پاکستانی سیاستدان گاندھی جی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

اس دنیا کی ہر چیز سے وہی کام لیا جا سکتا ہے جس کے لئے وہ بنی ہے۔ مثال کے طور پر گائے سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی گائے کو خوب چارہ ڈالا جائے اور اس کی صحت کا خیال رکھا جائے تا کہ اسے تیز رفتاری سے سفر کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک لاحاصل کوشش ہو گی۔ اگر کوئی مرغیاں پالے اور آخر میں یہ حساب کرنے بیٹھ جائے کہ ان مرغیوں سے کتنا دودھ حاصل ہوا تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ اے بھلے مانس اگر حساب کرنا ہے تو یہ کرو کہ کتنے انڈے بیچے، کبھی مرغیوں سے بھی دودھ حاصل ہوتا ہے۔ اگر کسی ڈاکٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہو اور وہی ڈاکٹر صاحب اپنا دیوان میز پر رکھ دیں کہ میں نے یہ کلام تخلیق کیا ہے تو ان سے یہی کہا جائے گا کہ میاں یہ دیوان دراز میں رکھو، ہمیں تو یہ بتاؤ کہ تم کتنے مریضوں کا علاج کیا اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟
سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ ہر وقت بھرپور طریق پر سیاسی عمل کو جاری رکھیں۔ بد قسمتی سے پاکستان میں یہ خیال راسخ ہو چکا ہے ہے کہ سیاست کی معراج گھیراؤ جلاؤ مار پیٹ اور ہلڑ بازی ہے۔ اس خام خیالی نے بہت سے المیوں کو جنم دیا ہے۔ ہر سیاست دان کا فرض ہے کہ وہ ہر وقت بات چیت اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے۔ لیکن بعض سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی مرحلہ پر مد مقابل کی شکل دیکھنے سے انکار کر دیں گے تو لوگ خیال کریں گے کہ یہ واقعی مرد آہن ہے۔ مرد آہن بننے کا یہ طریق کبھی کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے تاریخ میں بہت مرتبہ انقلابی سیاستدانوں نے اپنے مخالفین کو پھانسی تک چڑھا دیا اور اس طریق پر انقلاب برپا کر دیا۔ لیکن صاحب! تاریخ کا اگلا باب تو ملاحظہ فرمائیں۔
انقلاب فرانس نے بادشاہت کو الٹا دیا اور بادشاہ اور ملکہ کی گردنیں گلیٹون سے اڑا دیں اور اسی طرز پر بادشاہت کے بہت سے ساتھیوں کو بھی سرعام سزائے موت دے کر واہ واہ کروائی لیکن آخر اسی گلیٹون سے اس انقلاب کے بانی ڈانٹون اور رابزپیئر کی گردنیں بھی اڑا دی گئیں اور انقلاب کے بہت سے لیڈر اسی جنون کا شکار ہو گئے۔ روس میں سرخ انقلاب آیا اور اس کے تشدد نے زار روس نکولس ثانی اور اس کی جرمن ملکہ زارینہ اور ان کے بچوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
سرخ انقلاب کے جواب میں سفید انقلاب اٹھا تو ٹراٹسکی کی قیادت میں لاکھوں روسی مار دیے گئے۔ لیکن پھر اسی کمیونسٹ انقلاب کے لیڈر ٹراٹسکی بھی اسی رو کا نشانہ بنے اور انہیں ہمیشہ کے لئے روس چھوڑنا پڑا اور میکسیکو میں جلا وطنی کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔ اور ابھی سرخ انقلاب کو بیس برس ہی گزرے تھے کہ کمیونسٹ پارٹی میں پر تشدد تطہیر کا عمل شروع ہوا اور چن چن کر کمیونسٹ پارٹی کے ممبران کو نکال باہر کیا گیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ اسی جنون میں لاکھوں کمیونسٹ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اب کسی اسلامی انقلاب کی مثال کا جائزہ لیتے ہیں۔ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا۔ ایران کی سڑکوں پر شاہ ایران کے ساتھیوں کو گولیاں مارکر سزائے موت دی گئی۔ اس انقلاب کے بعد ابوالحسن بنی صدر ایران کے پہلے صدر بنے۔ اسی انقلاب نے جلد ان کے گرد گھیرا تنگ کر کے 1981 میں انہیں عہدے سے برطرف کر دیا۔ اور بنی صدر سکرٹ پہن کر ایک جہاز پر فرار ہوئے۔ ان کے بعد محمد علی رجائی ایران کے صدر بنے اور اسی سال وہ سپریم ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے کہ اس میٹنگ میں ان کے ایک ساتھی نے بریف کیس رکھا۔ اور کچھ دیر بعد دھماکہ ہوا اور رجائی اپنے دو قریبی ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
اب کچھ مثالیں پاکستان سے پیش کرتے ہیں۔ شاید اکثر لوگ اس نام سے بھی واقف نہ ہوں لیکن تقسیم ہند سے قبل مجلس احرار اسلام کا پنجاب کی سیاست میں ایک مقام تھا۔ آزادی سے قبل انتخابات میں مسلم لیگ نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی اور مجلس احرار کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آزادی کے بعد انہیں اپنے وجود ہی مٹتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے احمدیوں کے خلاف پر تشدد مہم کا آغاز کیا تا کہ سیاست میں واپسی ممکن بنائی جائے۔
دولتانہ صاحب کی پنجاب حکومت ان کی پشت پناہی کر رہی تھی تاکہ خواجہ ناظم الدین صاحب کی حکومت کو ہلایا جا سکے۔ باقی صوبے تو لا تعلق رہے لیکن پنجاب اور خاص طور لاہور میں خونی فسادات بھڑک اٹھے۔ سڑکوں پر تشدد کا راج تھا۔ حکومتی اداروں کو بے بس کر دیا گیا۔ لیکن انجام یہ ہوا کہ 6 مارچ 1953 کو لاہور میں مارشل لاء لگا دیا۔ پھر گولی چلی اور پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور مجلس احرار اس کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور اپنی ناکامی کے ملبے تلے دب کر ماضی کا قصہ بن گئی۔
شاید کچھ پڑھنے والے سوچ رہے ہوں کہ جب انتخابات میں کامیابی کے باوجود جنرل یحییٰ خاں صاحب نے عوامی لیگ پر پابندی لگا دی تو مشرقی پاکستان میں شدید رد عمل ظاہر ہوا اور بغاوت کا آغاز ہوا۔ مکتی باہنی نے کارروائیاں شروع کیں۔ جنرل یحییٰ خان صاحب اور ان کی عقل سے عاری کچن کیبنٹ نے فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آخر میں تو عوامی لیگ کو کامیابی ملی اور بنگلہ دیش آزاد ہو گیا لیکن شیخ مجیب الرحمن صاحب جیسے مقبول عوامی لیڈر کی زندگی کا آخری باب کیا تھا؟
انہوں نے بنگلہ دیش کی فوج کے متوازی ایک پیرا ملٹری فورس قائم کی جو کہ براہ راست ان کو جوابدہ تھی۔ یہ بات بنگلہ دیش کی فوج کو ناگوار گزری اور یہ پیرا ملٹری فورس بھی حکومت کے اشارے پر تھوک کے حساب سے تشدد اور پکڑ دھکڑ کر رہی تھی۔ حتیٰ کہ یہ نوبت آئی کہ مجیب الرحمن صاحب کے سالے نے ایک دعوت میں لڑائی کے بعد فوج کے ایک میجر اور ان کی بیگم صاحبہ کو اغوا کر لیا۔ قصہ مختصر یہ کہ 15 اگست 1975 کی رات کو چار جونیر افسران شیخ مجیب الرحمن صاحب کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور بنگلہ دیش کے بانی سمیت گھر میں موجود بیس افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا۔ صرف دو بیٹیاں بچ سکیں جو اس وقت ملک سے باہر تھیں۔ آخر کار یہ پر تشدد انقلاب اپنے بانی کو نگل گیا۔
اس خونی باب کے صرف دو سال بعد پاکستان میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے خلاف تحریک شروع ہوئی۔ بھٹو صاحب کے مخالف اتحاد قومی اتحاد نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا گیا اور پاکستان کی سڑکوں پر مار پیٹ اور گھیراؤ جلاؤ شروع ہوا۔ اور یہ تحریک بھٹو صاحب کے خلاف تحریک ’تحریک نفاذ نظام مصطفے ٰ‘ میں تبدیل ہو گئی۔ پورا ملک اس تحریک کی زد میں آ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل ضیاء صاحب نے مارشل لاء لگا دیا۔ قومی اتحاد کے نو ستاروں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا۔ آخر کار وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر جنرل ضیاء صاحب سے نجات حاصل کرنے کے لئے تحریک چلا رہے تھے۔
ان تاریخی حقائق کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو آزادی سے قبل گاندھی جی کی سیاست کے دو اہم پہلوؤں پر توجہ دینی چاہیے۔
1۔ وہ ہمیشہ عدم تشدد پر زور دیتے رہے۔ اور اہنسا کا پرچار کرتے رہے۔ اسی وجہ سے کانگرس کی مہم کم سے کم نقصان اٹھا کر اپنی تحریک کو آگے بڑھاتی رہی۔
2۔ وہ تمام عمر انگریز حکمرانوں کے خلاف ’ہندوستان چھوڑ دو ‘ کے تحریک چلاتے رہے۔ لیکن اس طویل جد و جہد میں وہ مسلسل انگریز حکمرانوں سے مذاکرات بھی کرتے رہے۔ میں نے خود ان مذاکرات کا وہ ریکارڈ جو برطانوی وائسرائے اپنی حکومت کو بھجواتے رہے برٹش لائبریری میں پڑھا ہے۔ گاندھی جی جب بھی ان سے ملتے تھے تو کھلے دل سے اور خوش دلی کے ماحول میں ملتے تھے۔ اور اپنی گپ شپ میں وہ بہت سے برطانوی افسران کو اپنا گرویدہ بھی بنا لتے تھے۔
بہر حال جب آزادی کا دن آیا تو عدم تشدد کا پیالہ صرف چھلکا ہی نہیں بلکہ الٹ گیا۔ اور برصغیر میں اور خاص طور پر پنجاب میں بد ترین قتل و غارت ہوئی۔ کیا اس میں گاندھی جی کا بھی قصور تھا؟ میں اس بحث کو اس کالم میں نہیں چھیڑوں گا۔ کئی پاکستانی مصنفین اس کا سارا الزام ہندوؤں پر لگاتے ہیں۔ اور کئی ہندو اور سکھ مصنفین اس کا سارا الزام مسلمانوں پر لگا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ دونوں ہی بد ترین غلط بیانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
بہر حال جب تشدد کا پنڈورا بکس کھول دیا گیا ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ پچاس سالوں میں انگریزوں کے ہاتھوں تو ہندوستان کا کوئی بڑا لیڈر ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن ایک سال ہی میں گاندھی جی ایک ہندو گوڈسے کی گولی کا نشانہ بن گئے اور تین سال کے بعد ہی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب ایک مسلمان کی گولی کا شکار ہو گئے۔
ان تاریخی حقائق کی روشنی میں ہم یہی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جب سیاسی جماعتیں تشدد اور فساد کا راستہ اختیار کرتی ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجانے کے نعرے لگائے جاتے ہیں تو انجام کار یہ عمل کسی ہارپون کی طرح چلانے والے کی طرف ہی پلٹ آتا ہے اور کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ فائدہ غیر سیاسی قوتیں ہی اٹھاتی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ سیاستدانوں کے ہاتھ میں مذاکرات کا موثر ہتھیار موجود ہوتا ہے اور سیاستدان ہی اس کا سب سے بہتر استعمال جانتے ہیں۔ مذاکرات کریں اور اس سلسلہ کو بند نہ ہونے دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہتھیار تشدد سے کہیں زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ہے۔ جہاں مذاکرات ختم ہوں سیاست کا دائرہ تنگ اور غیر سیاسی قوتوں کا دائرہ وسیع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

