گوا، کابل اور ان کے درمیان ہے پاکستان
کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے دوست بدل سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں لیکن الحمدللہ ہماری ایک الگ ہی گنگا بہتی ہے کہ ہم شروع دن سے ایک بڑے ہمسایہ ملک کے ساتھ مسلسل کشمکش کا شکار ہیں۔ اس میں زیادہ قصور شاید ہمارے ہمسائے کا ہی ہو گا لیکن ہم بھی کسی موقعہ پر اس مسلسل کشمکش میں حصہ ڈالنے سے نہیں چوکتے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ شروع دن سے کشمیر ہمارے درمیان وجہ تنازعہ بنا رہا ہے اور کشمیر جسے ہم اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں اس کے حق ملکیت سے دستبردار ہونے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ پچھلے دور حکومت میں مگر ہمارے ایک صادق اور امین اور نام نہاد مقبولیت کا دعویٰ رکھنے والے ایک سلیکٹڈ وزیراعظم پر اس شہ رگ سے دستبرداری کا الزام ضرور ہے۔ حالات و واقعات کے مطابق اس الزام میں کافی وزن بھی ہے۔
پچھلے دور حکومت کے سلیکٹڈ وزیراعظم کی کارکردگی پر جہاں بہت سے سوال اٹھائے جاتے ہیں وہاں اس حکومت کے دوران خارجہ امور پر بھی بے تحاشا سوال موجود ہیں۔ اس سلیکٹڈ حکومت کے دوران ناقص خارجہ پالیسی اور اس حکومت کی نالائقی کے باعث پاکستان ساری دنیا میں تنہا ہو کر رہ گیا تھا۔ ہمارے قریب ترین دوست ممالک بھی ہم سے منہ موڑ چکے تھے۔ ایسی ناکام ترین خارجہ پالیسی رکھنے والی سلیکٹڈ حکومت کے بزرجمہر جب موجودہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ گوا کے خلاف جب بات کرتے ہیں تو ہر ذی ہوش شخص کا حیران ہونا فطری امر ہے۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ہندوستان پر تنقید کرنے والوں سے اگر سوال کیا جائے کہ آخر اس دورہ میں کیا خرابی تھی اور پاکستان کے وزیرخارجہ کو یہ دورہ کیوں نہیں کرنا چاہیے تھا تو آئیں بائیں شائیں اور جھوٹے الزامات کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی۔
انصافیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ گوا کیوں گئے؟ اب ان کو کون بتائے کہ ایبسولوٹلی ناٹ کا جو جھوٹا بیانیہ پچھلے ایک سال سے عمران خان اپنے فالورز کو بتا کر انہیں بیوقوف بنا رہا ہے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ ہندوستان حقیقت میں اسے آشکار کرنے کے لئے معاون ثابت ہوا ہے کیونکہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری گوا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ چین سے لے کر روس تک اس فورم کا حصہ ہیں اور بین الاقوامی تعلقات کسی شادی پر نام آخر میں لکھنے پر ناراض ہو جانے کا نام نہیں۔
تحریک انصاف کو صدمہ ہی شاید یہ ہے کہ نوجوان وزیرخارجہ ہندوستان میں بیٹھ کر بھارتی میڈیا اور اپنے پاکستانی ناقدین کا منہ بند کر آئے ہیں اور کل بھوشن سے لے کر کشمیر تک پاکستانی موقف کا خم ٹھونک کر اعادہ بھی کیا۔ تحریک انتشار انصاف کا نوجوان وزیرخارجہ سے ذاتی بغض و عناد اپنی جگہ لیکن کل تک امریکہ کے خلاف سازش لگانے اور آج امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی شاید صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور دیکھ بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ جب سر پر بالٹی رکھی ہو تو ناک سے آگے نظر بھی کیسے آئے گا۔
ہاں تو اب کابل کی جانب آتے تو وہاں بھی یہ جناب یہ فرماتے پائے جا رہے ہیں پاکستانی وزیر خارجہ اور افغانی عبوری وزیر خارجہ کو بات چیت کرتا دیکھ کر دیکھا کہ مذاکرات ہی حل ہیں تو یہ لوگ افغان طالبان اور الباکستانی ظالمان میں فرق بھول جاتے ہیں جو کہ ویسے کم ہی ہے لیکن ان کے پیشوا پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے داعی تھے بلکہ ان کے مکمل ہی داعی رہے اور وزیر خارجہ ہاں جی پھر بلاول بھٹو زرداری تو پہلے دن سے اقوام عالم کو افغان عبوری حکومت کے ساتھ انگیج رہنے کی بات کر رہے ہیں۔
مگر سیاست کی شطرنج کو جوئے کی میز سمجھنے والے کیا جانیں خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہے، خارجہ امور کیا ہوتے ہیں اور اقوام عالم کے ساتھ کیسے بات کی جاتی ہے اور سفارتی تعلقات کتنے پیچیدہ اور حساس ہوتے ہیں۔


