وقت کی حقیقت کیا ہے؟

وقت ایک گہرا راز ہے۔ وقت کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ کوئی حقیقی چیز ہے یا ہمارے ذہن کا محض ایک افسانہ؟ اس سوال کا حل اس کائنات اور اس کے مقصد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ہمارا وجود وقت کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا اور زمانے کا تصور وجود کے بغیر ممکن نہیں۔
نیوٹن نے وقت کے تصور کو اس طرح بیان کیا:
”۔ مطلق اور ریاضیاتی وقت، اپنے آپ سے، اور اپنی فطرت سے، کسی بھی بیرونی چیز سے تعلق کے بغیر یکساں طور پر بہتا ہے“ ۔
جگہ اور وقت کی نوعیت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنا ہم تصور کر سکتے ہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، کائنات ایک تین جہتی سپیس ہے جبکہ وقت آگے کی طرف رواں دواں ہے، جگہ اور وقت، اگرچہ گہرا تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہ ایک دوسرے سے سراسر مختلف ہیں۔
جگہ اور وقت کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ سپیس میں ہم کسی بھی سمت جا سکتے ہیں، شمال یا جنوب، مشرق یا مغرب، اوپر یا نیچے۔ ایک مقام سے چل کر واپس اسی مقام پر واپس آ سکتے ہیں۔ لیکن ہم وقت میں صرف ایک سمت تک محدود ہیں۔ ہم ماضی سے حال اور پھر مستقبل میں جا سکتے ہیں۔ واپسی کا سفر نا ممکن ہے۔ یہ ایک معمہ ہے کہ وقت صرف ایک طرف سفر کرتا ہے، دوسری طرف کیوں نہیں؟ ہم ماضی کی طرف کیوں سفر نہیں کر سکتے؟
ایک مقررہ وقت پر اگر ہم آ سمان کی طرف دیکھیں تو ہم کائنات کا ایک بڑا حصہ دیکھ سکتے ہیں۔ ایسا وقت کے لیے درست نہیں ہے۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہم ماضی، حال اور مستقبل کو، سب ایک ساتھ، ایک مقام سے دیکھ سکیں۔ ماضی ہماری یادداشت میں ہے، حال وہ ہے جہاں ہم رہتے ہیں، اور مستقبل ہمارے لیے بالکل نامعلوم اور ناقابل رسائی ہے۔
کائنات کی مکمل تصویر سمجھنا اور بھی مشکل ہے۔ ایک ایسی تصویر جس میں جگہ اور وقت دونوں شامل ہوں۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسا مقام ہونا ضروری ہے جہاں سے ماضی سے حال اور پھر مستقبل تک تین جہتی خلا کا نظارہ ہو، یعنی ایک تصویر جس میں وقت کی ڈائمینشن بھی شامل ہو۔ بحیثیت انسان، یہ ہمارے تصور سے باہر ہے کہ یہ مقام کہاں واقع ہو سکتا ہے۔ ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ کیسے ممکن ہو گا۔ یہ مشاہداتی نقطہ جگہ اور وقت کی حدود سے باہر ہونا چاہیے۔ اس کائنات سے باہر اور وقت سے آزاد۔
زیادہ تر فلسفیانہ افکار، تمام علوم اور تقریباً تمام مذاہب ان چیزوں پر مبنی ہیں جن کو ہم سمجھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں اور تصور کر سکتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمارا پختہ یقین ہے کہ ماضی، ماضی ہے اور اس پر اثر انداز نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن ہم اپنے مستقبل کی تشکیل کے لیے حال کو استعمال کر سکتے ہیں۔
سائنس فکشن ایسے منظرناموں سے بھری ہوئی ہے جس میں وقت کا سفر (حال سے ماضی کی طرف جانا یا حال سے دور مستقبل کی طرف جانا) ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طرح کے تصورات تضادات سے بھرے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ چرچا اس منظر نامے کا ہے جس میں موجودہ دور میں ایک شخص سو سال پہلے (اپنی پیدائش سے پہلے ) ٹائم مشین کے ذریعے واپس جاتا ہے، اپنے والدین کو مار ڈالتا ہے، اور پھر حال میں لوٹ آتا ہے۔ یہ ناممکنات میں سے ہے اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماضی کی طرف سفر ممکن نہیں۔
یہ خیال کہ ایک نقطہ خلا اور وقت کی حدود سے باہر موجود ہو سکتا ہے جہاں سے تمام کائنات اور وقت کا ایک ساتھ مشاہدہ کیا جا سکے، ناقابل فہم ہے۔ اگر یہ ممکن ہو تو اس سے کئی عجیب نتائج اخذ کر سکتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ مستقبل پہلے سے متعین ہے۔ ”مبصر“ کی نظر میں ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس ’مبصر‘ کی شناخت خدا کے طور پر کی جا سکتی ہے، ایسا خدا جو جگہ اور وقت کا خالق ہے، جو اس کائنات سے آزاد ’موجود‘ ہے۔ زندگی پھر بچوں کے کھیل کی طرح غیر اہم دکھائی دیتی ہے۔ اس صورت میں انسانی زندگی کی حیثیت اکویریم میں تیرتی مچھلی سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ بلکہ اس سے کہیں بدتر۔ حقیقت کے بارے میں سوالات بے معنی ہو جاتے ہیں کیونکہ کسی کے پاس کوئی بھی ایسا طریقہ نہیں ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو حقیقی اور مطلق قرار دے سکے۔
ایسا لگتا ہے کہ سب سے زیادہ قابل فہم منظر نامہ وہ ہے جس پر ہم یقین کر چکے ہیں، ایک ایسی کائنات جس میں حقیقی اور تین جہتی سپیس اور یک جہتی وقت موجود ہے، جو نیوٹن کے مطابق، ”کسی بھی بیرونی چیز سے تعلق کے بغیر یکساں طور پر بہتا ہے“ ۔
لیکن کیا یہ درست ہے؟ یہ منظر نامہ اگرچہ قابل فہم ہے لیکن اس میں بہت سے جواب طلب سوالات بھی ہیں۔ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اسے کس نے بنایا؟ وقت کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ یہ منظر نامہ مذہبی نقطہ نظر سے بھی انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے : ہم ایسے خدا پر کیسے یقین کر سکتے ہیں جس کا وقت کے بہاؤ پر کوئی کنٹرول نہ ہو؟ اگر خدا ہے تو اصولی طور پراس کا وقت پر مکمل کنٹرول ہونا چاہیے۔
سائنس دان صرف ایک سمت میں وقت کے بہاؤ کی وضاحت کیسے کرتے ہیں؟ وہ وقت کے تیر کو ایک مشکل تصور کے لحاظ سے بیان کرتے ہیں جسے اینٹروپی (entropy) کہتے ہیں۔ اینٹروپی کیا ہے اور اسے وقت کے تیر کا تعین کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اینٹروپی کو عام آدمی کی زبان میں ڈس آرڈر کہا جا سکتا ہے۔ اضطراب میں اضافے کے لحاظ سے وقت کا تیر متعین ہوتا ہے۔
ایک سادہ مثال پانی کے گلاس میں نیلی سیاہی کا ایک قطرہ ہے۔ سیاہی کے قطرے میں تمام مالیکیول نیلے ہیں اور قطرے میں انتہائی منظم انداز میں موجود ہیں۔ تاہم، اگر ہم سیاہی کے اس قطرے کو ایک گلاس صاف پانی میں ڈالتے ہیں، تو سیاہی کے مالیکیول پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں اور چند ہی سیکنڈ میں پانی ہلکا نیلا ہو جاتا ہے جس میں سیاہی کے مالیکیول یکساں طور پر پورے گلاس میں پھیل جاتے ہیں۔ وقت کا تیر ایسا ہے کہ سیاہی کے قطرے کے مالیکیول ایک ترتیب شدہ حالت سے انتہائی بے ترتیبی کی طرف بڑھ گئے ہیں۔
جس چیز کا ہم کبھی مشاہدہ نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ ہلکے نیلے پانی میں موجود سیاہی کے تمام مالیکیول ایک کونے میں جمع ہوجائیں اور گہرے نیلے رنگ کا قطرہ بن جائیں، اور باقی کو صاف پانی کے طور پر چھوڑ دیں۔ اگر ہم کوئی ایسی فلم دیکھیں جس میں ہلکے نیلے رنگ کا پانی نیلے پانی کی بوند اور باقی صاف پانی میں بدل جائے تو ہمیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ فلم الٹی چل رہی ہے۔ یہ ایک طور حیران کن ہے کیونکہ سیاہی کے قطرے کے اندر کسی ایک مالیکیول کی حرکت سے وقت کے دھارے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مگر وقت کے تیر کا تعین پورے سیاہی کے قطرے کی بے ترتیبی میں اضافے، یا اینٹروپی میں اضافے سے ہوجاتا ہے۔
یہ سادہ سی مثال وقت کے تیر کی وضاحت کرنے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن یہ وقت کی نوعیت کے بارے میں بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی۔
وقت کا اسرار مزید گہرا ہو جاتا ہے اگر ہم کائنات کے بارے میں موجودہ علم۔ اس کی ابتداء، اس کی فطرت اور اس کے ارتقاء۔ کو مدنظر رکھیں۔ موجودہ سائنسی علم کے مطابق کائنات تقریباً 14 ارب سال پہلے ایک نقطہ سے شروع ہوئی تھی۔ تمام کہکشائیں اور کہکشاؤں کے جھرمٹ اس نقطہ پر مرکوز تھے جن کا سائز اس چھوٹی سے چھوٹی چیز سے چھوٹا تھا جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں۔ نہ جگہ تھی اور نہ وقت۔ تصور کرنا مشکل ہے! پھر ایک بگ بینگ ہوا، وقت بہنے لگا اور خلا پھیلنے لگی۔
ماضی سے مستقبل کی طرف وقت کا بہاؤ اور کائنات کی وسعت آج تک جاری ہے۔ اس وقت سائنس خلاء کی حیثیت اور بگ بینگ سے پہلے کے وقت کے بارے میں خاموش ہے۔ یہ تصویر ایک طرح سے وقت کے بہاؤ کی وضاحت کر سکتی ہے۔ جب پوری کائنات ایک نقطہ پر مرکوز تھی، تو ہر چیز ترتیب سے تھی اور اینٹروپی جو کہ بے ترتیبی کا پیمانہ ہے تقریباً صفر تھی۔ توسیع کے مرحلے کے دوران، بے ترتیبی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کا تیر ماضی سے مستقبل کی طرف جاتا ہے۔
کیا وقت کا تیر سمت بدل سکتا ہے؟ کچھ قیاس آرائیوں کے مطابق، ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اور پھر کمپریشن شروع ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بے ترتیبی یا اینٹروپی کم ہونا شروع ہو جائے گی اور شاید وقت کا تیر رخ بدل لے۔ ایسا ہوا تو وقت مستقبل سے ماضی کی طرف رواں دواں ہو گا۔ اگر انسان اس وقت تک زندہ رہے تو پہلے بوڑھے اور پھر جوان ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک پاگل نما لیکن ممکنہ منظر نامہ ہے۔
لیکن کیا یہ منظر نامہ درست ہے؟ اس وقت کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اگر کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ کی موجودہ شرح جاری رہی تو ہم مستقبل قریب میں اس کا جواب جان سکتے ہیں۔ ممکنہ کمپریشن کا ایک حیرت انگیز نتیجہ یہ ہو گا کہ کائنات دوبارہ اس قسم کے نقطہ پر واپس آ جائے گی جہاں سے یہ شروع ہوئی تھی۔ جگہ سکڑ کر صفر ہو جائے گی اور وقت رک جائے گا۔ ایک دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا ایک نیا بگ بینگ اس مقام سے ایک نئی کائنات کا آغاز کرے گا؟ کیا رکا ہوا وقت ایک مرتبہ پھر رواں دواں ہو گا؟
جگہ اور وقت کی ایک اور پراسرار خصوصیت جو نئے امکانات کو کھولتی نظر آتی ہے وہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے آتی ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی خیال یہ ہے کہ جگہ اور وقت ایک دوسرے سے آزاد نہیں ہیں۔ وہ ایک پیچیدہ انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ نظریہ، جس کا گزشتہ سو سالوں کے دوران متعدد تجربات میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا ہے، خلا کے بارے میں ہمارے تصور (تمام سمتوں میں یکساں ہونا) اور وقت کے بہاؤ (کائنات میں ہر جگہ یکساں ہونا) کو چیلنج کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، زمین جیسی کسی بڑی چیز کے اردگرد کی جگہ خمیدہ ہے، گھماؤ کسی زیادہ بڑے شے کے قریب بہت زیادہ ہے۔ دوسری حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ گھڑیاں دور کی گھڑیوں کے مقابلے میں بڑی چیز کے قریب آہستہ چلتی ہیں۔
اسپیس ٹائم کے بارے میں ہمارے نئے وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم مشتری جیسے بڑے سیارے پر زمین کی نسبت زیادہ دیر تک رہنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ یہاں فرق بہت چھوٹا ہو سکتا ہے۔ ہماری زندگی زمین کی نسبت مشتری پر صرف چند منٹ زیادہ ہو گی۔ تاہم، اگر ہم نیوٹران سٹار جیسی بہت زیادہ وزنی جگہ تک سفر کر سکیں، تو اپنی زندگی کا دورانیہ بہت زیادہ بڑھا سکتے ہیں۔ بلیک ہول کے قریب، ہم اصولی طور پر ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
اس گھمبیر موضوع پر پھر کبھی تفصیل سے بات ہو گی۔
کیا وہ دن آئے گا جب وقت کا معمہ حل ہو جائے گا؟ کیا اس سوال کا جواب مل پائے گا: وقت کیا ہے؟

