قومی ترانے اور عوام کی تقدیر

ایک طرف عوام کو مسلسل فوجی اور قومی ترانے سنائے اور دکھائے جا رہے ہیں دوسری طرف انصاف کی مسند پر ذاتی لڑائیاں لڑی جا رہی ہیں اور انصاف کے ٹھیکیداروں کی برہنگی میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے معاملات کنفیوژن کے آخری حدود کو چھوتے نظر آرہے ہیں اور افراتفری انصاف کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کیا ہے صرف چیف جسٹس یا تین ہم خیال جج یا پھر سپریم کورٹ میں بیٹھنے والے سارے کے سارے 17 جج حضرات۔ بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ قانون سے کوئی بالا تر نہیں تو کیا عدلیہ کے مخصوص ارکان قانون سے بھی اونچے ہیں اگر ان کے فیصلے پر کوئی اعتراض کرے تو اس کو توہین عدالت کا مجرم قرار دے کر ٹانگ دیا جائے۔ عدالت جب چاہے اعتراض کرنے والے کو ، کسی بھی مقدمے میں پھنسا کر راندہ درگاہ کر دے پاکستان کا وہ ادارہ جس کا کام عوام کو انصاف دینا ہے اس کے کچھ مخصوص کردار اپنی اتھارٹی کا نا جائز استعمال کر کے اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک نئی مافیا کو جنم دے رہے ہیں، جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی جس سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔
آئین اور قانون کی بالادستی کار اگ الاپ الاپ کر اپنی طاقت برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طاقتور گروہ دوسرے طاقتور گروہ سے گتھم گتھا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل سے کسی کو کوئی غرض نہیں معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے عوام کی جو درگت بنی ہوئی ہے اس کا کسی کو ، کوئی ادراک نہیں۔ جنہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ملک کو تاراج کرنے کی کوشش کی ان کا استقبال ”گڈ ٹو سی یو“ کہہ کر کیا گیا۔ اس مہاتما سے انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھا ہوا شخص خوشامدانہ انداز میں مخاطب ہوتا ہے عدلیہ کی مخصوص بینچ بڑی سرعت کے ساتھ اپنا ہر فیصلہ موجودہ حکومت کے خلاف کر رہی ہے۔
یہ بات حیرت ناک ہے اور افسوس ناک بھی کہ پارلیمنٹ جو بھی قانون سازی کر رہی ہے اس کو مخصوص جج اپنے فیصلوں کے ذریعے نافذ العمل ہونے سے روک دیتے ہیں ان مخصوص منصفین کے کچھ فیصلے تو آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہیں۔ 22 کروڑ عوام تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ایسا لگتا تھا پاکستان میں ایک نئے سب سے طاقتور سیاسی ادارے کا قیام عمل میں آ گیا ہے۔ لیکن پھر عدلیہ کے لاڈلے کی پارٹی نے 9 مئی کو وہ کام کر دکھایا کہ بظاہر خواب خرگوش کے مزے لیتا ہوا حقیقی معنوں میں ملک کا سب سے طاقتور ادارہ جاگنے پر مجبور ہو گیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہونے کے دعویداروں کا جہاز ٹاٹینک کی طرح ڈوبنے لگا اور اس پارٹی کے ارکان اس کے جہاز سے کھلے سمندر میں یکے بعد دیگرے چھلا نگیں لگانے لگے۔ اب یہی وجہ ہے پوری قوم ہم تن گوش ہے اور ایک بار پھر نئے جوش و جذبے کے ساتھ قومی اور فوجی ترانے سن نے پر مجبور ہے، شاید یہ ہی اس ملک کے عوام کی تقدیر ہے۔

