سوچ کا غریب


دل کا چھوٹا، محدود عقل، مال اور عارضی دنیا سے عشق، اپنی ’میں‘ کا پجاری، دل کا خالی، احساس کمتری اور بے حسی میں مبتلا آدمی یقیناً قابل ترس ہے۔ بہت سارے لوگ اسی معاشرے کا حصہ ہیں جو دولتمند ہونے کے باوجود سوچ کے غریب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لیے ہر شے کو ناپنے کا پیمانہ ہی مال و دولت ہوتا ہے اور خود کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ اللہ کی نعمتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں، نہ حلال اور حرام کی پہچان، نہ راہ خدا میں خرچنے کی ہمت، نہ سخاوت کا جذبہ اور نہ رب کے حکم کی پاسداری، وہ بس اپنی سوچ کی غلامی میں جی رہے ہوتے ہیں۔

کیا امیری مال و دولت کی موجودگی کو کہتے ہیں؟
اکثریت کا یہی خیال ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

امیری اور غریبی کی ابتدا ہمارے ذہن سے ہوتی ہے۔ توکل، قناعت اور شکر گزاری ہے تو خالی جیب والے سے زیادہ امیر اور مطمئن کوئی نہیں، اور اگر لالچ، حسد، اور بے حسی کی چادر میں لپٹی سوچ ہے تو جائیدادیں اور روپیہ پیسہ بھی کسی کام کا نہیں۔ پیسے نے نہ کبھی کسی مرتے کی جان بچائی ہے اور نہ کسی دنیا دار کی ہوس پوری کی ہے۔ لالچی انسان اپنی ہوس کے ہاتھوں اندر ہی اندر کھوکھلا ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے، حرام صرف حرام کمائی ہی نہیں، بلکہ وہ حلال کی کمائی بھی حرام ہے جس میں سے حقدار کا حق نہ ادا کیا گیا ہو، وہ حقدار جس کی تشریح دین اسلام نے کی ہے، وہ نہیں جس کو ہم اپنی بیمار ذہنیت سے حقدار کہہ کر خود کو عقل کل اور جنتی سمجھنے لگتے ہیں۔

غور کریں، کیا ہم اپنے مال و دولت یا آسائشوں کا سبب خود ہیں یا پھر محنت اور قابلیت سے بڑھ کر نصیب اور اللہ کی رضا اصل وجہ ہے۔ یقینی بات ہے اگر اللہ کی مدد شامل نہ ہو تو نہ ہم مال و دولت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ اس کو چھن جانے سے روک سکتے ہیں۔ اگر کوئی غریب ہے تو اس لیے بھی کہ میں اور آپ غاصب اور قابض ہیں۔ اللہ تو وہ ہے جس نے ہر کسی کا رزق اتارا ہے۔ مال و دولت کی فراوانی اللہ کے پسندیدہ ہونے کی وجہ سے ہر گز نہیں ہے، یہ غلط فہمی دور ہونا ضروری ہے۔ اللہ کی تقسیم اور آزمائش کا نظام ہی ایسا ہے کہ کسی کو دے کر آزماتا ہے تو کسی کو نہ دے کر اور کسی کو دے کر واپس لے لیتا ہے، مال و دولت ہو اولاد یا کوئی اور نعمت۔ اس لیے توبہ اور شکرگزاری کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور رب کی نافرمانی سے ہر وقت ڈرنا اور بچنا چاہیے۔

سورہ مومنون میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔

”کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے جو انہیں مال و اولاد عطا کی ہے اس لیے ہے کہ ان پر اچھائیوں کے دروازے کھول دیے ہیں، ایسا نہیں ہے، وہ اس بات کو نہیں سمجھتے“

مالدار ہو کر مال پر قابض ہوجانا یا صاحب اولاد ہونے کا گھمنڈ ہونا سوچ کی غربت ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بے اولادوں کو بے اولادی کا طعنہ دے دیتے ہیں، کسی کے پاس لے پالک بچہ ہو تو اسے بے بسی کا احساس دلا دیتے ہیں، دل دکھاتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا و آخرت کی سزا کو سہنا آسان نہیں ہے۔ ایک بندہ خدا نے کسی کی لے پالک اولاد کو یہ کہ کر حقیر، کمتر اور نالائق کہ ڈالا کہ اس کے اصل ماں باپ غریب بھی ہیں اور غیر تعلیم یافتہ بھی۔ یہ سب سوچ کی غربت نہیں تو اور کیا ہے۔

کچھ سالوں پہلے کی بات ہے۔ مغربی انڈین ریاست مہاراشٹرا کے ایک گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھانے والے استاد کو 12 ہزار اساتذہ میں سے سب سے غیر معمولی اور بہترین استاد چنا گیا تھا۔ اس استاد کی سخاوت اور سوچ کی امیری دیکھیں کہ اس نے اپنی دس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقابلے میں حصہ لینے والے دیگر افراد کے ساتھ یہ کہہ کر بانٹ لی تھی کہ اساتذہ ہمیشہ دوسروں میں بانٹنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یاد رہے، یہ استاد ایک غیر مسلم تھا۔

کوئٹہ کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی ماریہ شمعون نے اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن افسروں کی آسامیوں کے لیے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کچھ عرصہ قبل پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اس کے والدین نے اچھا گھر نہیں بنایا اور نہ ہی اچھے کپڑے خریدے بلکہ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ بچوں کی تعلیم پر لگایا جس کے نتیجے میں وہ آٹھ بہن بھائی نہ صرف اعلی نمبروں سے پاس ہوتے رہے بلکہ سب اچھی ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بھی ایک ایسے غریب گھرانے کی کہانی ہے جس نے مال و دولت سے محرومی کے باوجود اپنی سوچ اور حوصلوں کو امیر رکھا، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

ڈاکٹر سلیمہ رحمان کو پاکستان میں پہلی افغان مہاجر خاتون ڈاکٹر قرار دیا گیا جنھوں نے غربت اور مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر سلیمہ کے مطابق ان کی پیدائش 1991 میں اس وقت ہوئی جب ان کے والدین خیبر پختونخوا میں صوابی کے مہاجر کیمپ میں مقیم تھے۔ پیدائش کے وقت ان کی والدہ کی طبیعت کچھ خراب ہوئی تو ان کے والد نے انھیں لے کر مردان جانا تھا مگر مالی وسائل کم ہونے کے باعث وہ ایسا نہ کر سکے۔ وہاں پر زبان کا بھی بہت بڑا مسئلہ تھا اور خرچ کرنے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔ اس وقت ان کے والدین نے پکا ارادہ کیا کہ دوسروں کی تکالیف کم کرنے کے لیے بیٹی کو ڈاکٹر بنائیں گے۔

ان تمام واقعات سے پتا چلتا ہے کہ ماں باپ کی تنگ دستی یا تعلیم کی کمی ذہن اور ہمت کی معذوری یا غریبی ہر گز نہیں ہے۔

رمضان کا مہینہ گزرے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے۔ میں نے اس ماہ مبارک کے موضوع پر بہت سارے مضامین لکھے ہیں۔ چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا معاملہ ہے اس لئے کچھ نئی اور کچھ پرانی باتیں دوبارہ کر لیتے ہیں۔ رمضان وہ مہینہ ہے جو باقی گیارہ مہینوں کے لئے ہماری تربیت کرتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں باقی مہینوں سے زیادہ سخاوت اور بخشش کیا کرتے تھے۔ رمضان کا ایک اہم پیغام فقراء اور مالداروں کے درمیان مساوات اور برابری قائم کرنا اور خود کو ذہنی غربت سے نکالنا ہے۔ روزہ، روزے دار کو غیبت، تہمت اور بہتان سے محفوظ رہنا سکھاتا ہے۔ آنکھ، کان، تمام اعضاء اور سوچ کو برائی سے روکتا ہے۔ روزہ اللہ کا وہ تحفہ ہے جو ہمیں بغض، حسد، کینہ، زبان درازی اور فحاشی جیسی بری عادتوں سے بچنے کا درس دیتا ہے اور اس کے لئے تربیت فراہم کرتا ہے۔

اپنے ذہن اور سوچ کو غربت سے نکالیں تو نا صرف اللہ کی عطا کردہ نعمتیں نظر آنے لگیں گی بلکہ مخلوق خدا کے غم اور تکالیف کا احساس بھی جاگے گا، بھلائی کا جذبہ پیدا ہو گا، اسی جذبے کا کمال ہے کہ بہت سی روحانی بیماریوں سے شفاء مل جاتی ہے۔ کوشش ضروری ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments