فن دھوکا دہی
صاحب! عرصہ ہوا ہم نے کسی سے متاثر ہو نے کا سلسلہ موقوف کر رکھا ہے لیکن عمر بھر یہ خاکسار جن دو چار لوگوں سے متاثر ہوا ان میں سر فہرست وہ باکمال لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے ہاں فراڈ کو بطور پیشہ اپنا رکھا ہے۔ مجھے ان مہربانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جن کا اوڑھنا بچھونا فراڈ ہے۔ وطن عزیز میں جس سطح کا کوالٹی فراڈ تخلیق ہو رہا ہے وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں نظر آتا ہو۔ بیرون ممالک سیاحت کے دوران میں نے اس بارے میں بغور ملاحظہ کیا تو معلوم ہوا کہ اول تو اکثر ممالک میں وہاں کے کم ذوق لوگ اس اہم پیشے یعنی فراڈ سے بالکل سرے سے ہی نابلد ہیں اور نتیجتاً یہ احمق ایک انتہائی اہم ’ذریعہ آمدنی‘ سے مستقل محروم چلے جا رہے ہیں۔
دوسرا اگر کہیں کچھ نسبتاً سیانے لوگ یہ کام کر بھی رہے ہیں تو وہاں بھی ہمیں بڑا ہلکا، معمولی، سطحی اور بودا سا فراڈ دیکھنے کو ملتا ہے اور اسے دیکھ کر بس ہنسی آتی ہے۔ سچ پوچھیں تو اس حوالے سے ذوق جمال کی اصلی تسکین کا سامان صرف ہمارے ہاں میسر ہے۔ ہمارے ہاں فراڈ کے حوالے سے جو شاہکار نظر آتے ہیں کسی اور ملک میں ان کا عشر عشیر بھی نہیں۔ سچی بات ہے کہ یہاں اس میدان کے ماہرین نے فراڈ کے عمل کو باقاعدہ فن کا درجہ دے دیا ہے۔ اور پھر اس فن کو جس درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی۔
ہمارے ہاں دھوکا دہی کے عمل کے دوران ایسے اخلاص اور اپنائیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ لٹنے والے کو آخری دم تک ذرا سا شائبہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ وغیرہ ہو رہا ہے۔ بعض اوقات تو دھوکہ دہی خوش سلیقگی کی اس سطح تک جا پہنچتی ہیں جہاں یہ ہماری حس جمال کو بھی متاثر کر رہی ہوتی ہے۔ وہ حسن عمل اور جدت طرازی نظر آتی ہے کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ دھوکہ کھانے والا آخر دم تک ان سے اس درجہ مرعوب اور ایسے متاثر ہوتا ہے کہ وہ کھائے گئے دھوکے کا الزام کسی پہ بھی لگا سکتا ہے سوائے اس بندے کے جو اصل میں اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
سو! ہمارے ہاں فریب دہی میں ایسی مشاقی اور وہ حسن انتظام نظر آتا ہے کہ کوئی صاحب ذوق اس کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور کمال یہ ہے کہ دادو تحسین دینے والوں میں وہ بندہ بھی شامل ہوتا ہے جو اس فراڈ کا ڈائریکٹ شکار ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خود شکار ہونے والا بھی ان فنکار فراڈیوں کی شان میں استاد غالب ؔ کا یہ شعر پڑتا نظر آتا ہے :
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں میرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
میں نے جیسے عرض کیا مجھے ان مہربانوں کی زیارت اور نیازمندی کا شرف حاصل ہے جنہوں نے فراڈ کو باقاعدہ ایک فن کا درجہ دے رکھا ہے۔ وطن عزیز میں موجود اس قیمتی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے یہ لوگ اپنا حصہ بڑے متاثر کن انداز میں ڈالتے جا رہے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ قحط الرجال کے حوالے سے اس بدترین دور میں بھی ہمیں اس پیشے سے منسلک ایسے مخلص لوگ میسر ہیں۔ انہیں تھانے کچہریوں کا سامنا رہتا ہے مقدمے اور جیلیں بھگتنا پڑتی ہیں۔ لیکن آفرین ہے کہ یہ اپنے پیشے کی حرمت اور آبرو کے لیے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہوئے راستے میں آئی ہر دیوار سے ٹکرا جاتے ہیں۔
شعبہ فراڈ سے منسلک افراد کو ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے کی جسارت اور اس حوالے سے درج بالا تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ کچھ عرصہ پہلے میرے ایک دوست کو اس شعبہ کے ایک سرکردہ رکن سے واسطہ پڑا۔ اور پھر چند ہی دنوں میں ان کا تعارف اور تعلق اس قدر بڑھا کہ لگا جیسے سالوں کی قربت ہے۔ دوست بتاتا ہے کہ یہ صاحب بڑی متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند۔ ایک مثالی مہمان نواز۔ گفتگو میں ایسی شیرینی اور مٹھاس کہ بس سنتے جایے۔
ماتھے پر بڑا سا قابل رشک محراب۔ پیکر نفاست۔ ان کا گھر اور گاڑی عنبر اور عود جیسے قیمتی اور خالص عطریات سے ہمہ وقت مہکتے رہتے۔ فون بجتا تو مسحور کن آواز میں تلاوت سنائی دیتی۔ بس ایک مقدس ماحول تھا جو ہر وقت ہالہ کیے رکھتا۔ دوست کہتا ہے کہ ان سے مل کر میں کافی دن سوچتا رہا کہ کون سی نیکی کام آئی ہے جو ایسے فرشتہ صفت انسان سے مجھ خطا کار کو نیاز مندی حاصل ہوئی۔ پھر وہ حیران ہوتا کہ اس گئے گزرے دور میں ہمارے خاکستر معاشرے میں بھی ایسی چنگاریاں ابھی تک موجود ہیں۔
اس دوران میرا یہ دوست مجھے بتاتا رہتا کہ انسانیت پہ اعتبار کیا چیز ہوتی ہے۔ ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ سفر و حضر میں ساتھ رہنے کا موقع ملا تو دوست ان کی بے مثال مہمان نوازی، حسن تکلم اور غیر معمولی حد تک اعلیٰ اخلاقی صفات کے مظاہرے سے کانوں تک ڈوبتا چلا گیا۔ ایسی ہی کیفیت میں جب یہ دوست ایک دن ان صاحب کے گھر ان کے وسیع دستر خوان پہ بیٹھا تھا اور وہ صاحب اس کی پلیٹ میں بالاصرار مٹن کی روسٹ چانپیں ڈال رہے تھے تو اسی وقت ان کے فون کی گھنٹی بجی۔
انہوں نے کچھ دیر فون پہ بات کی اور پھر ایک دم مخاطب کو ’ہولڈ‘ کروا کے اور فون پہ ہاتھ رکھ کر وہ دوست کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ”بھائی صاحب! میرا ایک دوست کہیں باہر جا رہا ہے اور وہ جانے سے پہلے اپنا ایک پلاٹ فروخت کرنا چاہ رہا ہے۔ اگر آپ کو اس میں دلچسپی ہے تو بتائیں یا پھر کسی اور دوست کا بھلا کر دیتے ہیں کیونکہ اس علاقے میں فلاں وجوہات کی بنا پر زمین کی قیمتیں جلد ہی کافی حد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
“ فون ہولڈ پر تھا اور یہ بات سن کر دوست کے ذہن میں ان کی کمال انسانی، اخلاقی صفات کی فلم چل رہی تھی۔ چنانچہ اس اس بیک گراؤنڈ کے پیش نظر اس نے اپنی جمع پونجی کا سوچا اور ان کی اس بظاہر بے لوث آفر پر ہاں کر دی۔ اس پر انہوں نے فون پر مخاطب کو اوکے کر دیا۔ اگلے دن وہ خود صبح صبح تشریف لائے دوست سے ایک دو کاغذوں پر دستخط لیے ایک فائل اسے تھمائی اور اتنی مناسب قیمت پر ایک اچھا پلاٹ ملنے پر اسے مبارک دیتے ہوئے کہا کہ پیسے آسانی سے دے سکتے ہیں تو دے دیں ورنہ وہ خود ہی کوئی بندوبست کر لیں گے۔
میرا دوست ان کے اعلیٰ اخلاق تلے دبا فوراً اٹھا اور ڈیڑھ کروڑ کی رقم نقد ان کے حوالے کر دی۔ انہوں نے بے اعتنائی سے رقم پکڑی اور اگلے دو چار ہفتوں میں پلاٹ کی قیمت کافی حد تک بڑھنے کا کہہ کر وہاں سے چل دیے۔ ان کے جانے کے بعد دوست نے بیگم کو وہ فائل پیش کی اور ساتھ کہا، ”لو! وہ جو تم کہتی تھیں کہ ہمیں عنقریب چھپر پھاڑ کے ملے گا تو یہ بات اب پوری ہونے لگی ہے۔“ اس نے پوری بات بتائی تو گھر والی کے چہرے پہ خوشگوار حیرت، خوشی اور تفاخر سے بھرپور وہ جذبات نمایاں ہوئے جو بیگمات کے چہروں پہ اس وقت ابھرتے ہیں جب ان کی کوئی پیش گوئی پوری ہو جائے۔
اس کے بعد کی داستاں قدرے تلخ ہے۔ دوچار ہفتے کیا دو چار مہینے گزر گیا۔ نہ کوئی پلاٹ ملا اور نہ اس کا سراغ۔ ہوتے ہوتے سال ہو گیا اور اس دوران بات ان صاحب کے وسیع دسترخوان، مٹن چانپ اور خوشبوؤں میں لپٹی گفتگو سے آگے نہ بڑھ سکی تو دوست نے باقاعدہ پوچھ گچھ شروع کی۔ پھر آہستہ آہستہ ہمارے دوست کا ان صاحب سے تعلق محبت، احترام، مروت، وضع داری، شک و شبہات اور گلوں شکووں سے ہوتا ہوا باقاعدہ الزامات اور طعن و تشنیع تک پہنچ گیا۔
بول چال ملنا ملانا موقوف ہو گیا۔ مزید کچھ عرصے بعد جب دوست نے قانونی چارہ جوئی کا تحرک کیا تو معلوم ہوا کہ ان صاحب پہ خیر سے کوئی درجن بھر پہلے ہی فراڈ کے مقدمات درج ہیں۔ اس ہولناک انکشاف کے فوری بعد جب میرا دوست ان صاحب کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ کرائے پہ رہتے تھے اور اب پچھلے کئی ہفتوں سے مکان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اس پر میرے دوست کے ہاتھوں کے طوطے شوطے سب اڑ گئے۔ اب وہ اپنا یہی مقدمہ مختلف لیگل فورمز پہ لیے پھرتا ہے اور مجھے بتاتا رہتا ہے کہ انسانیت پہ اعتبار اٹھنا کیا چیز ہوتا ہے۔


