے مختلف گروہوں کے درمیان تخت کابل کے حصول کے لئے بد ترین خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں افغانستان کو ناقابل تلافی مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی خانہ جنگی کے دوران 1994 ء میں طالبان ایک بڑی عسکری قوت کے طور پر نمودار ہوئے۔ طالبان نے تمام دوسرے متحارب گروہوں کو زیر کر کے 1996 ء میں ملا محمد عمر کی سربراہی میں ”امارت اسلامی افغانستان“ قائم کی گئی۔

Read more

میں اگر اپنے والدین کی چھٹی بیٹی ہوتا؟

میں ایک بھائی اور تین بہنوں کے بعد پیدا ہونے والا چوتھا بچہ تھا۔ مزید دو بہنیں میرے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ میرے والد کی شدید خواہش تھی کہ تین مسلسل بیٹیوں کے بعد ایک بیٹے کی ولادت ہو۔ میری تھکی ہوئی ماں بھی مزید کسی لڑکی کا چہرہ دیکھنے کی متحمل نہ تھی۔ میرے بڑے بھائی کی بہار ولادت کے بعد وہ متواتر تین خزاؤں سے پژمردہ تھی۔ اس بار وہ کچھ زیادہ ہی مضطرب تھی۔ اس لئے بیٹے کی امید میں دعاؤں کے ساتھ انھوں نے ایک ٹوٹکا بھی آزمایا۔

Read more

ہیپی ویلنٹائن ڈے

ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس کے تاریخی پس منظر کی سب سے معروف اور مقبول روایت یہ ہے کہ سلطنت روم کی دوسری صدی عیسوی کے سینٹ ویلنٹائن ایک نیک، پرہیزگار اور بزرگ مذہبی پیشوا تھے۔ ہوا یوں کہ اس زمانے میں روم کے بادشاہ کلاڈئیس دوم نے سوچا کہ غیر شادی شدہ نوجوان ہی بہترین سپاہی ہوتے ہیں۔ اس لئے اپنی حربی اور دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کے لئے اس نے ایک شاہی فرمان کے تحت نوجوان لڑکوں کی شادیوں پر پابندی عائد کردی۔

Read more

پاکستان: ’یہ ریاست ہے یا مولوی کے گھر کی لونڈی؟‘

اپنے وطن کی یادیں ہمہ وقت ساتھ رہتی ہیں۔ بالخصوص اپنی جنم بھومی سوات کی کھٹی میٹھی یادیں۔ لیکن گزشتہ کئی ہفتے اسلام آباد کے شہری جس عذاب سے گزرے میں برمنگھم میں بیٹھ کر اس کرب کو محسوس کر رہا تھا۔ اس کرب نے 2007، 2008 اور 2009 میں طالبان کے دور کے سوات کی تلخ یادیں ایک بار پھر تازہ کر دیں۔ جس درد اور کرب سے اس وقت سوات کے لوگ گزرے تھے، بالکل وہی حالات میں

Read more