کیا تحریک انصاف دہشت گرد جماعت ہے؟
9 مئی 2023 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن جس طرح پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی عدالت کے احاطے سے غیر قانونی طور پر گرفتاری کی گئی اور جس طرح ریاستی املاک کو نقصان پہنچا کر عوام کو پیغام دیا گیا کہ حکومتی مشینری ہی ریاست و قانون سے بالاتر ہوتی ہے اور طاقت کسی اصول اور ضابطے کو نہیں مانتی اور نہ ہی کسی قانون کو مانتی ہے۔ اتنے بڑے اور مقبول لیڈر کی اس طرح گرفتاری کے بعد عوام کی جانب سے اور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ردعمل آنا یقینی تھا اور وہی ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عمران کے چاہنے والے سڑکوں پر جمع ہو گئے۔ اور یہی وہ موقع تھا جہاں پر پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمزوریاں کھل کر سامنے آئیں کہ پی ٹی آئی بطور جماعت ردعمل دینے کے بجائے عمران خان فین کلب ردعمل دے گئی۔
آپ عمران خان کی سیاسی پالیسیوں سے متفق ہوں یا نہ ہوں، عمران خان کی سیاسی اپرووچ آپ کو بھاتی ہو یا نہ ہو مگر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عمران خان اس وقت ملکی تاریخ کے سب سے مقبول رہنما ہیں اور آج وہ عوام کے اعتماد کے حوالے سے جس مقام پر براجمان ہیں بلاشبہ اس کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے اور جب کوئی اتنے بڑے مقام کا حامل شخص کسی جماعت کا لیڈر بن جائے تو پھر دیگر تمام قیادت سیاسی طور پر بونی نظر آتی ہے اور فیصلہ سازی میں بھی دانشمندی کے بجائے جذباتیت کا عمل دخل زیادہ ہوجاتا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری شاید ایسا موقع تھا جس کا بہت سی طاقتیں انتظار کر رہی تھیں اور اس موقع کو انھوں نے پاکستانی سیاست اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔
Mob Mentality یعنی ”بپھرے ہوئے ہجوم کی ذہنیت“ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ایسا ممکن ہی نہیں کہ بغیر کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے اتنے منظم انداز میں Mob Mentality کا استعمال کیا جا سکے، پاکستان میں کوئی بھی سیاسی گروہ اتنا منظم نہیں اور نہ ہی ان کی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اتنی باریک بینی سے ایسے معاملات کو دیکھیں اور اس طرح کی تنظیم تیار کریں میں پچھلے ایک سال سے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اور سیاسی ڈھانچے کا چشم دید گواہ ہوں اور بہت قریب سے مشاہدہ کر رہا ہوں مجھے ان میں کسی قسم کی کوئی ایسی سرگرمی رکھنے والا نیٹ ورک نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی مشکوک قسم کی کوئی سرگرمی نظر آئی جو انتشار کی طرف لے جاتی ہاں یہ ضرور تھا کہ پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا پر بھرپور سپورٹ حاصل تھی جس کی وجہ سے چند ہی منٹوں میں اس کے سپورٹرز احتجاج کے لیے اکٹھے کیے جا سکتے تھے اور وہ ایک اچھی خاصی تعداد میں اپنی مدد آپ کے تحت پہنچ جاتے یہ احتجاج چوں کہ تنظیموں اور مقامی قیادت کی موجودگی میں ہوتا تھا اس لیے پرتشدد کارروائیاں نہ کی جاسکیں۔
25 مئی 2022 کو بھی پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان اسلام آباد پہنچ چکے تھے اور خون خرابہ کا خدشہ تھا جسے عمران خان کی دانشمندی نے بچا لیا، اسی طرح جب عمران خان پر حملہ ہونے کے بعد لانگ مارچ کا آخری پڑاؤ جس میں لاکھ کے قریب افراد راولپنڈی پہنچ چکے تھے وہاں سے بھی عمران خان نے عوامی سپورٹ دکھا کر واپسی کی راہ لی اور اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کیا اور ٹکراؤ سے گریز کیا جو کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو کرنا چاہیے تھا۔ ٹکراؤ کی صورت میں یقینی طور پر ملک کا نقصان تھا، صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی تھی عمران خان نے نہایت کامیابی سے اس صورتحال کو کنٹرول کیا اور کارکنان کو واپس گھروں میں بھیجا۔
سیاسی قیادت کو گفت و شنید کا رستہ کبھی ختم نہیں کرنا چاہیے اور تحریک انصاف کا قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ ایک غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا جس کا خمیازہ ملک اور تحریک انصاف دونوں کو بھگتنا پڑا اگر پی ٹی آئی قومی اسمبلی سے استعفے نہ دیتی تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی اور مگر پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی نے پی ڈی ایم قیادت کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جبکہ صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی حکمت عملی نہایت شاندار تھی جس سے ایک آئینی بحران پیدا ہوا اور سسٹم کے پرزے اس آئینی بحران کا حل نکالنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم آمنے سامنے رہتے مگر پی ڈی ایم کی قیادت نے نہایت کامیابی سے اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جو کہ تشویشناک امر ہے اور ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ پچھلے ایک سال سے پرامن احتجاجی تحریک چلانے والی جماعت کے مظاہرے 9 مئی کو پرتشدد کیسے ہو گئے؟ اس سب کی اعلی سطحی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ عوام کے سامنے سچ آ سکے ادھورا سچ پراپیگنڈے کے لیے تو استعمال ہو سکتا ہے مگر حقائق ادھورے سچ سے چھپ نہیں سکتے۔ وہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کارکنان اور عوام کو اشتعال دلایا اور جلاؤ گھیراؤ کیا؟ شہیدوں کی یادگار کو جلانے جیسا واقعہ دلخراش تھا جس کا کسی بھی صورت کوئی بھی ذی شعور دفاع نہیں کر سکتا۔
ان شہیدوں نے ملکی سلامتی کے لیے اور بقا کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی تھیں۔ کسی بھی جگہ پر پرامن احتجاج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کا حق ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس احتجاج کو پرامن رکھنے کی ذمہ داری بھی اس سیاسی جماعت ہی کی ہے لہٰذا تحریک انصاف کو بلا چوں چرا کے ان پرتشدد واقعات کی مذمت کرنی چاہیے جو بھی مقامی قیادت اس احتجاج کو پرامن رکھنے میں ناکام رہی یا وہاں موجود نہ تھی ان سے عہدے واپس لینے چاہئیں۔ راولپنڈی میں تو عامر محمود کیانی خود ہی اس واقعہ کے بعد تحریک انصاف سے راہیں جدا کرچکے ہیں حالاں کہ ان کی ذمہ داری تھی کہ بطور شمالی پنجاب صدر کے وہ اس احتجاج میں شامل ہوتے اور کارکنان اور ضلعی قیادت کو ایک لائحہ عمل دیتے مگر وہ اس سارے منظر سے مکمل غائب رہے۔
یہاں میں ساتھ ہی جس طرح پولیس بس ایف آئی آر میں موجود نامعلوم افراد کی تعداد پورے کرنے کے لیے ہر اس شخص کو جس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جس بے ہودگی سے گرفتار کر رہی ہے اور چادر و چاردیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے اس کی بھی مذمت کرنا چاہوں گا لیکن ظاہر ہے پولیس از خود یہ سب نہیں کر رہی بلکہ انھیں ایسا کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہوں گی لہٰذا گزارش ہے کہ پہلے ہی بہت سی نفرتیں پھیل چکی ہیں اور ان نفرتوں میں مزید اضافہ نہ کریں، دانتوں میں اگر کھانے کا کوئی ذرہ پھنس جائے تو اسے ٹوتھ پک کے ذریعے نکالا جاتا ہے نہ کہ دانت ہی توڑ دیے جائیں، دونوں طرف سے بلیم گیم کے بجائے دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہی ملکی مفاد میں ہو گا، شرپسند عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے سے پہلے اس کے نقصانات کا بھی سوچے لیکن ساتھ ہی ملک کی مقبول سیاسی جماعت کو سائیڈ لائن لگانا اور اس کے کارکنان کو ریاستی جبر کا نشانہ بنانا ختم کیا جائے یہ سب کسی کے لیے بھی خیر کا باعث نہیں بنے گا سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کا باعث بنے گا اور سیاسی استحکام کسی بھی سیاسی جماعت کو مائنس کر کے کبھی حاصل نہیں ہو گا عوام کی اجتماعی دانش کبھی بھی غلط نہیں ہوتی اور اس سارے معاملے سے نکلنے کے لیے عوام کی اجتماعی دانش سے رجوع کیا جائے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں اس لیے عوامی رائے عامہ کے ذریعے فیصلہ سازی کی جائے اور ملک کو اس دلدل سے نکالا جائے عوام الناس اس وقت شدید اذیت و کوفت سے دوچار ہیں اور تقسیم در تقسیم ملک کو مزید دلدل میں دھکیلے گی۔


