سٹیٹس اور خودی (قسط 2 )

اس نے تھیلے میں سے سلوٹوں بھرا ایلومینیم کا ایک مختصر سا برتن نکالا، جس کا دھلا ہوا ہونا اس کی صفائی کے مذاق پر دلالت کرتا تھا۔ محترمہ نے کشکول سے دال اس میں محفوظ کرنے کے بعد ، تھیلے کے اندر جھانک کر خوراک کے ’محفوظ ذخائر‘ کا جائزہ لیا تو اسے یاسیت کا سامنا رہا۔ اس نازنین کے مکھڑے پر موجود ’جھاہیوں‘ میں معتد بہ اضافہ ہو گیا۔ البتہ جب اس نے دیکھا کہ اس کے توشہ

Read more

سٹیٹس اور خودی (قسط 1 )

اس نے ہوٹل (ڈھابے ) کے نیک نہاد مالک، جس کا بڑا بھائی اس گاؤں (پنڈی گھیپ) کی جامع مسجد کا امام ہے، کے آگے ایک عدد روٹی کے لیے، دست سوال دراز کیا۔ مالک ملائم آواز میں بھکشا مانگنے کے انداز سے شانت ہوا۔ اس نے نہ صرف روٹی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی بلکہ ایک پلیٹ کے برابر دال چنا بھی کشکول میں ڈلوا دی۔ اس کے نحیف کندھے پر میل سے اٹا تھیلا لٹک رہا تھا۔

Read more

پودے ہمیشہ، بیج سے نہیں پھوٹتے

میرے ماموں جان مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ خود تو خواندہ نہ تھے لیکن مجھے تعلیم کے بنیادی سنگ میل طے کرتا دیکھ کر امی جان سے اکثر کہا کرتے ”میں اپنے بھانجے کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ معلومات عامہ کی آگاہی بھی دیتا رہوں گا۔“ ان کا ماننا تھا کہ نیزے کی قلم کو سرکنڈے کی قلم، قلم کر سکتی ہے اگرچہ نیزے کا پھل سخت خو ہوتا ہے جبکہ سرکنڈہ نرم خو۔ ان کی اپنی کوئی

Read more

ہم کہ ٹھہرے پردیسی کہ جاناں نہیں

اسلام آباد شہر میں آنے کا یہ میرا اولین نہیں، دوسرا اتفاق تھا۔ یہ موقع مجھے اس لیے حاصل ہوا کہ قائداعظم یونیورسٹی کی غیر جانبدار انتظامیہ نے ایم ایس سی میں داخلے کے موزوں امیدواروں میں میرا نام بھی منتخب کر لیا تھا۔ ٹیسٹ اور انٹرویو میں شمولیت کی خاطر بذریعہ ریل گاڑی چار گھنٹے میں گجرات سے ’روانہ‘ ہو کر راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اترا اور پھر اسلام آباد جانے والی روٹ۔ 1 کی ویگن پر سوار ہو کر

Read more

ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ (چوتھی اور آخری قسط)

نہ جانے آج اسٹیشن پر کوئی معذور، لنگڑا لولا، نابینا، بھیک مانگتا کیوں نظر نہیں آ رہا؟ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے سرمایہ کار ’بھیڑیوں‘ نے، غیر عوامی حکومت کی منت سماجت کر کے ان ’میلی کچیلی بھیڑوں‘ کو مار بھگایا ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے خدشہ یہ ہے کہ لوگ اپنا پس انداز کیا ہوا سرمایہ تھوڑا تھوڑا کر کے ان میں بانٹ دیں گے اور ان کے کارخانوں میں سرمائے کی قلت ہونے کا اندیشہ ہے۔ میرے واہمے

Read more

ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ (3)

دوسرا نظارہ یہ تھا کہ کچھ فاصلے پر پلیٹ فارم 9 سے تھوڑا ادھر میرے کانوں نے ایک غیر معمولی شورو غل سنا۔ مجھے ایسا لگا کہ غائب سے آواز آ رہی ہے ’بسکٹ نہ کھانا یہ SOOPER نہیں ہیں۔ ‘ پیکٹ کو مسجد کی دیوار کے ساتھ بنائے گئے کنکریٹ کے چبوترے پر بنا تردد چھوڑ آیا تاکہ بروز قیامت نیک گواہی سند رہے۔ داغ مفارقت دیتی ہوئی دھوپ کی سمت کا جائزہ لینے کے لیے اٹھا تو کیا

Read more

ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ (دوسری قسط)

ایمرجنسی میں پہنچنے والے مسافروں کے لئے فطری ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ’قلی‘ بلا خوف قانون بھتہ ( محنت سے زیادہ صلہ) وصول کر کے، سیٹ بکنگ کا بھی انتظام کر دیتے تھے۔ ان کا دھندا، مصنوعی ذہانت کے حامل جدید کمپیوٹروں کی بدولت ماند پڑ گیا ہے۔ گزشتہ ’ن‘ لیگی ریلوے منسٹر ’خواجہ سعد رفیق‘ نے آن لائن بکنگ متعارف کروا کر امراء کو ریلوے مسافر بننے کی ترغیب تو دی ہے، لیکن بے سود۔ ہما شما ہی

Read more

ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ پہلی قسط

14۔ اگست 2019 کو راولپنڈی جانے کے لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پر دو بجے پہنچا۔ گاڑی کی روانگی کا وقت ساڑھے چار بجے تھا۔ پلیٹ فارمز پر وقفے وقفے سے کسی نہ کسی گاڑی کی آمد یا روانگی کا اعلان بذریعہ لاؤڈ سپیکر کیا جا رہا تھا۔ ایک ہی گاڑی کی آمد کا اعلان چار مرتبہ ہو رہا تھا۔ تین دفعہ اردو میں ایک دفعہ انگریزی میں۔ پنجابی میں ایک دفعہ بھی نہیں امر واقعہ یہ ہے کہ لاہور کی

Read more