وزیرستان: آج کے آئینے میں کل


وہ تھے عجیب دن۔ لوگ صبح و شام اکٹھے ہو کے حالات و واقعات پر گفتگو کر رہے تھے۔ کچھ تجزیے تو کچھ نئی نئی خبریں سنا رہے تھے۔ وہاں ذبح شدہ لاش، یہاں پر ٹارگٹ کلنگ۔ شام کو خودکش حملہ تو سویرے بم بلاسٹ۔

میرے مولا! آج اسی گاؤں کو کیا ہوا۔ کس کی نظر لگ گئی۔ سب لوگ جا چکے تھے۔ تو کچھ اپنے گھروں کی حفاظت کی خاطر رہ چکے تھے۔ ہوں کا عالم تھا۔ گاؤں پر خاموشی طاری تھی۔ ایسی خاموشی جیسی گاؤں نہ ہو مقبرہ ہو۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، کتوں کی بھونکنے پر پراسرار خاموشی اپنی خاموشی توڑ دیتی۔ ہم بھی جا رہے تھے۔ ہمیں بھی زندہ رہنا تھا۔ ہمیں بھی زندگی کے خطرات لاحق تھے۔ اگ تو کب سے بھڑک چکی تھی مگر اب تک اگ کی تپش پہنچ چکی تھی۔ اگ راستے میں تھی۔ توپ کے گولے شن شن شن شن سے ہمارے سروں سے گزر رہے تھے۔ معمول کے مطابق اس دفعہ بھی گھر کے اندر زیر زمین جو کمرہ تھا ان کے اندر چلے گئے۔ یہاں زندگی نسبتاً محفوظ تھی۔ ادھی رات تھی۔ دفعتاً گھر کے سب افراد کو ابدی نیند سے بچانے کے واسطے گہری نیند سے اٹھنا کوئی انہونی بات نہیں تھی۔

موت کے فرشتے سروں پر سوار تھے۔ ویسے بھی ایسے حالات کے ساتھ ہم سب عادی تھے۔ پھر ہم تھے۔ توپ کی آواز تھی۔ بدقسمتی کا کیا کہئے۔ گولی کی ایک آواز اگر ہوتا تو ہم برداشت کرتے۔ یہاں تو ایک کی جگہ دو دو تین تین آوازیں تھیں۔ آواز ایسی کہ مرنے کے لئے صرف آواز کافی تھا۔ پہلی آواز آتے ہی ہم سمجھ جاتے کہ توپ کا گولہ آ رہا ہے۔ ٹارگٹ پر لگنے سے پہلے پہلے ہم کانوں میں انگلی ڈالتے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ٹارگٹ کون سا ہے۔ یا اللہ! رحم۔ ہر کس کے ہونٹوں پر یہی دعا کیونکہ ہر کس کو یقین تھا کہ میرا اخر دن آج ہے۔ اللہ اللہ کر کے گولہ پھٹ جاتا اور ہم کان سے انگلی نکالتے۔

خوش تو ہم تھے۔ چلو ایک دن سہی یا ادھی دن سہی ہمیں چھٹی تو ملے گی۔ کہیں پر آج کوئی واقعہ ہو جائے تاکہ مدرسہ کی چھٹی ہو جائے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم ناسمجھ تھے۔ ہم بچے تھے۔ ہم معصوم تھے۔ مدرسے میں تھے۔ عین چھٹی سے پہلے ہمیں اونچی آواز سے مسنون دعائیں سکھائی جاتی تھی۔ ایک طالب علم اٹھ کے بلند آواز سے مسنون دعا سناتا ہم ان کے پیچھے بلند آواز سے دہراتے۔ آج دعا سیکھنے کی جگہ اپنے لبوں پر جان بچانے کے لئے دعا تھے۔ ہم مسنون دعا سیکھنے واسطے لائنوں میں کھڑے تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز آ گئی۔ پھر ہم تھے گولیاں تھے اور خوف۔ ہمیں کمروں کے اندر جانے کا کہا گیا۔ ہم چھوٹے تھے۔ مگر خوف انسان کی عمر کو نہیں دیکھتی۔

ہم انتظار میں تھے کہ کب یہ تکلیف دہ لمحات ختم ہوں گے ۔ چونکہ ہمارے گرد طالبان روز ملتا۔ بازار، سڑک، دکان، مویشی و سبزی منڈی اور اس پاس دیہاتی گھروں میں ہر طرف طالبان ملتے۔ طالبان کے مخصوص شکل و ہیئت تھے۔ لمبے بال و بڑھے بڑھے مونچھیں، لمبے تڑنگے جسامت کے مالک تھے۔ پاؤں پر سروس کمپنی کے جوتے تھے۔ کمر میں کمربند باندھا ہوا جس میں کارتوس پیوست تھے۔ ہمیشہ چاک و چوبند۔ ہم طالبان سے نہیں ڈرتے۔ کیونکہ ہم ان کے ساتھ عادی ہوچکے تھے۔ وہاں مقامی طالبان تھے۔ نان لوکل طالبان بھی تھے اور غیر ملکی بھی۔ غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ خوفناک طالبان جو ہم روز سنتے ازبک کے نام سے طالبان تھے۔ ہم نے انہیں دیکھیں بھی تھے۔ القاعدہ نامی تنظیم کے لوگ تھے۔ تاجک فلاسطینی مصری کے نام سے طالبان بھی تھے۔

مذکورہ بالا فائرنگ کا تبادلہ اور بعد میں لمبی خونریزی میں تبدیل ہوتا ہوا لڑائی مقامی طالبان جس کے پشت پر حکومت و افواج پاکستان کے ساتھ مقامی لوگ تھے اور ازبک کے نام سے جو طالبان تھے کے درمیان تھا۔ ازبک نامی طالبان نے ہمارے مدرسے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ملک (قوم کا سردار) کے گھر پر حملہ کیا تھا۔

مدرسے کے ناظم نے ٹھیک دو گھنٹے بعد ایک بڑا طالب علم کے ساتھ ہمیں گھر بھیج دیے گئے۔ جیسے ہی ہم مدرسے سے نکلیں ہمارے ارد گرد بندوق تھے اور ایک خاص شکل والے طالبان تھے۔ چونکہ اس وقت خاموشی طاری تھی۔ ازبک نامی طالبان نے پورے علاقے کی کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لئے تھے۔ ہم ان سے نہیں ڈرتے تھے تبھی تو ہم ان کے بیچ نکلیں۔ ہم خوش بھی تھے۔ کیونکہ کچھ دن چھٹی ملنے لگا۔ ڈر بھی۔ ڈر کس چیز کا؟ ڈر گولیوں کے ان آواز کا جو ہمارے سامنے ہم سے گزر رہے تھے۔

لوگ اپنی حفاظت کی خاطر اپنی خاندانوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف نکلیں۔ ہم بھی اسی امید کے ساتھ انتظار میں تھے کہ کب ہم نکلیں گے۔ اللہ اللہ کر کے ہمیں بھی اجازت ملی۔ ہم نے بھی دوسرے دیہاتیوں کی طرح اپنے گھر بار کو خیر آباد کہہ۔ ہم چھوٹے نا سمجھ تھے۔ ہم تو وقتی طور پر گولیوں سے خوفزدہ ہوتے باقی تکلیف دکھ درد مصیبتیں تو وہ سہتے جو حالات محسوس کرتے۔ جن کو کل کے حالات کا انداز ہوتا جن پر اپنے بوجھ کے علاوہ اپنے پورے خاندان کا بوجھ تھا۔ ہم نکلیں۔ اپنے گھر سے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے چچا کے دوست کے گھر پر پڑاؤ ڈالا۔ یہ ان کی مہربانی اور فیاضی تھی کہ آنے سے پہلے انہوں نے اپنا گھر خالی کیا تھا۔ ہمیں ازبک نامی طالبان تنظیم کے درمیان سے گزرنا پڑا۔

دس پندرہ دن ارام سے گزرے۔ نہ گولی کی آواز نہ کس کے پاس بندوق۔ اگرچہ تکلیف دکھ درد تو تھا مگر احساس اب ہو گیا کیونکہ اس وقت ہم مہاجرت کرنے کے لئے خوش تھے۔ چند دن مہاجرت کے بعد جب علاقہ مقامی طالبان کے ہاتھوں اگیا۔ ہم بھی واپس آ گئے۔ یہ سب کچھ وانا وزیرستان میں دو ہزار سات اور آٹھ میں مقامی طالبان افواج پاکستان کے ساتھ مقامی لوگوں اور ازبک نامی طالبان تنظیم کے درمیان لڑائی کی روداد ہے۔ اس کے بعد کبھی کبھار اکا دکا واقعات تو ہمارے سامنے ہوتے رہتے۔ ڈرون حملے بھی ہوتے تھے۔ مگر بڑے پیمانے پر لڑائیاں اور آپریشن نہیں ہوئے۔ لوگوں کی زندگی نارمل ہو گیا۔ البتہ امن و امان مقامی طالبان جس کو گوڈ طالبان کہتے کے ہاتھوں میں تھا۔ پھر دو ہزار اٹھارہ میں لوگوں نے امن و امان مقامی طالبان سے لے کے انتظامیہ کے حوالے کیا۔

Facebook Comments HS