وزیرستان: حال ماضی کے در پر

جنگ و جدل، لڑائیاں، خون، قتل و غارت، بدامنی میں گھرے وزیرستان میں ماضی کی داستانیں پھر سے دہرائی جا رہی ہیں۔ پچھلے چالیس سال، بالخصوص وار آن ٹیرر کے بعد ، یہ امید تھی کہ شاید مستقبل ماضی جیسا نہیں ہو گا۔ خاص طور پر جب ایکس فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام و الحاق ہو رہا تھا، تو مجھ جیسے ہزاروں لاکھوں افراد کے دل میں یہ خواہش و امید تھی کہ اب کبھی ماضی نہیں دہرایا

Read more

وانا وزیرستان: زراعت اور کسان کمیونٹی کو درپیش مسائل

نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم سے پہلے وانا انتظامی طور پر وزیرستان کا مرکز تھا۔ بعد میں ساؤتھ وزیرستان کا مرکز رہا۔ ہم اکثر وزیرستان کو دہشتگردی، بم دھماکے جیسے سابقے و لاحقے کے ساتھ سنتے آرہے ہیں۔ مگر مقامی آبادی کے مسائل اور روزگار کے وسائل کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ نوجوان اکثر روزگار کے لئے آبائی وطن کو خیر آباد کہہ کے دیار غیر جیسے پنجاب، کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان اور خلیج ممالک کی طرف کوچ کر

Read more

وانا وزیرستان؛ مجرمانہ خاموشی کب تک؟

وزیرستان کے باسی دہشتگردی، طالبانائزیشن اور وار۔ ان۔ ٹیرر کی وجہ سے نکل مکانی، دو نسلوں قربانیوں کے بکرے بننا، نفسیاتی بیماریاں میں مبتلا اور گھر و بازار کی لوٹ و مسماری سہنے کے باوجود زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ ماضی پھر سے خود کو دوہرانے والا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر جبکہ آبادی میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے۔ بے روزگار نوجوان نشہ آور مواد کے عادی بنتے جا رہے ہیں کچھ روزگار کے

Read more

وانا وزیرستان: کچھ نہیں بدلا

وزیرستان وزیر، محسود، داوڑ، برکی، سلیمان خیل اور دوتانی اقوام کا مسکن ہے۔ ڈیورنڈ لائن کا وجود میں آنے کی وجہ سے 1894 ء میں مقامی آبادی نے ملا پیوندہ کی قیادت میں انگریز راج کے خلاف مسلح جد و جہد کے باعث گوروں نے وزیرستان کو ساؤتھ اور نارتھ میں تقسیم کیا۔ خیبرپختونخوا کی پچھلی حکومت نے ساؤتھ وزیرستان کو اپر اور لوئر ساؤتھ وزیرستان میں تقسیم کیا۔ سلیمان پہاڑی سلسلے سے شمال کی جانب جانے والی ایک شاخ

Read more

وانا وزیرستان: کچھ نہیں بدلا

شاید غلط فہمی تھا یا ہم نادان الفاظ نہ سمجھ پائے۔ وعدوں پر وعدے، کوئی وہاں سے یہاں تو کوئی یہاں سے وہاں لکیر کھینچ کے ایکس فاٹا مرجر پر لیکچر دیتا، تو کہیں پر سننا پڑتا فاٹا مرج ہو جائے تو قانون کی بالادستی ہوگی، کہیں سے آواز تھی ہر طرف امن ہی امن ہوگا۔ ہم خوش تھے، خوش کیوں نہ تھے؟ اتنی بڑی جو تبدیلی آ رہی تھی۔ تو بات قانون و آئین کا کرنا ہے۔ شاید سنا

Read more

موسٰی نیکہ سکول اینڈ کالج وانا اور عید ملن پارٹی۔۔

1981ء  میں قائم وانا وزیرستان کا واحد ہائی سکول جس کو بعد میں کالج کا درجہ دیا گیا، اب تک 40  و   42  عرصہ گزرا مگر تاحال آباد، وانا وزیرستان کو تعلیم جیسی روشنی و نعمت سے منور کر رہا ہے۔ پشتو زبان میں "نیکہ” دادا و پردادا کو جبکہ وزیرستان میں اباد قبائل میں وزیر قبیلہ کا جدامجد موسیٰ تھا۔ خدا پرست اور درویش صفت ہونے کی وجہ سے موسیٰ کے نواسے و پڑپوتے اپنے پردادا کو "درویش "بھی

Read more

وزیرستان: ”گانڑ خت“ روایتی لباس

خوبصورتی اور انفردیت میں بے مثال۔ شادی کے بعد دلہن کی پہچان۔ سسرال میں عورت کا گانڑھ خت پہننا، خاندان اور شوہر کی عزت سمجھی جاتی ہے۔ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ عورتوں کے درمیان فرق بھی گانڑھ خت تھا اور ہے، کیونکہ گانڑھ خت شادی شدہ عورتیں پہنتی تھیں اگرچہ ضروری نہیں کہ غیر شادی شدہ عورتیں نہ پہنیں۔ پشتو زبان کے وزیرستانی لہجہ ”گانڑھ خت“ میں ”خت“ قمیص کو جبکہ ”گانڑ“ شاخدار کو کہتے۔ یہ وزیرستان کا

Read more

وزیرستان: تحصیل بیرمل کے لوگ کا دھرنا جاری

وانا وزیرستان کے سب سے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے دوسری بڑی تحصیل بیرمل کے عوام نے درپیش مسائل کے حل کے لئے احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے۔ دھرنے کے منتظمین کے مطابق دھرنا بنیادی مسائل حل نہ ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔ انتظامیہ کی مسلسل لاپرواہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے لوگ دھرنا دینے پر مجبور۔ انٹرنیٹ سروس کی بندش، بائیس اور تئیس گھنٹوں غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ، امن و امان کی بدتر حالات، غیر فعال

Read more

وانا جنوبی وزیرستان: واٹر ٹیبل ایک سنگین مسئلہ

جنوبی وزیرستان پچھلے 20 برس سے دنیا کے مین سٹریم میڈیا کا پاپولر ٹاپک رہا۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان خاص کر حقانی نیٹ ورک کے ریشے یہاں کافی مضبوط تھے اور بتایا جاتا ہے کہ اب بھی طالبان کافی فعال ہیں۔ ماضی کے برعکس وزیرستان میں کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ نظام تعلیم، نظام صحت، انفراسٹرکچر، روڈز اور امن و امان کی حالت اب کافی حد تک بہتر ہے۔ بے شک وزیرستان طالبانائزشن پراجیکٹ کا بریڈنگ گراؤنڈ رہ چکا

Read more

وزیرستان: آج کے آئینے میں کل

وہ تھے عجیب دن۔ لوگ صبح و شام اکٹھے ہو کے حالات و واقعات پر گفتگو کر رہے تھے۔ کچھ تجزیے تو کچھ نئی نئی خبریں سنا رہے تھے۔ وہاں ذبح شدہ لاش، یہاں پر ٹارگٹ کلنگ۔ شام کو خودکش حملہ تو سویرے بم بلاسٹ۔ میرے مولا! آج اسی گاؤں کو کیا ہوا۔ کس کی نظر لگ گئی۔ سب لوگ جا چکے تھے۔ تو کچھ اپنے گھروں کی حفاظت کی خاطر رہ چکے تھے۔ ہوں کا عالم تھا۔ گاؤں پر

Read more

وزیرستان و پشتون خوا میں تعلیمی مشکلات اور میرا تعلیمی سفر

آگ میں سفر اختتام کو ہے : فرض کر ایکس فاٹا یا پشتون خواہ سے لڑکا ہے۔ تعلیمی سلسلہ 2004ء میں شروع جبکہ 2012ء میں 8th کلاس میں۔ تو 2008ء تک فیصلہ کرنے سے قاصر۔ فیصلے کا اختیار والدین، سکول انتظامیہ، سماج کے پاس ہو۔ سماج سے مطلب اپنے اس پاس لوگ، موبائل و ٹی وی سکرین، ریڈیو ٹیپ ریکارڈ سپیکر و قلم کتاب کاپی پینسل ہے۔ دنیا 2000ء کے بعد تیزی سے digitalize ہو گئی۔ یہاں پاکستان 2010ء کے

Read more