ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟
پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال ہمیشہ سے ہی عروج و زوال کا شکار رہی ہے۔ حالیہ سالوں میں، پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بے جوڑ حکومتی نظام، انتخابات، قومی اور بین الاقوامی تناؤ، اقتصادی مسائل، اور داخلی سیاسی تقسیم وغیرہ اسی سیاسی رسہ کشی کے نتائج ہیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی فی کس آمدنی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ تھی۔ لیکن آج کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ہمارا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے۔ اگر ہم مسلسل ترقی کر رہے تھے تو آخر کیا غلط ہوا؟ کیوں آج ہمارے ہمسایہ ممالک ہم سے آگے نکل گئے۔ پچاس سال پہلے تک، پاکستانیوں نے اوسط فی کس آمدن سری لنکا کے برابر تھی، جبکہ ہندوستان اور بنگلہ دیش سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ۔ آج، ہم ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں دو تہائی کم آمدن رکھتے ہیں۔
پاکستان کی اس تنزلی کے پیچھے بے شمار وجوہات ہیں۔ کوئی ایک وجہ اس ناکامی کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتی، لیکن آبادی میں اضافہ یقیناً ایک اہم عنصر تھا۔ پاکستان کی آبادی گزشتہ پانچ دہائیوں میں چار گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کے برعکس باقی ممالک کی آبادی میں اس قدر اضافہ نہیں ہوا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی آبادی میں تقریباً ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس معاملے کی وضاحت اتنی سادہ نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ قومی آمدنی کو زیادہ لوگوں پر تقسیم کرنے سے فی کس آمدنی یقینی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ لیکن زیادہ لوگ ہونے کے نتیجے میں بھی زیادہ آمدنی ہوتی ہے کیونکہ وہ پیداواری سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ لہٰذا محض زیادہ آبادی کی وجہ سے فی کس آمدنی کی ہونا ضروری نہیں ہے۔
اس کے بجائے، اہم معاملہ یہ ہے کہ آبادی کا بڑا حصہ تعمیری سرگرمیوں میں مشغول نہیں ہے۔ اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ کام نہیں کرتا تو اوسط گھریلو آمدن بہت کم ہوگی۔ مثال کے طور پر دو خاندان جن کی آمدن برابر ہے، ان میں سے ایک خاندان میں چھ افراد جبکہ دوسرے خاندان میں آٹھ افراد ہیں تو یقینی طور پر چھوٹے خاندان کی مالی حیثیت بہتر ہوگی۔ پاکستان بھی ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں کام کرنے والے تعداد میں کم ہے۔ اکثریت ایسے کم عمر بچوں، بزرگوں یا گھریلو خواتین کی ہے جو خاندان کی آمدن میں اضافے کے لئے کام کرنے سے قاصر ہیں۔
پاکستان کی غیر متاثر کن معاشی کارکردگی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کی دولت کو بدعنوان سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے ذریعے باقاعدگی سے لوٹا جاتا رہا ہے۔ پاکستان مختلف اشیاء کے لئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اور اس کی صنعت کاری اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے ٹیکس وصولی اور جی ڈی پی کے ساتھ ساتھ برآمدات اور جی ڈی پی کے درمیان تناسب بھی تشویش ناک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو محصولات کی مسلسل کمی کا سامنا ہے، اور ملک میں زرمبادلہ کی مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اور ملک بین الاقوامی قرضوں کے نیچے دب گیا۔
قرض کی ادائیگی اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے، پاکستان کی برآمدات، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سمندر پار کام کرنے والوں سے ترسیلات زر سے حاصل ہونے والی آمدنی بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، پچھلے تین سالوں کے دوران، پاکستان کی برآمدی آمدنی اور ترسیلات مجموعی طور پر 164 بلین ڈالر تھیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 170 بلین ڈالر کی اشیا کی درآمدات تھیں۔ اگلے تین سالوں میں بھی، درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر کی کل ڈالر کی رقم سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنے گا جس کے لیے بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری بھی کم رہنے کا امکان ہے۔ حالیہ برسوں میں، کاروباری ماحول اور پالیسی میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی سالانہ اوسط میں کمی ہوئی ہے۔ ملک سے باہر سرمائے کی نقل و حرکت پر حکومت کی حالیہ پابندیوں سے بھی سرمایہ کاروں کے جذبات متاثر ہوئے ہیں۔
ان اقتصادی مسائل سے نکلنے کے لئے سب سے پہلے تو مخلص، ایماندار اور روشن خیال قیادت کی ضرورت ہے جو ترقی کے عالمی معیار سے واقف ہو۔ پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ مستحکم حکومتی نظام، قوانین کی حفاظت اور عدلیہ کی برتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی تقسیم، اختلافات اور بحثوں کی وجہ سے ترقی کی رفتار پر اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کو امن وامان کے قیام کے لئے کے لئے مزید جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید براں، ہمیں بین الاقوامی روابط کو بہتر کرتے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی منصوبوں میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ملک کا تجارتی دائرہ وسیع ہو سکے اور باہمی فوائد حاصل ہوں۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں سرمایہ کاری ایک پیچیدہ کام ہے۔ مختلف اداروں میں انتظامی پیچیدگیاں سرمایہ کار کو غیر یقینی صورت حال میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کو ملک میں اعتماد کا حوالہ دینے کے لئے عدالتی نظام اور قانون و ضابطہ کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات کرنی چاہئیں تاکہ ہر شعبے کے ماہرین پیدا ہو سکیں۔ ہمیں رسمی تعلیم کے علاوہ دور حاضر کے تعلیمی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نظام کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ہمیں تکنیکی تعلیم کو ترویج دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی حاصل ہو سکے۔ پاکستان کو برصغیر کے ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ اس سے پاکستان کو مزید فوائد کا حصول ممکن ہے۔ قومی سطح پر مستحکم اداروں کی تشکیل بہت اہم ہے تاکہ نا اہلی، رشوت اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو سکے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں آپس کے اتحاد کی ضرورت ہے۔


