عمران خان صاحب، کے 9 مئی کو نائن الیون میں کس نے بدلا؟
عمران خان صاحب کا سیاسی مستقبل کافی ڈانواں ڈول دکھائی دے رہا ہے۔ 9 مئی کے بعد خان صاحب کی مقبولیت مسلسل زمین بوس ہوئی ہے۔ گزشتہ روز ملک بھر میں پاک فوج سے یکجہتی کے لئے مظاہرے ہوئے، بلکہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی فوج مخالف عناصر کے خلاف احتجاج ہوا اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے۔ شومئی قسمت کی انتہاء ملاحظہ ہو کہ گرفتاری سے قبل کپتان نے عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لئے 14 مئی تک روزانہ ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا تھا مگر ان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ’جو کچھ‘ ہوا، اس سے عمران خان صاحب کی اچھی شہرت کا گراف یک دم نیچے آ گیا، بلکہ وہ بری شہرت والوں میں شامل ہو گئے۔ راحت انگوری کے یہ چند اشعار عمران خان کی موجودہ ذہنی کیفیت کی برمحل عکاسی کر رہے ہیں کہ:
’لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں،
مگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میں۔
عجیب لوگ ہیں میری تلاش میں مجھ کو،
وہاں پہ ڈھونڈ رہے ہیں جہاں نہیں ہوں میں۔
میں آئینوں سے تو مایوس لوٹ آیا تھا،
مگر کسی نے بتایا بہت حسیں ہوں میں۔ ’
تحریک انصاف کو چھوڑنے والوں اور اس میں بننے والے ’فارورڈ بلاک‘ کے معاملے کا سارا ملبہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا یا عمران خان صاحب کا اب بھی کسی قسم کی ’خوش فہمی‘ میں مبتلا رہنا اور اپنی سیاسی منصوبہ بندی کا از سر نو جائزہ نہ لینا عمران خان کے سیاسی مستقبل کو مزید برباد کر دے گا۔
تحریک انصاف کے سینیئر ممبران اپنی جماعت کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور یا پھر تحریک انصاف کو چھوڑ کر ’خاموشی‘ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف گجرات کے رہنما سلیم سرور کمرہ عدالت میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب بے ہوش ہو گئے۔ 23 مئی کو شیری مزاری نے 3 بار گرفتار ہونے کے بعد بالآخر پی ٹی آئی کو خیر باد کہا۔ جہانگیر ترین جس نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کے لئے اپنا ’جہاز‘ فراہم کیا تھا وہ پی ٹی آئی کے ممبران کو توڑ کر ’فارورڈ بلاک ”بنانے کی بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پچھلے 15 برسوں کے دوران چوتھی بار اپنی پارٹی چھوڑ دی ہے۔ شیخ رشید کے بارے میں عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ اسد عمر پی ٹی آئی کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پی ٹی آئی چھوڑ دیں گے۔ جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ ابھی زیر غور ہے۔
تحریک انصاف اور عمران خان کے اس مخدوش مستقبل کے آثار تب پیدا ہوئے ہیں جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کا احتجاج پاکستان پر ’حملے‘ کے مترادف سمجھا گیا۔ چند ہی روز قبل کیے گئے ایک سروے میں عوام کی اکثریت نے پرتشدد واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ 93 % عوام نے ان دہشتگردانہ واقعات کی بھرپور مذمت کی اور انہیں انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔
عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر 11 مئی کو رہا تو کر دیا گیا تھا مگر 9 مئی کے حملوں کے بعد تحریک انصاف کے 4 ہزار سے زائد حامیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے کچھ ملزموں کو فوجی تنصیبات اور عمارتوں وغیرہ پر حملہ کرنے کے جرم میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952 ء اور سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مد میں آرمی چیف کی زیر قیادت کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ جو لوگ 9 مئی کو فوجی تنصیبات، اہلکاروں اور حساس اداروں پر حملوں میں ملوث تھے ان کے خلاف پاک فوج کے متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ان ملک دشمن عناصر کو کڑی سزائیں دی جائیں گی جس وجہ سے سول اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کے لئے پولیس نے کسی قسم کی رو رعائت نہیں دی بلکہ بعض جگہوں پر وحشیانہ حربے استعمال کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان دونوں ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے دفاعی حکام کو وفاقی حکومت سے بھی کسی قسم کی اجازت یا منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آرمی ایکٹ کے تحت قائم موجودہ ملٹری کورٹس ملک کے نظام عدلیہ کا حصہ ہیں، کئی سویلین ملزمان کے خلاف انہی ایکٹ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان عدالتوں میں کارروائی کی گئی ہے۔
اسی پس منظر میں سابق صدر آصف علی زرداری نے 9 مئی کو عمران خان کا نائن الیون قرار دیا تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ، ’اس دن عمران خان صاحب نے خود عمران خان کو تباہ کر دیا تھا۔‘ یعنی ’دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘ ، یہ وہی عمران خان صاحب ہیں جو کسی دور میں عوام کی اکثریت کی آنکھوں کا تارا ہوا کرتا تھا، مرد حضرات کپتان کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کے ’آٹو گراف‘ لینے کے لئے ترس جاتے تھے، خواتین اپنے ہاتھ سے سونے کے ’کنگن‘ اتار کر اپنے ’ہیرو‘ کے ہاتھ پر رکھی دیتی تھیں۔
یہی نہیں ’لیڈی ڈیانا‘ جیسی دنیا کی مقبول ترین شہزادی اس کا ’بولنگ ایکشن‘ دیکھنے کے لئے ٹی وی سے چپک کر بیٹھ جاتی تھی اور ’نیلسن منڈیلا‘ جیسا عالمی شہرت یافتہ رہنما عمران خان کے ساتھ تصویر بنوانے کو اعزاز سمجھتا تھا۔ پھر عمران خان پر ایک وقت یہ آیا کہ وہ گھر سے ’بم پروف ہیلمٹ‘ پہن کر نکلنے پر مجبور ہو گیا، اور آج اس کا ستارا اتنا گردش میں ہے کہ اسے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اپنا سیاسی مستقبل کیسے بچائے؟
میرا خیال ہے کہ اگر عمران خان دوسرے عام لیڈروں کی طرح جیل میں کچھ عرصہ رہنا برداشت کر لیتا اور اپنے مخالفین کو 9 مئی کو نائن الیون کہنے کا موقع نہ دیتا تو عمران خان آج اتنا ’متنازعہ‘ کبھی نہ ہوتا! شاید خان صاحب کو ’ٹریپ‘ کیا گیا یا خان صاحب اتنے جلد باز اور جذباتی ہیں کہ وہ خود ان کے ’دام‘ میں آ گئے۔ یہ کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اس میں خود عمران خان کا کتنا قصور ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان جن کی ’سیاست‘ کا شکار ہوا ہے اور جنہیں ہم ’غیر سیاسی‘ سمجھتے ہیں، وہ سب سے بڑے ’سیاسی‘ ہیں!


