ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ (چوتھی اور آخری قسط)


نہ جانے آج اسٹیشن پر کوئی معذور، لنگڑا لولا، نابینا، بھیک مانگتا کیوں نظر نہیں آ رہا؟ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے سرمایہ کار ’بھیڑیوں‘ نے، غیر عوامی حکومت کی منت سماجت کر کے ان ’میلی کچیلی بھیڑوں‘ کو مار بھگایا ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے خدشہ یہ ہے کہ لوگ اپنا پس انداز کیا ہوا سرمایہ تھوڑا تھوڑا کر کے ان میں بانٹ دیں گے اور ان کے کارخانوں میں سرمائے کی قلت ہونے کا اندیشہ ہے۔ میرے واہمے میں ایک دفعہ یہ بھی آیا کہ یہ بڑھیا اس روپ میں کہیں بھکارن ہی نہ ہو؟

میں نے ’حاتم طائی‘ بنتے ہوئے 50 روپے کا نوٹ خیرات کرنے کے لیے پینٹ کی جیب میں دھیرے دھیرے الٹا ہاتھ ڈالا تو مجھے ایک دم دھچکا لگا۔ اسی وقت ایک دبلا پتلا سا نوجوان بڑھیا کے پاس آ بیٹھا۔ اس نے 500 روپے کا نوٹ اس کے آگے بڑھا دیا۔ بڑھیا نے اس کے اصلی ہونے کا یقین کرنے کے بعد ، اٹھ کر گدی کے نیچے محفوظ کیا گیا تیار مال لمبے سے شاپنگ بیگ میں ٹھونس کر اپنے محسن کے حوالے کر دیا۔ دھان پان کے اس لڑکے نے پولی تھیں کے اس پیکٹ میں سیدھا ہاتھ ڈال کر دستانے برآمد کر کے ان کی گنتی کی۔

تعداد پوری ہونے کے بعد اٹھتے ہوئے بڑھیا کے کان میں کوئی بات کی۔ بڑھیا نے اپنے پاس خام مال کا جائزہ لینے کے بعد اس کو مثبت اشارہ کرتے ہوئے، میرا خیال ہے کہا : ”کل نہیں تو پرسوں۔“ نوجوان دستانوں کی کوالٹی کا بنظر غائر جائزہ لینے کے بعد ، پیکٹ کو خاکی لفافے میں ڈھانپ کر ، سیدھے ہاتھ چلتا گیا۔ میری نظروں نے اس کا تعاقب کیا۔ وہ آئس کریم کی آؤٹ لیٹ میں داخل ہو گیا۔ وہاں صوفے پر ، بڑی سی توند سنبھالے، ایک ساہوکار نیم دراز تھا۔

مال اس نے ساہوکار کے حوالے کیا اور خود شکایات و معلومات کے کمرے میں چلا گیا۔ مطلب یہ کہ نوجوان ریلوے کا ایک ملازم تھا جو مستاجر ہے اور آجر سے رابطے کا ذریعہ ہے۔ یہ بات عیاں ہو گئی کہ برصغیر کے اس اقلیم میں سرمایہ کاری کا سفینہ ڈوبنے میں ابھی صدیاں پڑی ہیں۔ اب مجھے بڑھیا پہلے سے زیادہ مظلوم نظر آئی جو اپنی محنت کے درست معاوضے سے بے بہرہ تھی۔ میں نے آج ٹھان لی اس سے معلوم کرنے کی کہ اس نے اپنا ذاتی کارخانہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہی کیوں قائم کیا ہے اپنے محلے میں یا گھر کے پلیٹ فارم پر کیوں نہیں۔

میں اٹھ کر اسی بینچ کے پیچھے براجمان ادھیڑ عمر خاتون کے پاس چلا آیا۔ اس سے بات چیت کا یک سطری خلاصہ یہ ہے کہ ’وہ اپنی شناخت نہیں بنا سکی ہے۔‘ ستر سال رشتہ ازدواج میں گزرے۔ اس کا کوئی بیٹا پیدا ہوا نہ بیٹی۔ اس کے دو بھائیوں نے تین کنال اجدادی اراضی میں سے ایک مرلہ بھی اس کے نام رجسٹر نہ کروایا۔ اس کا خاوند اسے اسٹیشن پر چھوڑ گیا یہ طعنہ دے کر ”تم مجھے کوئی شناخت نہیں دلا سکی تو تمھیں بھی شناخت سے محروم کرتا ہوں۔“ تب سے وہ، ریلوے ملازمین کے طفیل، سرکاری زمین پر اوڑھنا بچھونا کر کے اپنے کارخانے سے گزر بسر کر رہی ہے۔ لیکن آخر کس لیے؟ اپنے جسم کے لیے یا روح کے لیے، جنت کے لیے یا پیٹ کے دوزخ کے لیے؟ یہ تیسری دنیا کے ریلوے اسٹیشن کا تیسرا منظر تھا۔

Facebook Comments HS