ہم کیا کر سکتے ہیں؟
یہ جملہ اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔ پاکستانی سماج میں ہر دوسرا شخص یہی جملہ دہراتے ہوئے خود کو پتلی گلی سے نکالنے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس جملے میں لفظ ”ہم“ کا صیغہ جمع کا ہے واحد نہیں۔ اس کو یوں کہا جائے کہ ”میں کیا کر سکتا ہوں“ تب بات بنتی ہے اور بات آگے بڑھتی ہے۔ ”ہم“ اور ”میں“ میں معمولی فرق گرامر کا ہو سکتا ہے، معنی کا ہو سکتا ہے، عام فہم استعمال کا ہو سکتا ہے لیکن احساس اور عملی توجیہ کر کے ان دو لفظوں کی تحلیل کر کے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس معمولی فرق کے درمیان زمین اور آسمان کی وسعت حائل ہے۔ ”میں“ ایک انفرادی احساس ہے، ذمہ داری ہے، تشخص ہے اور کردار کی عملی شکل ہے جبکہ ”ہم“ اجتماعیت، گروپ بندی، سماجی و تہذیبی معنویت کی عکاسی کا مظہر ہے۔
جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ”میں کیا کر سکتا ہوں“ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں یہ کر سکتا ہوں لیکن میں یہ نہیں کروں گا، آپ سے جو ہو سکتا ہے کر لیجیے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ”ہم کیا کر سکتے ہیں“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود نہیں بول رہا، اس کی زبان میں کسی اور کا لقمہ پڑا ہے جو اسے ”میں“ کے معمولی درجے سے ”ہم“ کے اعلیٰ منصب تک لے آیا ہے۔ آپ کو یہ تفہیم عجیب اور لایعنی سی محسوس ہو رہی ہو گی۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔
بات دراصل یہ ہے کہ الفاظ سے کسی قوم، نسل، گروہ، قبیلہ، سماج، فرد، انسان اور شخص کی انفرادی و اجتماعی نفسیات میں کارفرما تعمیر و تخریب کے عوامل کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور زوال آمادہ قوموں، نسلوں اور تہذیبوں کی ترقی و تنزل میں یہ عام فہم روزمرہ استعمال کے الفاظ ان کے انفرادی و اجتماعی تشخص کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ لفظ ”میں“ سے متصل روزمرہ گفتگو کا حامل شخص انانیت، نرگسیت، تکبر، رعونت اور کبر کا شکار ہو گا اور لفظ ”ہم“ سے متصل انسان کسی گروہ، نسل، قبیلے، ذات اور خاندان کی نمائندگی کرتا ہو گا جس کے پیچھے اس کی ذات کے علاوہ پورا اژدہام ہے جس کے توسط سے اس کے ہاں ”ہم“ یعنی ”میں“ سے آگے کی ا نا، نرگسیت، رعونت اور کبر موجود ہوتا ہے۔
پاکستانی سماج کی موجودہ صورتحال میں کسی ایک طبقے سے متصل افراد کی عام فہم روزمرہ گفتگو پر مشتمل الفاظ کا انفرادی جائزہ لے کر دیکھئے۔ آپ کو بادی النظر میں یہ واضح ہو جائے گا کہ انسان بذات خود بول رہا ہے اور جو کہہ رہا ہے یہ اس کے اپنے خیالات ہیں اور اپنی ذاتی رائے ہے یا کوئی اور ہے جو اس میں بول رہا ہے ”میرے وچ میرا یار بولدا“ والی صورت حال ہے۔
مثال کے طور پر پاکستان کی سیاسی جماعت کے کسی نمائندہ کی گفتگو کو سنیے۔ پہلے جملے میں لفظ ”ہم“ ہو گا۔ گفتگو کا ماحصل ”ہم کوشش کر رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں، ہم یہ کریں گے، ہم نے یہ کیا ہے، یہ ہمارا ہی کام ہے، یہ صرف ہم کر سکتے ہیں“ وغیرہ۔ اسی طرح مذہبی جماعت کے رکن کی گفتگو کو لے لیجیے، سماجی ایکٹیوسٹ کی گفتگو کو ملاحظہ کیجیے۔ پاکستان کی 2021 ء کے مطابق 23 کروڑ آبادی میں کم و بیش دس کروڑ افراد لفظ ”ہم“ استعمال کرتے ہیں۔
اس محتاط اندازے سے پاکستانی سماج کی اجتماعی سوچ، افکار، خیالات، احساسات اور ارادوں کے ازدحام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دس کروڑ افراد ”اجتماعیت“ کی وحدت میں پروئے ہوئے ہیں۔ اس اجتماعی وحدت کا نتیجہ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ صفر بٹا صفر۔ ایک ضرب المثل مشہور ہے ”ایک، ایک، دو گیارہ“ اس کا مفہوم سب پر عیاں ہے۔ ایک، ایک ہی ہوتا ہے چاہے وہ کچھ بھی کر لے اور دو، دو گیارہ، سے بائیس ہو سکتے ہیں، بائیس سے بائیس کروڑ ہو سکتے ہیں لیکن یہ دس، سات، تین سے ایک نہیں ہو سکتے۔ یہ وہ مختلف نسلوں کے صدیوں کے تجربات کے نچوڑ ہیں جنھیں کسی بھی نکتہ نظر، زاویے اور تکنیکی تحلیلی حربے سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کیا صرف لفظوں میں اجتماعیت باقی ہے یا پھر یہ لفظ مداری کے ہاتھ کی ڈگڈگی ہے جس کا مقصد کھیل تماشا اور چہل کر کے پیسے اینٹھ کر اپنے پیٹ کی آگ کا ایندھن اکٹھا کرنا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر ہم پاکستانی لفظ ”ہم“ اور ”میں“ سے جان چھڑا کر خود کو صرف ”پاکستانی“ کے طور پر متعارف کروائیں اور لفظوں کے جنجال میں سچائی کو چھپانے سے گریز کریں، جو کیا ہے ؛اس کی ذمہ داری لے لیں اور آئندہ کو گزشتہ سے بہتر بنا لیں تو بات بن سکتی ہے۔ یہ تیس چالیس کروڑ افراد؛جنھیں گزشتہ بیس برس سے لفظ ”ہجوم“ کہہ کر ہم خود اپنی تذلیل کر رہے ہیں۔ خدارا! اس تذلیلی روئیے سے سے اجتناب کریں اور خود کو ”قوم“ تسلیم کریں۔ بے شک قوم نہ بنیں۔ (ہمارے کرتوت کے پیش نظر) فی الحال کوئی مائی کا لال ہمیں زبر دستی قوم بنانا بھی نہیں چاہتا۔
دنیا بھی میں وہ سبھی کچھ ہوتا ہے اور تسلسل سے ہو تا رہے گا جو ہمارے ہاں کارفرما ہے۔ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جہاں رشوت، بدعنوانی، سود خوری، چوری، زنا، ڈاکا، لوٹ مار اور جانے کیا کچھ نہیں ہوتا۔ پوری دنیا کی برائیاں، مصائب، آلام اور زوال کے سلسلے صرف پاکستان کے مقدر میں لکھ دیے گئے ہیں۔ یہاں ہر شخص دوسرے کو برا کہتا ہے اور خود کو سچا گردانتا ہے۔ یہ ”میں“ اور ”تو“ کا کھیل بھی ہے۔ میں بھی وہی ہوں جو تو ہے اور تو جو ہے وہ میں ہی ہوں۔ اس میں اور تو کے کھیل میں سچائی اور جھوٹ کے فرق کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ الفاظ سے کھیلنا ؛اب بند ہو نا چاہیے۔
حقیقت کو تسلیم کرنے والی قومیں اور نسلیں بہت کم زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ رب تعالیٰ نے یہاں ہر چیز کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنا یا ہے۔ قرآن میں اور دیگر الہامی کتابوں میں دنیا کو آزمائش کدہ قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کی اس توجیہ کو تسلیم نہ کرنے والے سائنس کے نکتہ نظر کائنات کے نظام کو دیکھ لیں۔ فلسفہ کی رو سے سمجھ لیں۔ جو کہہ دیا گیا ہے وہی سچ ہے اور حق ہے اور حق کا تعلق حقیقت سے ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی ذمہ داری کسی ایک جماعت، گروہ، نسل، خاندان اور ادارہ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ یہ پاکستانی سماج کی اجتماعی شکل ہے۔ اس مکروہ اور ناقابل یقین شکل کو پاکستان میں بسنے والے ہر شخص نے ایک دوسرے سے مل کر، ایک دوسرے کو لوٹ کر، ایک دوسرے کو دھوکا دے کر، ایک دوسرے کے حقوق پر ڈاکا مار کر اور ایک دوسرے کی گردن کاٹ کر پورٹریٹ کیا ہے۔
اگر آپ سے سمجھتے ہیں کہ یہ سب کسی ایک فرد کا کیا دھرا ہے اور وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا تو اس ایک فرد کو یہ سب کچھ کرنے کا اختیار دینے والے باقی افراد کو ڈھونڈا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ ایک فرد یعنی صرف ایک فرد پورے ملک کے افراد کی مجموعی طاقت پر کیسے اختیار حاصل کر سکتا ہے۔ یہ کوئی معجزاتی یا کرشماتی کارنامہ ہے یا کچھ اور ہے اور وہ کیا ہے؟ بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے جہاں سے یہ مضمون شروع ہوا تھا کہ ”ہم کیا کر سکتے ہیں“ اس جملے میں اس قدر بے بسی، بے اختیاری، مجبوری اور لاچاری موجود ہے کہ دنیا بھر کے فلاسفر، حاکم، دانا اور مبلغین اس جملے میں پوشیدہ یاسیت کے اس جمودی تسلسل کا توڑ اور تدارک نہیں کر سکتے۔
ہر شخص اپنی جگہ ذمہ دار ہے۔ ہر شخص اپنے علاوہ دوسرے کی جان، مال اور عزت کا محافظ ہے۔ جب تک ہم اس عالمگیری، آفاقی اور دائمی فرمان ذات باری تعالیٰ پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ ہمیں کوئی بدل نہیں سکتا، ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا اور ہمیں کوئی تنزل کی اس آئے روز مزید بگڑتی صورتحال سے نکال نہیں سکتا۔

