جلتی کرسی اور ٹوٹی توپ
احتجاج دھماکے گولیاں اور لاشیں کیا کچھ نہیں دیکھا اپنی صحافتی زندگی میں لیکن 9 مئی کا دن اک عجیب سی کشمکش میں الجھا کر خود تو نکل گیا پر عوام سمیت مقتدرہ سب ششدر ہو کر رہ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی نے کروایا یا اجتماعی رد عمل تھا۔
کیمرہ کندھے پر کینٹ میں پہلی بار کسی شناخت اور تلاشی کے بغیر داخلہ اک اچنبھے کی بات تھی ابتدائی چیک پوسٹ پر لوگ جھنڈے لیے ایسے خوش تھے جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا۔ تھوڑا آگے سڑک پر گاڑیوں اور پیدل چلتی عوام میں تمام عمر اور جنس کے لوگ موجود تھے۔ کور کمانڈر کے گھر پہنچا تو پہلے منظر نے ہی شل کر دیا۔ جلتے ہوئی کرسی اور ٹوٹی ہوئی توپ 75 برس پرانے مسائل پر مبنی قصہ سنا رہی تھی۔ اتنے بڑے مجمع میں اپنا کون اور پرایا کون کی تفریق ناممکن تھی۔ اکثر دوستوں سے پوچھتا تھا اگر عوام سڑکوں پر آ گئے تو واپسی مشکل ہوگی بس ایسا سماں لگ رہا تھا۔ کوئی لوٹ رہا ہے تو کوئی جلا رہا ہے لیکن کافی لوگ ایک جملہ بولتے سنے
” ہمارے ٹیکس کا پیسا ہے“ ۔
کچھ خواتین ٹیبل لیمپ صوفہ کشن اٹھائے باہر آ رہی تھیں۔ ایک مرد اپنے ساتھ بڑا بیگ لیے اس میں کچھ ٹھونس رہا تھا ساتھ کھڑی عورت ہاتھ میں درجن سے زائد کھانے کی پلیٹ لیے بیگ میں جگہ بننے کا انتظار کر رہی تھی۔ میں گھر کے اندر توڑ پھوڑ کی تصاویر بناتا رہا پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں توڑی جا رہی تھیں۔ پہلے کور کمانڈر کے گھر کے آنگن میں آگ لگی ہوئی تھی دیکھتے ہی دیکھتے گھر کو بھی آگ لگانی شروع کر دی۔
مظاہرین میں سے ایک میری طرف لپکا اور گالیوں کی بوچھاڑ کر دی کہ تصویر نہ بناؤ ورنہ برا حال کر دوں گا۔ خیر اپنا کام کر کے باہر نکلا تو پی ٹی آئی کی ممبر کی گاڑی کچھ نوجوانوں نے روکی ہوئی تھی اور بول رہے تھے آپ یہاں سے نہیں جا سکتے ہم آپ کے لیے یہاں آئے ہیں۔ اس جملے نے مجھے بالکل حیران نہیں کیا کیونکہ جس طرح بھوک اور مہنگائی اس ملک میں قابض ہے تو یہی ردعمل ہونا تھا۔
افسوس صرف یہ ہے کہ اگر فوج چاہتی تو مظاہرین ایک انچ کینٹ میں داخل نا ہو سکتے لیکن انہوں نے صحیح عمل کرتے کوئی رکاوٹ نہیں بنائی لیکن املاک کو جلا کے مظاہرین نے اپنے ساتھ ساتھ سارے ملک کو بین الاقوامی سطح پر شرمندہ کروایا۔ جو کہتے ہیں ایجنسیوں نے یہ کیا ان سے سوال ہے کیا زمان پارک میں بھی وہی بندے تھے جو کئی دنوں سے وہاں کھڑے کنٹینر سرکاری گاڑیاں اور درختوں کو آگ لگا رہے تھے۔


