کیا 9 مئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا؟


سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے جبکہ جواب نہایت پیچیدہ پے۔ اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے آپ کو ماضی کے کچھ واقعات کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔ کیا عمران خان نے نے اپنے دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو جیلوں سے رہا کیا تھا؟ اور کیا عمران خان نے اپنے دور حکومت میں افغان بارڈر کھول کر افغان مہاجرین کو پاکستان میں آباد کاری میں سہولت فراہم کی تھی؟ وہ لوگ کون تھے؟ جس کی ایک سادہ سی مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ جب عمران خان پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا تھا تو اقبال خان نامی ٹی ٹی پی کا سابقہ رکن جو کہ مختلف مقدمات میں جیل میں قید تھا جس کو عمران خان کے دور حکومت میں رہا کر دیا گیا تھا اور کے پی کے بطور رکن تحریک انصاف کافی ایکٹیو تھا۔

خان صاحب پر فائرنگ کے واقعے کے بعد وہ عمران خان کی سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے زمان پارک پہنچ گیا۔ جس کے بعد عمران خان کے چاہنے والوں کے ٹویٹ بھی سامنے آئے کہ "اب سیکورٹی ٹرینڈ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اب اگر پولیس آئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا”۔ کیا جنرل فیض حمید اور عمران خان کے چاہنے والوں کے حامی فوج میں اچھے عہدوں پر ابھی تک تعینات تھے؟ اگر عمران خان حکومت، آرمی، اسٹیبلشمنٹ یا ریاست کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو کیا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انہیں اندرونی حمایت کو حاصل ہوگی؟

کیا عمران خان اور پارٹی کے اہم لیڈران ڈاکٹر یاسمین راشد، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی، شہریار آفریدی اہم تنصیبات پر حملے کے لے اکساتے ہوئے نظر آئے تھے؟ کیا ان کے بیانات اہم تنصیبات پر حملے کی وجہ بنے؟ کیا عمران خان کا فرید زکریا کو دیا گیا انٹرویو کہ جب مجھے رینجر نے گرفتار کیا تو لوگوں کا غم و غصہ آرمی پر حملہ کا باعث بنا اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ حملے عمران خان کے چاہنے والوں اور کارکنان نے کیے ہیں۔

اگر یہ ایک ٹریپ تھا تو کیسا ٹریپ تھا کہ حملے انہی جگہوں پر ہوئے جس بارے تحریک انصاف کے لیڈران حملے کی دھمکی دیتے ہوئے نظر آئے؟ کیا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کھل کر ان حملوں کی مذمت کی ہے یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے؟ جبکہ ان کے ایسے نہ کرنے کی وجہ سے چیف جسٹس بھی ان سے شاکی نظر آئے۔ اندر کے یار لوگ یہ بھی خبر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ ایک تحریک انصاف کی طرف سے رانا ثناء اللہ کے لیے ٹریپ تیار کیا گیا تھا جس میں عمران خان کی حامی اسٹیبلشمنٹ اور بعض عسکری اداروں کے افسران نے رانا ثناء اللہ کو یقین دلایا کہ آپ عمران خان کو پولیس نہیں تو بذریعہ رینجر گرفتار کروا سکتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ اس ٹریپ میں بری طرح پھنس بھی گئے انہوں نے وہی کیا جو عمران خان چاہتے تھے۔ عمران خان کو اپنی اس گرفتاری کا پہلے سے علم تھا۔ تحریک انصاف والے تمام پلاننگ پہلے سے کر چکے تھے اور تیار بیٹھے تھے کہ جیسے ہی عمران خان گرفتار ہوں گے وہ اہم تنصیبات پر حملہ کر دیں گے۔ کیا عمران خان خود اپنے کارکنان کو اپنی ذات بارے ریڈ لائن کا نعرہ نہیں لگواتے رہے۔ جب کہ اب انہی کارکنان کے والدین تحریک انصاف کے چیئرمین سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو پھنسا کر اور آگے کر کے اب چیئرمین صاحب خود بیک فٹ پر کیوں آ گئے ہیں اور ان تمام معاملات کی ذمہ داری لینے کو کیوں تیار نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ اگر خان صاحب کا ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا بیک فٹ پر کیوں چلے گئے ہیں؟ اب تو خان صاحب اپنے امریکن چاہنے والوں سے رابطے میں ہیں اور ان کے ذریعے امریکن اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کے حل کے لیے بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں جبکہ کارکنان کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کے تازہ ٹویٹ کے مطابق میں نے اپنے دورحکومت میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کسی بھی قسم کے اختیارات کا استعمال نہیں کیا تھا کوئی بھی پریشر نہیں ڈال تھا مزید انہیں موجودہ آرمی چیف سے کسی بھی قسم کا کوئی عناد نہیں ہے۔

اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کہ خان صاحب ابھی بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ اور آرمی کی حمایت کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ اگر خان صاحب واقعات اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے یا ہے تو خان صاحب کو مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے تھا۔ تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی تمام قیادت ان مذاکرات کی حامی تھی۔ خان صاحب اگر واقعی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں تو ان کو سب سے پہلے نواز شریف اور زرداری کے ساتھ مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھنا چاہیے۔

لیکن خان صاحب کا منصوبہ کچھ اور تھا جو کہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔ ان تمام معاملات کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے رویے کی تحریک انصاف کے خلاف جو کارروائیاں جاری ہیں ان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ سیاستدانوں کی اپنے مقاصد کے لئے پارٹیاں تبدیل کروانا، سیاسی پارٹیاں بنانا اور ان کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا کبھی بھی جمہوریت کا حسن نہیں رہا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی طرف سے تو پہلے ہی تحریک انصاف کے حق میں بیانات آئے ہیں کہ کسی بھی صورت میں تحریک انصاف کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

خان صاحب جو آج اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنی حرکات کی وجہ سے بیک فٹ پر چلے گئے ہیں اگر یہی وہ آج سے سات 8 ماہ پہلے سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ جاتے تو بہت سارے معاملات آسانی کے ساتھ حل ہوسکتے تھے سیاسی عمل جاری رہ سکتا تھا۔ خان صاحب اسمبلیوں میں موجود ہو کر بہترین اپوزیشن سرانجام دے کر حکومت وقت کے لیے مسائل پیدا کر سکتے تھے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اپنے لانچ کردہ پروگرام کو وائنڈ اپ کرنے کے درپے ہے۔ اس وقت اگر خان صاحب کو کوئی بچا سکتا ہے تو وہ دوسری سیاسی جماعتیں ہیں اسٹیبلشمنٹ نہیں۔

Facebook Comments HS