ادب، ادیب اور قاری کا رشتہ

ایسی تحریر جو دل کو چھولے وہ ادب ہے، ادب ہمارے احساسات جمال کی تشفی کرتا ہے۔ ادب کا بنیادی مقصد ہے کسی شے کو دیکھنے میں حسن کی تلاش کرنے ہیں۔ ادب کوئی ایسی شے نہیں جو ہر کوئی ایک لکیر کے حساب سے کھنچے اور یہ کہیں کہ اس کو ادب کہتے ہیں۔ ادب کو ہر کسی نے اپنے مطالعے مشاہدے اور تجربے کے بنیاد سے ایک یا دو لائنوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہیں۔ جس طرح اگر ادب کے حوالے یہ کہوں بھی غلط نہ ہو گا۔ ایسی خوبصورت تحریر جو متاثر کرے، وہ ادبی تحریر کہلائے گی، اس میں زبان کا خوبصورت استعمال جذبات و احساسات اور مشاہدات کو پیش کیا جائے، ۔
انسان خواہ کسی بھی خطے کا ہو وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو اس کے احساسات و جذبات مشترکہ ہیں کچھ یا زیادہ، غم و نشاط ضروری ہو گا۔ ادب کسی بھی زبان میں ہو ادب کہلاتا ہے۔ ادب کے ساتھ جب بے ادبی سے پیش آیا جائے تو ادب بھی ایسے لوگوں کو اپنے دائرے میں جگہ دینا مناسب نہیں سمجھتا۔
ادیب کا کام ہوتا ہے کہ اپنے قلم سے معاشرے میں جنم لینے والی برائیوں اور اخلاقی قدروں کے معیار کو بلند کرے ناکہ پست اور مردہ خیالات کو سب کے سامنے پیش کر کے ادب کو بدنام کرے۔
ایم قادر خان لکھتے ہیں ”ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی ادیب کے لیے ضروری ہے وہ زندگی کو بہتر بنائے۔ ادیب کا یہ فن ہے کہ نثر نگاری کو اپنے قابو میں رکھے اسی طرح شعرا پر بھی یہ لازم ہے۔ اچھے اشعار ہوں کہا جاتا ہے شاعری حقیقت سے دور ہوتی ہے“ ۔ ہر کسی کا اپنا موقف ہوتا ہے میرا اپنا ماننا ہے کہ ادیب ہمارے معاشرے کا فرنٹ ائر ہیروز ہیں چونکہ ایک اچھے معاشرے کو بنانے میں ان ادیبوں کی خاصی مشقت ہوتی ہے، مہذب معاشرہ تب بنتی ہے جب ہمارے ادیب خود کی اہمیت کو پہچان سکے اور اپنے حصے کی سجاوٹ معاشرے کے لیے قربان کریں۔
ارسطو نے کہا تھا ”عقل سے ہم سب کچھ سیکھتے ہیں۔“ نقل بیک وقت دو کام دیتی ہے ایک ”درس“ دوسری ”دیکھ کر محسوس کرنا اور اس سے اچھا کرنا۔“ وہ ادب جس کو نثر سے نثر بنانے کی کوشش ہوتی ہے بقول ایم قادر کے ”وہ ادب برائے زندگی ہے اور وہ ادب جس سے علم حاصل کرتا ہے وہ ادب جس سے زندگی بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے وہ ادب برائے زندگی ہے“ ۔
چونکہ آپ کا قلم آپ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے آپ چاہے سیاست پر لکھیں، انسانی حقوق پر لکھیں، عورت پر لکھیں، زندگی پر لکھیں، معاشرتی بگاڑ پر لکھیں یا مذہب پر خیالات کا اظہار کریں آپ کی تحریر آپ کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ ادیب ادب کو با ادب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کامیاب ادیب حقائق پرست بلکہ انسانی احساسات و جذبات کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے، اچھا ادیب اپنے کردار کے تخیل کو اصل حالت میں پیش کرتا ہے وہ ادیب ایسے تاثر پیش کرتا ہے کہ قاری اس کو اپنا محسوس کرے۔ قاری ایسا ہو جو ادیب کی تحریر کی گہرائی کو سمجھ سکے۔

