معاشی خود مختاری اور ہمارے قومی رویے!

فی زمانہ قومی آزادی اور ملکی سلامتی کا تصور اقتصادی خودمختاری سے منسلک ہے، اس کرہ ارض پہ باوقار قوم بن کے جینے کی خاطر فقط ایٹمی ڈیٹرنٹ کافی نہیں بلکہ اقتصادی ترقی کا وسیع تصور ہی قومی خود مختاری کی عکاسی کرتا ہے۔ شاید اسی تناظر میں دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی طاقتوں نے بظاہر جنگ کی تباہ کاریوں کی بدولت اجڑی ہوئی مملکتوں کی بحالی کے لئے عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے قائم کیے ، جو فی الاصل نوزائیدہ قومی ریاستوں کے وسائل کا استحصال اور وہاں کی حکمراں مقتدرہ کو کنٹرول کرنے کا ٹول ثابت ہوئے۔
تاہم مجموعی انسانی ارتقاء کے لئے معاشی پالیسیوں کی تدوین کے علاوہ انسانوں کی استعداد کار بڑھانا زیادہ اہم ہے، اسی لئے دنیا میں اب صحت مند معاشرے برپا کرنے کی خاطر امانت و دیانت جیسی اخلاقی اقدار کو بھی سرمایہ تسلیم کر لیا گیا۔ ہرچند کہ فی کس آمدنی، بہتر معیار زندگی، تعلیم اور غربت کے تعین کو معاشی اونچ نیچ کا اشاریہ سمجھا جاتا ہے لیکن کسی قوم کی ترقی کے لئے اہم اور ضروری شرط بجائے خود انسان کا ذہنی ارتقا ہے، جاپان، جرمنی، فرانس اور امریکہ کی طرح مشرق و مغرب کے جن ممالک نے اپنی معاشروں کی انسانی استعداد کار کو بڑھایا، وہیں پر دنیا کے سارے وسائل سمٹنے لگے۔
چنانچہ انسانی ترقی کے اشاریہ، ایچ ڈی آئی، کو 1990 میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے حصہ کے طور پر متعارف کرایا گیا، اگرچہ تین وسیع شعبوں میں معاشی ترقی کی پیمائش کا ذریعہ فی کس آمدنی، صحت اور تعلیم ہے لیکن ایچ ڈی آئی کا پیمانہ مخصوص ممالک کی عالمی پوزیشن میں ہونے والی تبدیلیوں کو جانچتا ہے۔ بلاشبہ، ترقی کافی وسیع تصور ہے، جسے سیاسی، سماجی اور اقتصادی عوامل کے تال میل میں پرکھا جاتا ہے یعنی ترقی ماحول پہ بڑھتے ہوئے انسانی تصرف ہے۔
ہماری مملکت فی الوقت جس قسم کے گمبھیر مسائل سے دوچار ہے اس میں طویل پراکسی جنگوں کے مضمرات، بنیادی ڈھانچہ کی فرسودگی، گورننس کی کمزوریوں، مالیاتی نظم و ضبط کا فقدان، تکنیکی مہارتوں کی کمی اور تہذیبی و ثقافتی اکائیوں کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ بیرونی قرضوں میں گھری معیشت کے وبال نے داخلی خودمختاری اور قومی آزادی کو لپیٹ رکھا ہے، خاص کر نیو نو آبادیاتی نظام کے تحت آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کا وہ سنہرا جال جس میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو پھنسا کر ان کے عوام کا حق حاکمیت، انسانی سرمایہ اور قدرتی وسائل کا استحصال، محل نظر ہے۔
آج بھی بظاہر آئی ایم ایف پیکیج کا مقصد معیشت کو سہارا دینا، قرضوں کو ریگولیٹ کرنا اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے ساختی اصلاحات میں توازن لانا ہے لیکن عملاً آئی ایم ایف پروگرام پیچیدہ ضوابط کا ایسا پنجرا ہے جو قومی وقار، سماجی ارتقائی، فیصلہ سازی کے نظام، مادی نمو اور فکری آزادیوں کو مقید رکھتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی انہی جکڑ بندیوں اور بڑی طاقتوں کے عالمی مقاصد کی تکمیل کی خاطر ہم اپنے داخلی نظام کی استواری کے فرض کو فراموش کر بیٹھے جس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس کا تناسب جی ڈی پی کا تقریباً 10 فیصد ہے، یہ دنیا میں سب سے کم جی ڈی پی ہے۔
220 ملین آبادی والے ملک کو ٹیکس کے اتنے کم تناسب کے ساتھ چلانا مشکل ہو گا، حیرت انگیز طور پہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی ضرورت کا احساس ہر سطح پہ پائے جانے کے باوجود بڑی طاقتوں کے عالمی مفادات، جو ملک کے اندر جاری داخلی کشمکش کو ہمہ وقت سرگرم رکھ کر قومی سلامتی کو نازک بناتے ہیں، مالیاتی اصلاحات سے اغماض، کرپشن کو روکنے والے قوانین کی عدم موجودگی اور نوجوان نسل میں تکنیکی استعداد کار کی کمی مملکت کی ترقی، خوشحالی اور قومی خود مختاری کی راہ میں حائل ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق غیر متوقع سیاسی تبدیلیوں کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل کی خاطر بجلی اور تیل کے نرخ بڑھانے کے علاوہ پراپرٹی پہ 14 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے یہاں رئیل اسٹیٹ بزنس میں لوگوں کا 90 ٹریلین روپیہ پھنس گیا، جس کی وجہ سے پراپرٹی کا کاروبار اچانک بیٹھ گیا۔ آئی ایم ایف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی خاطر بنیادی پیداواری یونٹس، بجلی، تیل اور پانی کے نرخ بڑھنے سے مجموعی پیداواری عمل سست روی کا شکار ہوا تو مزدور کی زندگی کچھ زیادہ تلخ ہو جانے کی وجہ سے ناقابل بیان سماجی، اخلاقی اور سیاسی مسائل پیدا ہونے لگے۔
پی ڈی ایم گورنمنٹ کی طرف سے محصولات کی وصولی میں کچھ اضافہ اور ٹیکس اصلاحات لانے کی کوشش جاری ہے لیکن قومی معیشت پہ ان اصلاحات کے اثرات محدود ہیں کیونکہ ہماری 5 ارب ڈالر کی حامل پرچون معیشت کا ایف بی آر کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں، اس لئے سیلز ٹیکس کا بڑا حصہ غائب ہو جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی بنکوں میں 85 ملین اکاؤنٹس ہولڈر ہیں لیکن ایف بی آر ریکارڈ میں محض 2 ملین فائلر ہیں، اگر بیوروکریسی چاہتی تو یہ تفاوت کور ہو سکتا تھا لیکن اسی گیپ میں بدعنوانی کا فعال نیٹ ورک منظم ہے، جس کی راہ روکنا کسی کے بس میں نہیں رہا۔
ہمارے ریاستیٰ ڈھانچہ میں وسیع پیمانہ کی پرامن اصلاحات کے علاوہ کسٹم اور ایف بی آر میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت تھی لیکن گورننس کی کمزوریوں کی وجہ سے ان دو شعبوں میں پائی جانے والی خرابیوں کا تدارک ممکن نہیں ہو رہا بلکہ مجموعی ریاستی ڈھانچہ میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا کام اب تو ناممکنات سے قریب تر نظر آتا ہے، جسے مینیج کرنے کے لئے جس قسم کے سخت اقدامات کی ضرورت ہے وہ کمزور حکومتی اتھارٹی کے بس میں نہیں رہے۔
ذرا غور کیجئے کہ ہمارے ملک میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جن کی مرمت و بحالی پہ اٹھنے والے بھاری اخراجات کے علاوہ 9 ملین لیٹر یومیہ تیل صرف ہوتا ہے، 2016 میں میاں نواز شریف جیسے مضبوط وزیراعظم نے سرکاری گاڑیوں پہ غیرمعمولی اخراجات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے سرکاری وہیکل ختم کر کے یہ رقم ملازمین کی تنخواہوں میں ایڈجسٹ کرنے کا منصوبہ پیش کیا جسے بیوروکریسی نے ناکام بنا دیا۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت برطانوی سرکار کے پاس صرف 45 گاڑیاں ہیں مگر ہماری بیوروکریسی ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیوں پہ اکتفا نہیں کرتی، ہر صاحب اختیار آئے روز نت نئی گاڑیاں اپنے فلیٹ میں شامل کرنے کو بیتاب رہتا ہے۔
ملکی نظام میں خرابی کا ایک محرک دوہری شہریت کے حامل وہ چالیس ہزار اعلی افسران ہیں، جن کے بچے، سرمایہ اور مستقبل یورپ سے وابستہ ہے وہ ہمارے سسٹم میں اصلاحات کے خلاف طاقتور مزاحمت کر کے اپنے ”مفادات“ کے تحفظ کی خاطر بیرونی مداخلت کا ٹول بن جاتے ہیں۔ ہماری ریاستی اتھارٹی دوہری شہریت رکھنے والوں کو سسٹم سے نکال باہر کرنے کی استعداد کھو بیٹھی ہے، شاید اسی کارن ابھی تک کسی سویلین یا فوجی گورنمنٹ کے لئے گورننس میں بہتری، نیپرا ایکٹ میں ترامیم، محصولات کی ریکوری اور ٹیکس چوری کو کم کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
2019 میں پی ٹی آئی گورنمنٹ نے حساس اداروں کو حکم دیا کہ بڑے کاروباری طبقات اور بڑے اکاؤنٹ ہولڈر کو تلاش کر کے ٹیکس نظام کے اندر لایا جائے چنانچہ خیبرپختون خوا کے بنوں ڈویژن میں میرام شاہ کے راستے افغانستان کو اربوں روپے ماہانہ کا تیل فروخت کرنے والے ایک ڈیلر کا ریکارڈ ایف بی آر کو فراہم کیا گیا جو گورنمنٹ کو پھوٹی کوڑی ٹیکس نہیں دیتا تھا لیکن بڑے پیمانے پہ احتجاج پھوٹ پڑنے کے بعد گورنمنٹ ایسے بزنس ٹائیکون کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے پیچھے ہٹ گئی۔
ذرائع کے مطابق صرف بنوں ڈویژن میں اسی سطح کے لگ بھگ دو ہزار تاجر موجود ہوں گے جو افغانستان سے کھربوں کی تجارت کرنے کے باوجود گورنمنٹ کو کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔ اسی شمالی وزیرستان کے ایک تاجر کے 63 ٹرک ( 22 ویلر، ٹرالر) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس رجسٹرڈ ہیں، جن میں ہر ایک کی قیمت ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہو گی، انہی ہیوی وہیکل میں اربوں روپے ماہور کا کاروبار ہوتا ہے لیکن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ والے ایف بی آر کو بڑے ٹرکوں، بم پروف اور لگژری گاڑیوں کا ڈیٹا فراہم نہیں کرتے کیونکہ تمام با اختیار اداروں میں ڈی ایم جی گروپ کے وہ افسران براجمان ہیں جو ادارہ جاتی ڈھانچہ کو مربوط رکھنے کی بجائے سرکاری شعبوں کو الگ الگ راج دھانیوں منقسم رکھنے میں مفاد تلاش کرتے ہیں۔ صرف پشاور کی طورخم، میرام شاہ کی غلام خان چیک پوسٹ، وانا سے منسلک انگور اڈا اور بلوچستان کے چمن بارڈر پہ یومیہ اربوں روپے کی غیرقانونی تجارت ہوتی ہے، جسے اگر ریگولیٹ کر لیا جائے تو کروڑوں کا یومیہ ریونیو مل سکتا تھا لیکن اس غیرقانونی تجارت کے بینیفشری ہمارے ریاستی نظام سے زیادہ طاقتور ہیں۔

