جی۔ 20 کانفرنس

جی 20 ایک ایسی تنظیم ہے جو دنیا کی بڑی معیشت والے 19 ممالک اور یورپین یونین پہ مشتمل ہے۔ فی الحال پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ اس کا قیام 26 ستمبر 1999 کو جرمن شہر کولون میں لایا گیا۔ اس میں شریک ممالک ایک سالانہ اجلاس منعقد کرتے ہیں اور باہمی اشتراک کے نت نئے طریقے دریافت کرتے ہیں اور گھوم پھر کر اس اجلاس کا اہتمام مختلف ممالک میں کرتے ہیں۔ اس کا فی الحال کوئی مرکزی سیکرٹریٹ مقرر نہیں کیا گیا ہے اس لئے میزبان ملک ہی اس کا انتظام و انصرام کرتا ہے۔ 2020 میں کووڈ۔ 19 کی وجہ جو اجلاس سعودی عرب میں متوقع تھا وہ بھی صرف ورچوئل ہوا یعنی آن لائن۔ اب اس برس کا انعقاد سری نگر مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔
اس میں شریک ممالک دنیا کی 80 % کی مجموعی پیداوار والے ہیں، جو عالمی تجارت کی 75 % نمائندگی کرتے ہیں، اس میں دو تہائی کل آبادی کے ممالک شرکت کرتے ہیں جو دنیا کے 60 % رقبے پہ محیط ہیں۔
2008 سے اب تک سالانہ اجلاس بلایا جاتا ہے اور انیس ممالک کے سربراہ یا وزیر شرکت کرتے ہیں اور یورپی یونین کی نمائندگی کوئی ممبر کرتا ہے اور یورپین مرکزی بینک کی نمائندگی بھی ایک اعلیٰ عہدہ دار نمائندہ کرتا ہے۔ اس کا عالمی معیشت پہ خاصا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ روس نے جب سے یوکرائن پہ لشکر کشی کی ہے تو اب اس کی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے تجویز دی ہے کہ روس کو نکال دیا جائے اور اس کے بدلے یوکرائن کو مدعو کیا جائے اگرچہ وہ اس گروپ کا ممبر بھی نہیں ہے۔ جب صدر ولادیمیر زیلنسکی کو دعوت خطاب دی گئی تو وہ اس گروپ کو جی۔ 19 کہتے رہے یعنی وہ روس پہ طعنہ زن تھے کہ وہ تو اب اس گروپ میں شامل ہی نہیں۔ اس گروپ پہ تنقید بھی خاصی کی جاتی رہی ہے کہ اس میں محدود ممالک کو شامل کیا گیا ہے،
اس کے علاوہ اس کی اپنے اعلانات پہ عملدرآمد کا کوئی شافی انتظام نہیں، نیز یہ پہلے سے موجود دیگر عالمی اداروں کی ہتک کا موجب بھی ہے۔ سربراہی اجلاس جب بھی ہوئے ہیں اس کی مخالفت کے لیے عوامی احتجاج کیے جاتے ہیں۔ خیر اس برس سری نگر میں درحقیقت کرفیو کا سماں ہے۔ بزدل موذی نے پورے شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اور تمام بازار بند ہیں۔ تعلیمی سرگرمیاں مفقود ہیں اور ایک ہو کا عالم ہے وحشت کا بازار گرم ہے۔

