حقیقت پر مبنی فیصلے یا جذبات کے اندھیرے میں اٹھائے قدم

ہمارے پاس وسائل کی قلت ہے، مادی طاقت و قوت کا فقدان ہے اور جو تھوڑا بہت ہے بھی تو وہ انہیں کا مرہون منت ہے جن کے خلاف ہم برسر پیکار ہونے کی سوچ رکھتے ہیں۔ جتنی بھی طاقتیں تشدد کی راہ پر چلی ہیں وہ اپنے مطلوبہ مقاصد تو حاصل نا کر سکی ہیں لیکن خود مٹ گئی ہیں۔ خود ساختہ بڑے بڑے سورماؤں سے لے کر چھوٹے چھوٹے مصنوعی دلاور تک ہر ایک نے وقتی تباہی تو مچائی ہے لیکن نتیجے میں خود ہلاک ہوئے ہیں اور اپنی قوم کو دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا ہے۔ اب اگر ایک پتھر ان کی قوم پھینکتی ہے تو رد عمل کے طور پر گولیاں برسائی جاتی ہیں مزید دہشت گرد کا لفظ جزو لاینفک کی طرح ان کے ساتھ چسپاں کر دیا گیا ہے۔ آج تک اس دھبے کو چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ناکام نظر آتے ہیں۔
دنیا کا منظر نامہ بدل چکا ہے، شکست و ریخت، فتح و کامرانی کے پیمانے تبدیل ہوچکے ہیں، میدان جنگ کا نقشہ بدل چکا ہے، طریقہ جنگ بدل چکا ہے، جاسوسی کی صورتیں بدل چکی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں کامرانی ٹکراؤ کی صورت میں حاصل نہیں کر سکتے ہیں بلکہ علمی گراف کو بلند کر کے، اقتصادی حالات مضبوط کر کے، سائنس کے میدان میں ترقی کر کے، دنیا کے بازار میں اپنی مصنوعات کا انبار لگا کر ہی فتح حاصل کر سکتے ہیں۔ آج امریکہ کے قلب میں جاپان اپنے مصنوعات کے ذریعہ گھس چکا ہے، پچاس پرسنٹ سے زیادہ امریکی جاپان کے پروڈکٹس کو استعمال کرتے ہیں۔
اس کے برعکس مسلمان علمی میدان میں کہاں پر کھڑا ہے یہ ہر کوئی جانتا ہے، اقتصادی دنیا میں ہماری کیا حالت ہے یہ دنیا جانتی ہے، سائنس کی دنیا میں ہمارا کیا حصہ ہے اس سے بھی ہر کوئی واقف ہے۔ دنیا کے بازار میں مسلمانوں کا کیا پروڈکٹس ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ہے گویا کہ کہ ہم مجموعی طور پر دنیا کے تمام شعبہ جات میں صفر ہیں۔ اس کے باوجود ہم ایسی سوچ رکھتے ہیں کہ بس کل ہی مسلمان امریکہ کے وہائٹ ہاؤس پر اسلامی جھنڈا لہرا دیں گے۔
ایک بات یاد رکھ لیجیے کہ اگر کسی بھی ملک کے مسلمانوں پر مصیبت آتی ہے تو اس کو صرف خود وہی دور کر سکتے ہیں دیگر ممالک سے مدد کی امید رکھنا بیکار ہے اور وہ مدد کو آئیں گے بھی نہیں کیونکہ وہ خود اپنے مفاد کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں ان کے خود اپنے داخلی مسائل ہیں صرف وہ اتنا کر سکتے ہیں کہ اس کی مذمت پر بیان دے سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ عالمی سطح پر ایک میٹنگ کر سکتے ہیں بس۔ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں وہ اس لیے کہ ہم کشمیر کے مسئلہ پر اسلامی ممالک کو دیکھ چکے ہیں، روہنگیا مسلمانوں کے لیے اسلامی ممالک نے کیا کیا ہے؟ کیا ان کے گھر دلا پائے؟ نہیں :صرف یہ کیا ہے کہ ان کی انسانی بنیادوں امداد کی ہے بس۔ فلسطین کے مسلمانوں پر دل کو تڑپا دینے والے مظالم پر اسلامی ممالک نے کیا رول ادا کیا ہے کوئی بتاوے تو ذرا۔
اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم تشدد کے راستے سے ہٹ کر سیاسی جد و جہد کی راہ پر آئیں کیونکہ تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے جس کا نقصان بچوں، جوان اور عورتوں کی جانوں کے نقصان کی شکل میں ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم عالمی اخلاقی اصولوں اور سیاسی اصول کی زمیں پر کھڑے ہو کر اپنے مسائل کو سلجھانے کی کوشش کریں تو پہلے کی نسبت کافی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور اگر کامیاب نہیں بھی ہوئے تو نقصان بھی کچھ نہیں ہو گا۔
اس کے باوجود اگر تیر و تلوار پر ہی بھروسا ہے تو آپ بھی ذرا میدان میں آ کر دیکھ ہی لیجیے آپ نے اپنے خیال میں اپنی فتح کا جو شیش محل بنا رکھا ہے وہ منہدم نا ہو جائے تو پھر کہنا۔
اس لیے ہم کو چاہیے کہ جنگ چھیڑنے کی تحریک چلانے سے بہتر ہے کہ ہم تعلیم سیکھنے کی مہم چھوڑیں، خود کو اقتصادی اعتبار سے مضبوط کرنے کی کوشش کریں، سائنسی دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کی ذہنیت بنائیں، قدامت پسندی کو چھوڑ کر زمانے کی رعایت کرنا سیکھیں تلوار کے غازی بننے کے بجائے کتاب و قلم کے ارطغرل بنیں، آج قوم مسلم کو تلوار والا ارطغرل نہیں چاہیے بلکہ میدان علم کا ارطغرل چاہیے۔
اور اپنی آواز میں مضبوطی لائیں، اپنے مسائل کو دوسروں تک پیش کرنے کا طریقہ سیکھیں، دلائل اور مہذب لب و لہجہ میں گفتگو کرنا سیکھیں لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں کے سامنے مسائل رکھتے ہیں تو گفتگو میں وہی جلسوں والا انداز ہوتا ہے بلند آہنگ آواز کے ساتھ، وہی آواز میں کرختگی، لہجہ میں سختی، گفتگو دلائل سے زیادہ جذبات سے بھر پور ہوتی ہے آخر میں نتیجہ اس بات پر نکلتا ہے کہ ہمارا مقدمہ مضبوط ہونے کے باوجود کمزور ہوجاتا ہے۔

