کارگل کے دو شہیدوں کی کہانی

18 جولائی سن 1999 کو رات کے آخری پہر کراچی کی ملیر چھاؤنی میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ فوجی جوان اپنی فوجی وردیوں میں ملبوس قطار در قطار کھڑے ہوئے فوجی ٹرکوں میں سوار ہو رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹرکوں میں سوار ان فوجی جوانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو گئی پھر یہ فوجی قافلہ ملیر چھاؤنی کے گیٹ نمبر ایک سے چھاؤنی سے باہر نکل آیا۔ اس قافلہ کا رخ کراچی کے بین الاقوامی ائرپورٹ کی جانب تھا۔ یہ تمام ٹرک ائر پورٹ کی حدود میں پہنچ کر رن وے کی جانب جانے والے ایک گیٹ پر جاکر رک گئے تھوڑی ہی دیر میں اس قافلہ کو رن وے پر داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔
کچھ ہی لمحوں بعد فضا میں ایک طیارے کے انجنوں کی گڑگڑاہٹ گونجی اس اثنا میں تمام فوجی بھی اپنے ٹرکوں سے اتر کر ٹرکوں کے سامنے فوجی انداز میں اٹینشن کھڑے ہو گئے۔ طیارے کے پہیوں نے رن وے کی زمین کو چھواء اور وہ تقریباً فوجی قافلے کے سامنے ہی آن رکا۔ طیارے کا پچھلا حصہ کھلا اس طیارے سے ایک تابوت اتارا گیا جس میں کیپٹن کرنل شیر خان کا جسد خاکی تھا۔ یہ جسد خاکی دہلی سے کراچی لایا گیا تھا اور پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔ صبح کے پانچ بج چکے تھے۔ تابوت کو ایمبولنس میں رکھ کر اس جگہ لے جایا گیا جہاں ہزاروں فوجی اور عام شہری موجود تھے۔ شہید کی نمازجنازہ ادا کی گئی اور اس کو دوبارہ پاکستان ائر فورس کے سی 130 طیارے پر رکھ دیا گیا۔ فوراً ہی سی 130 اسلام آباد کی جانب پرواز کر گیا۔
اسلام آباد کے چکلالہ ائر بیس پر اس وقت کے صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ بھی موجود تھے۔ یہاں ایک دفعہ پھر نماز جنازہ ادا کی گئی اور کیپٹن کرنل شیر خان کا جسد خاکی اپنی آخری آرام گاہ ضلع صوابی کے گاؤں نواں کلی کی طرف روانہ کر دیا گیا جہاں ان کی تدفین کردی گئی اور ساتھ ہی گاؤں کا نام تبدیل کر کے ان کے نام پر رکھ دیا گیا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید پہلی جنوری 1970 کو پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام ”کرنل شیر خان شہید“ تھا۔ یہ بڑا منفرد نام تھا یہ نام ان کے دادا جان نے رکھا تھا، کہا جاتا ہے کہ شیر خان کے خاندان میں ان سے پہلے شیر خان کے نام سے ہی ایک صاحب تھے جو 1948 میں پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے 1948 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ میں حصہ لیا تھا اور شہید ہو گئے تھے۔
”کیپٹن کرنل شیر خان شہید“ کے دادا اپنے خاندان کے اس فرد کی بہادری اور دلیری سے بہت متاثر تھے چنانچہ جب ان کا پوتا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام ”کرنل شیر خان شہید“ رکھ دیا۔ اس طرح ان کے پیدائشی نام کے دو لفظ ”کرنل“ اور ”شہید“ بڑے ہی منفرد تھے۔ کیونکہ کرنل کا لفظ ان کا عہدہ نہیں تھا اور چونکہ وہ زندہ تھے اس لیے لفظی معنوں میں شہید نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح ان کا نام کرنل شیر خان شہید ہی تھا اور شہادت کے وقت ان کا عہدہ پاکستانی فوج میں کیپٹن کا تھا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید کارگل جنگ کے ہیرو تھے یہ جنگ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 3 مئی 1999 سے جولائی 1999 کے درمیان لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کارگل اور اس سے متصل برفانی چوٹیوں پر لڑی گئی۔ پاکستانی فوج کے کپتان کرنل شیر خان نے اتنی بہادری کے ساتھ یہ جنگ لڑی کہ کارگل جنگ کے بھارتی کمانڈر بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے بھی ان کی شجاعت کا اعتراف کرتے ہوئے شیر خان کو کارگل کا ہیرو قرار دے کر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جنگ کے اختتام پر جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان بھیجا گیا تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے کاغذ کا ایک پرزہ رکھ دیا جس پر لکھا تھا کہ ”12 این ایل آئی کے کپتان کرنل شیر خان انتہائی بہادری اور بے جگری سے لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گئے اور انہیں ان کا حق دیا جانا چاہیے۔“
4جولائی 1999 میں کارگل کی وادی میں واقع ٹائیگر ہل کے مقام پر جام شہادت نوش کرنے والے کرنل شیر خان کو پاکستانی فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ پاک فوج نے وطن کے لیے ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں مردان کینٹ کے صدر دروازے پر کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا دھات کا بنا ہوا مجسمہ نصب کر دیا گیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے ایک اور جونیئر ساتھی حولدار لالک جان بھی اسی ٹائیگر ہل پر تین دن بعد 7 جولائی 1999 کو جام شہادت نوش کر گئے۔ انہوں نے بھی بہادری اور دلیری کی ایک داستان رقم کر دی۔ حولدار لالک جان شہید کو بھی نشان حیدر سے نوازا گیا۔ ان کی تدفین گلگت بلتستان کا ایک مقام جو ان کا آبائی علاقہ تھا عمل میں آئی اور وہیں ان کی ایک عالیشان یاد گار قائم کی گئی۔
14 مئی 2023 کو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پرتشدد احتجاج شروع کر دیا احتجاج کی وجہ ان کی جماعت کے سربراہ کی گرفتاری تھا اس سیاسی جماعت کا دعویٰ ہے کہ ان کے کارکنان پاکستان کے تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن 14 مئی 2023 پاکستان کے لیے نائن الیون بن گیا۔ اس جماعت کے پیروکاروں نے خصوصی طور پر ان تین صوبوں میں جلاؤ گھیراؤ کا ایک پرتشدد سلسلہ شروع کر دیا۔ ریڈیو پاکستان پشاور کی پرشکوہ عمارت جلا کر راکھ کر دی گئی۔
لاہور میں واقع کور کمانڈر کا گھر جو جناح ہاؤس کہلاتا ہے لوٹ مار کے بعد نذرآتش کر دیا گیا اور اس طرح کے سینکڑوں واقعات ان تین صوبوں کے طول و عرض میں دیکھنے میں آئے۔ یہاں تک کہ کیپٹن کر نل شیر خان کا مجسمہ بھی اس متشدد ہجوم کی کارروائیوں سے نہ بچ سکا جس کرنل شیر خان نے کارگل کے محاذ پر بہادری سے لڑتے ہوئے وطن کے لئے جان دیدی اور جس کی بہادری کا بھارتی بریگیڈیئر نے بھی برملا اعتراف کیا، اس وحشی ہجوم نے اس مجسمے کو بھی توڑ پھوڑ ڈالا، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی ان سیا سی کارکنان میں انسانیت کی رمق بھی نہیں موجود تھی، انہوں نے کھل کر اپنی جہالت کا مظاہرہ کیا۔
یاد رہے کہ بہت عرصے سے پاکستان کے مختلف ماہرین تعلیم اس بات کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نصاب کچھ اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ طالبعلموں کو ایک اچھا انسان بنانے سے بھی قاصر ہے، خوش قسمتی سے گلگت بلتستان میں واقع لالک جان شہید کی یادگار توڑ پھوڑ سے بچ گئی اور پورے گلگت بلتستان میں کسی قسم کا پرتشدد احتجاج نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں پاکستان سے مختلف اور ایک جدید تعلیمی نصاب رائج ہے اور عام طور پر یہی سننے کو ملتا ہے کہ گلگت بلتستان میں خواندگی کی شرح 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور تعلیمی نظام اور نصاب بہت اچھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لالک جان شہید توڑ پھوڑ سے بچ گئے اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا مجسمہ مردان کے نام نہاد تعلیم یافتہ وحشی ہجوم کی زد میں آ کر اپنا سر تڑوا بیٹھا اور اس کا گلا بھی کاٹ دیا گیا۔ الامان الحفیظ۔

