جناح ہاؤس۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا


بیانیے کی تلاش میں سرگرداں، حیران و پریشاں پی ڈی ایم کی جماعتوں خاص طور پر نون لیگ کی دلی مراد بر آئی ہے۔ اس لیے گزشتہ چند روز سے ہمہ وقت یہی راگ الاپا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی لگ بھگ ساری قیادت کو ایک مہینے کے لیے پابند سلاسل کر کے، میڈیا کی کنپٹی پہ پستول رکھ کے، اکا دکا چینل کو ڈرا دھمکا کے آف ائر کر کے، رانا ثناءاللہ اور مریم اورنگزیب جیسے نابغوں کو ہمہ وقت ٹی وی سکرینوں پر جلوہ افروز کر کے، عمران خان کا صحافتی بائیکاٹ کر کے انٹر نیٹ بند کر کے، طاقتوروں کی لمحہ بہ لمحہ پشت پناہی سے شہ پا کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے کہ کسی طرح بیانیہ بن جائے۔

مجھے نہیں پتہ تھا لاہور میں بھی قائد اعظم کا کوئی گھر ہے۔ شاید اسے ہمارے مائی باپوں نے اسی دن کے لیے چھپا رکھا تھا۔ اب اس کی تاریخ سرکاری صداکاروں کے ذریعے چبا چبا کر بیان کروائی جا رہی ہے۔ حسن نثار کی آواز بار بار کانوں میں گونجتی ہے ”او سارا پاکستان جناح ہاؤس ہے“ ۔ بہت سے بنیادی سوال ہیں جن کا جواب کوئی نہیں دے رہا بلکہ کنٹرولڈ میڈیا پر ان سوالوں کو طاقتوروں کی خوشنودی کے پیش نظر اٹھایا ہی نہیں جا رہا۔

شیخ سعدی نے کہا تھا حکمرانی اور جہانبانی کے رموز و اسرار بادشاہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ بادشاہی کے زمانے لد گئے مگر اس میں بھی کیا شک ہے کہ ہمارے سرکاری ملازم بادشاہوں سے کسی طرح کم نہیں۔ ہائیکورٹ کی حدود میں جو مس ایڈوینچر کیا گیا اور بعد میں جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چوری ہو گئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس پر آخر بات کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا امر مانع ہے کون روک رہا ہے؟ عمران خان نہ صرف بیرونی دنیا میں پاکستان کا سب سے موثر اور پر فخر تعارف ہے بلکہ پاکستانی عوام کا بھی سب سے بڑا ہیرو ہے۔

ایسے شخص کو ایسی تضحیک اور تذلیل کے ساتھ گرفتار کرنے کا حکم بھی تو کسی عقلمند نے ہی جاری کیا ہو گا کیا ہم کبھی اس کا نام جان پائیں گے؟ یہ سارا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا۔ مگر اس سرے کو کوئی نہیں پکڑے گا کیونکہ مقصد کے حصول کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔ مقصد واضح ہے عمران خان اور اس کی پارٹی پر پکا ہاتھ ڈالنا۔ اگرچہ یہ ہاتھ اوچھا پڑا مگر چونکہ دوسرے سرے پر کور کمانڈر ہاؤس ( جسے اب جناح ہاؤس کا نام دے دیا گیا ہے ) پڑ گیا اس لیے اسی کمزور بنیاد پر عمارت استوار کر لی گئی۔ بیانیے کی تلاش اور بیانیے کی بھوک اس قدر شدید تھی کہ سب سوال کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اور منہ میں کپڑا ٹھونس کر ایک طرف پھینک دیا اور رانا ثناءاللہ جیسے ترکھان کو بیانیے کی منجی ٹھوکنے پر لگا دیا۔ ٹویٹر، فیس بک، یو ٹیوب اور واٹس ایپ جیسے ”شرارتی بچوں“ کو ساؤنڈ پروف کمرے میں قید کر دیا۔

تعجب تو ان پر ہے جو ہمیشہ نپے تلے لفظوں میں بیان جاری کیا کرتے تھے اور دامن پر ذرا چھینٹ نہیں پڑنے دیتے تھے۔ ان کی مختصر پریس ریلیزوں کے ایک ایک لفظ سے تجزیہ نگار معنی و مفہوم کے سو سو جہان دریافت کرتے تھے اب کی بار ایسے اتاولے ہوئے کہ گرد کے بیٹھنے کا بھی انتظار نہ کیا اور غالباً پہلے سے تیار کردہ چارج شیٹ جاری کر دی۔ اے کاش وہ کچھ توقف کر لیتے۔ عدالت عالیہ کو بھی پتہ پھینک لینے دیتے مگر کیا کیجے!

وہ بدستور اسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان سے بڑا پتہ کس کے پاس ہو سکتا ہے اس لیے نوآموز کھلاڑی کی طرح چٹاخ سے پتہ دے مارا۔ خود کو بری طرح آشکار کر بیٹھے۔ بات پھر وہیں پہنچ جاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ بیانیہ بنانے کی جلدی۔ لگتا ہے یہ جلدی ہمارے سرکاری ملازم ”بادشاہوں“ کو بھی اتنی ہی ہے جتنی پی ڈی ایم کے بزر جمہوروں کو۔ ٹھیک ہے ایسے ہی بنانا ہے بیانیہ تو بنائیں۔ سوشل میڈیا کو بلیک آؤٹ کر کے، سیاسی کارکنوں کو محبوس کر کے، صحافیوں کو اغوا کر کے، نابالغ میجر جنرلز کے پریس ریلیزوں کی مدد لے کے جو بیانیہ بنے گا دیکھتے ہیں اس کی ہوا کتنے دن قائم رہتی ہے۔ مگر دستیاب الیکٹرانک میڈیا دیکھو تو لگتا ہے بیانیہ بن گیا۔

Facebook Comments HS