صحافتی خبر اور صحافتی شرانگیزی


صحافت کا اہم کردار ہے کہ وہ جامعہ مستقبل کے بارے میں مطلع کرتی ہے، عوام کے خیالات اور نظریات کو اظہار کرتی ہے اور بہت سے معاشرتی مسائل کے حل کے لئے دباؤ کی بنیاد ہوتی ہے۔ صحافتی خبریں بغیر کسی جانبداری کے اور بلا تفریق کے عوام کو ایک سیدھی راہ دکھاتی ہیں، جس سے وہ اپنے خیالات کی حد تک جان سکتے ہیں۔

البتہ اگر صحافتی خبریں شرانگیزی کے ساتھ ہوں، تو یہ زندگی کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ خبریں غلط انداز میں بھی، مختلف دیگر جرائم کی تشدد کو بڑھا سکتی ہیں۔ ایسے خبروں کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس کی حالت پیدا ہو سکتا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف بد گوئی کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

ایک مثال کے طور پر، اگر کسی خبر کا مضمون زیادہ درست نہ ہو اور وہ شرانگیزی کے ساتھ ہوتا ہو، تو اس سے لوگوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے میں خلاف شکوک رکھنے لگتے ہیں۔

صحافت کا مقصد عوام کو سچی اور درست معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے صحافتی خبروں کو اہمیت دی جاتی ہے جو اہم واقعات اور تبدیلیوں کو پیش کرتے ہیں۔ صحافتی شرانگیزی کے علاوہ، جو اکثر تعصب، جانبداری، یا غیر اخلاقی ہوتی ہے، ایک بڑا مسئلہ بنتی ہے۔

صحافتی خبروں کا مطالعہ کرنے سے لوگوں کو معلومات کی توسیع، حقائق کی تصدیق اور دوسرے ممکنہ پہلوؤں کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ایک اچھی صحافتی خبر، عوام کے لئے مفید ہوتی ہے جو ان کے سوچنے صلاحیت اور احساسات کو متاثر نہیں کرتی۔

آج کل، صحافتی شرانگیزی بہت عام ہو گئی ہے۔ خبریں اکثر طرف دارانہ ہوتی ہیں اور عوام کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔ صحافت کے نظریہ کے تحت، صحافتی خبریں عوام کو تحریک دیتی ہیں نہ کہ ان کو خاص ایجنڈے کے تحت عوام کی سوچ سمجھ کو متاثر کرتی ہوں۔

صحافت ریاست کا اہم ستون ہے جس کا مطلب ہے صحافی اپنے ذرائع اخباری اور میڈیا سے وابستہ نیوز، رپورٹنگ، اور مضامین جو اعلامیہ لوگوں تک حقیقتوں، خبروں، اور تازہ ترین حالات و واقعات عوام تک پہنچاتا ہے۔ اس کا مقصد عوامی آگاہی، براہ راست یا غیر براہ راست، سیاسی، معاشی، اجتماعی، ثقافتی، اور علمی حقائق کی گہرائیوں سے روشنی ڈالنا ہوتا ہے۔

ایک جانب، صحافتی خبریں بہت اہم ہیں کیونکہ وہ عوامی آگاہی کی وجہ بنتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ براہ راست یا غیر براہ راست طور پر کسی بھی خبر سے واقف ہو سکتے ہیں۔ اس سے انہیں اپنے موقع، پالیسی، اور مصلحت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

دوسری طرف، صحافتی شرانگیزی یا جرنلزم کی نادانی، کیمرے، سوشل میڈیا کے ذریعہ بے جو آرٹیکلز یا فیک نیوز چلانے کا عمل ہے۔ اس طرح کی شرانگیزی اکثر براہ راست یا غیر براہ راست طور پر دیگر لوگوں کی روایتوں، پالیسیوں، اور موقعوں کے بارے میں غلط آگاہی پھیلاتی ہے۔

صحافت کا مطلب ہے کہ حقیقت کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم کام ہے جو جمہوریت کی بنیادی بنیاد ہے۔ صحافتی خبریں اور تحقیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحافت کی کمی اور کمزوری دولت میں اور طاقتور لوگوں کے بیچ میں ناقابل برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

صحافتی خبریں اسلامی تہذیب کا حصہ بنیادی طور پر اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں۔ صحافتی شرانگیزی کی تحقیقات میں، صحافتی ذمہ داریاں اور ان کی خبریں مشکوک کی جاتی ہیں۔ یہ ممکن بناتی ہے کہ جھوٹی خبروں کی منتقلی کے ذریعے ملک یا انسٹی ٹیوٹ، ادارے کو نقصان پہنچایا جائے۔

صحافتی شرانگیزی اسلامی تہذیب کے مطابق ممنوع ہے۔ صحافتی شرانگیزی کے مثالیں شامل ہیں جعلی خبریں، خفیہ تنقید، جھوٹے انتقام، فریبی خبریں، جانبدارانہ رپورٹنگ، اور شرکتی متاثرہ تحقیقات۔

صحافتی خبریں اور صحافتی شرانگیزی کا فرق بہت سادہ ہے۔ صحافتی خبریں حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں اور صحافتی شرانگیزی معاشرے میں عدم برداشت اور عدم استحکام کو فروغ دینے کے لئے ہوتی ہے

جب صحافی حضرات اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر ملکی اداروں اور شخصیات کے تعصب میں گر چکے ہوں تو پھر وہی سب ہوتا ہے جو کچھ دن سے سکرین پر نظر آ رہا ہے۔

احتجاج ایک جمہوریت کا بنیادی حق ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے حقوق اور مطالبات کے لئے آواز اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ جب کبھی بھی احتجاج کی آڑ میں ملکی اداروں پر حملے کیے جاتے ہیں، تو یہ انتہائی ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ ایسے حملوں کے ذریعہ، نہ صرف حکومتی اداروں کی نقصانات کیے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی ملک کی معاشی ترقی اور عوامی آرام و سکون پر برا اثر ڈالتے ہیں۔

جب کبھی احتجاج کی آڑ میں ملکی اداروں پر حملہ کیے جاتے ہیں، تو ایسی تصاویر معاشرتی روایات کی بے قابو سکتہ نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے، حکومت اور ان کے ادارے بھی انتہائی اہم ہیں۔

اسے نظر انداز کرتے ہوئے، اس غیر قانونی رویہ کی وجوہات کو سمجھنا اہم ہے۔ یہ عوام کے ساتھ مشکلات، نامناسب رویہ، سیاسی اختلافات، مذہبی تفرقہ اور دیگر مسائل سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔

صحافتی خبریں عام طور پر حالات کی روایت برقرار رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اس میں اہم واقعات کی خبریں شامل ہوتی ہیں جو لوگوں کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ صحافتی خبروں کی ہدف عوام کو خبریں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے آس پاس کے ماحول کے بارے میں جان سکیں۔ اس کے علاوہ، صحافتی خبریں عوام کو سیاسی، اجتماعی، اقتصادی اور علمی حوالے سے آگاہی حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

دوسری طرف، صحافتی شرانگیزی یا متنازعہ خبریں عام طور پر سوشل میڈیا کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ خبریں مختلف معاملات کے متعلق ہوتی ہیں جن کے بارے میں بعض لوگوں کے خیالات، تجربات اور نظریات کا اظہار کرنے کی خاطر ان کے ذریعہ صحافتی شرانگیزی کرنا شروع کرتے ہیں۔ یہ خبریں عوام کے لئے اہم بنائی جاتی ہیں، کیونکہ اس صحافتی شرانگیزی پھیلانے کے لئے اپنے ماحول کے حقائق سے واقف ہوتے ہیں کہ کون سی جعلی خبر کے پھیلاؤ سے کیا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آج کل میڈیا کی قابل اعتمادیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے میڈیا، سیاسی یا دیگر مقاصد کے لئے تحریف شدہ یا جانبدار خبروں کی پیشکش کرتے ہیں صحافتی شرانگیزی یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کو ابتدائی طور پر بحث کیا جاتا ہے کہ کیسے اس کا حل ممکن ہے۔

صحافتی شرانگیزی کے معیار میں اضافہ اس سبب سے ہوا ہے کہ صحافیوں کی نا اہلی، برائی، مطلوبہ شخصی مفادات کی خاطر خبروں کو ترتیب دینے اور مواد کی تبدیلی کرنے کے بعد بھی حقیقتوں کو چھپانے کی عادت ہو گئی ہے۔

صحافتی شرانگیزی یعنی خبروں یا رپورٹنگ کے دوران کسی کی حیثیت، مذہب، جنس، رنگ یا ثقافت کے بارے میں غلط بیانی، تعصب اور تبعیض کی عادت ہے۔ یہ ایک نا اہلی اور نامناسب عمل ہے جو خبروں کی درستگی، شفافیت اور اعتبار کو ختم کرتا ہے۔

صحافتی شرانگیزی کا حل، ایک جامعہ حکومتی تربیت گاہ صحافیوں کی ترقی اور ایک خوشگوار ماحول بنانے میں ہے جہاں ہر انسان کی حیثیت، انصاف اور شفافیت کے اصول پر عمل کیا جائے۔

صحافتی شرانگیزی کے مسئلے کا حل بہت سادہ نظر آتا ہے۔ ایک سمجھدار اور اصولی صحافت کے ذریعے۔ ایک صحافی کی صلاحیتوں اور اخلاقیات پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی ضرورت ہے، جو سب سے پہلے اس کے کارکردگی اور مصداق کی تصدیق کرنے کے لئے ہو۔

اس کے بعد ، صحافیوں کو اصولی اخلاقیات کے تحت کام کرنا چاہیے۔ یہ شامل ہوتا ہے، تحقیقاتی کام کرنا، حقائق کی تصدیق کرنا، دوسری طرف کے تاثرات کو سننا اور پیش کرنا اور خبروں کی سٹینڈرڈیز کی حفاظت کرنا۔

ایک جامعہ تربیت دیدہ صحافیوں کے لئے بنانا چاہیے جہاں انہیں مکمل طور پر انصاف کی تعلیم دی جائے۔ ان کو تعلیم دی جائے کہ جنس، مذہب، رنگ یا ثقافت کی بنا پر کسی کو قابل برداشت یا قابل تحمل نہیں کہا جاسکتا ہے۔

صحافیوں کے لئے مربوط قوانین بنائے جانے چاہئیں جو صرف خبروں کی درستگی کی پابندیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ انصاف اور شفافیت کے اصول کے لئے بھی ہوں۔ صحافیوں کو ذمہ داریاں دینی چاہئیں کہ وہ اپنی رپورٹنگ کے دوران تعصب سے بچیں اور ہر صورت میں حقیقت کے قریب ترین صحافتی ذمہ داری ادا کریں۔

Facebook Comments HS