سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران کی گرفتاری کا احوال
آصف مسیح جو کہ مینارٹی ونگ فیصل آباد کا سٹی صدر ہے، کا نام 9 مئی کو آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کرنے والے اشخاص کی لسٹ میں آیا ہے۔ اور تب سے لے کر آج تک پنجاب پولیس 2 مرتبہ ان کے گھر کے تالے توڑ چکی، 6 ریڈ کر چکی جن میں سے 4 رات کے اندھیرے میں عمل میں لائی گئیں۔ تالے توڑنے کے بعد گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ کر چکی ہے، آصف مسیح کی والدہ بیمار اور لاٹھی کے سہارے چلتی ہے، جبکہ ایک معذور بھائی جو مستقل چارپائی پر رہتا ہے وہ بھی بیچارے کئی دن سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
حالانکہ وہ پولیس کو بتا چکے ہیں آصف اس گھر میں نہیں رہتا بلکہ وہ شادی کے بعد کہیں اور شفٹ ہو چکا ہے۔ مگر پنجاب پولیس کے بھئی کیا کہنے انہیں کسی معذور سے بیمار سے اور بزرگ سے سروکار نہیں ان کی تربیت ہی افسر شاہی کی ہے، جو آرڈر ملے ہیں بھلے وہ انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہیں ان پر تو عمل ہو گا۔ پولیس نے آصف مسیح کے سسر کو پکڑ لیا، کزن کو پکڑ لیا اور گھر والوں کو بے گھر کر دیا۔ جس کے بعد آصف مسیح نے خود ہی گرفتاری دے دی۔
زیادہ تر لوگ کہیں گے کہ آصف مسیح کو احتجاج سے پہلے یہ سب حالات کیوں نہ دکھائی دیے؟ تو ایک اور سوال بھی بنتا ہے کہ اگر آصف نے کوئی قانون توڑا ہے تو اس کی قیمت بھی آصف مسیح کو ادا کرنا ہے یا اس کے پورے خاندان کو ؟ جس طرح عدالتوں کے احکامات کے باوجود رہائی کے احکامات کا کھلے عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اور طاقت کے نشے میں جو قانون کی دھجیاں اب پنجاب پولیس اڑا رہی ہے اس کے بھی کوئی حدود و قیود ہیں یا وہ ہر طرح کے قوانین / حدود سے آزاد ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں دھت فوجیں کس طرح سے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچل دیتی تھیں۔ اور کچلنے کا طریقہ آج بھی روایتی ہے کہ متعلقہ شخص کا گھر بار جلا دو ، خاندان کے لوگوں کے موت سے زیادہ گہرا خوف دلا دو کہ وہ زندہ لاشیں بن جائیں، بزرگوں اور بچوں پر تشدد کرو اور خواتین کو بے آبرو کر دو تاکہ وہ خاندان کم از کم ان تین نسلوں تک بے انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی سوچے بھی تو خوف کے مارے آواز نہ نکال سکے۔ چونکہ طاقت اور اقتدار ہمیشہ سے باقی ہے بس طاقتور اور اقتدار کے مالک لوگ بدلتے رہتے ہیں اس لئے طاقت اور اقتدار کو خطرے سے بچانے اور قائم رکھنے کے لئے آج بھی روایتی انداز ہی اپنایا جا رہا ہے۔
ملک بھر سمیت فیصل آباد میں بھی 9 مئی کے پی ٹی آئی کے مظاہرین نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاجاً آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ کر دیا۔ اور واقعہ کے بعد کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے کے بعد ملک بھر بھی مظاہرین کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ جس میں شہر بھر کی قیادت کو نامزد ملزم گردانتے ہوئے پنجاب پولیس نے کارروائیاں شروع کر دیں۔ اور متعلقہ ملزمان اور اہلخانہ پر سکتہ طاری کرنے کے لیے اس حد تک پولیس کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں ملزمان کے گھر توڑنے سے لے کر گھروں کی خواتین، معذوروں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ملزمان کی عدم دستیابی پر خاندان کے دیگر افراد کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرنا اور تشدد کرنے میں کوئی قدغن نہیں ہے، بس ملزمان اور ان کے خاندان میں اس حد تک خوف سرایت کرنا چاہیے کہ دوبارہ سیاست میں آنے کا سوچیں بھی نہ۔
9 مئی کو شہر فیصل آباد میں پر ہجوم احتجاجی مظاہرے دو جگہوں پر ہوئے جن میں سے ایک آئی ایس آئی کا دفتر اور دوسری جگہ محترم جناب رانا ثنا اللہ کا گھر تھا۔ اور جو ویڈیوز اور اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ان سے واضح ہے کہ رانا ثنا کے گھر کو پنجاب پولیس کے چند اہلکاروں نے آنسو گیس کے استعمال سے بچایا جبکہ آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کو نہ تو کسی نہ روکا اور نہ ہی کسی پولیس افسر نے اس واقعہ کی فکر کی حالانکہ اس وقت نہ تو شہر میں نفری کی کمی تھی نہ کوئی سپیشل ڈیوٹیز تھیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر وزیر قانون کا گھر بچایا جا سکتا تھا تو آرمی تنصیبات کیوں نہیں؟
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاستی اداروں کو ملک میں کس طرح کے شہری چاہیے کیونکہ ان گرفتاریوں سے متاثرہ ہزاروں خاندان شاید کبھی بھی خوف کے عالم سے نہ نکل پائیں، اور خوف کے مارے ملک کے لئے کبھی کارآمد شہری بن سکیں گے؟ کیا وہ اس ٹراما سے نکل سکیں گے؟ جب آپ کے پاس سب ملزمان کی ڈیٹا ہے ان کے ایڈریسز ہیں فون نمبر ہیں تو ان کے گھر کی خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذوروں کا کیا قصور ہے؟ آپ ان کو پکڑیں جنہوں نے حملہ کیا ہے۔ مگر جب اس فری ہینڈ کے ساتھ پولیس کے لوگوں کے گھروں پر حملہ آور ہونے کا کہیں گے تو وہ انصاف کے تقاضوں پر سوال تو اٹھیں گے۔


