پاکستانی عورت کے گھریلو مسائل کا حل: بچت


کام کی بات میں صنفی تفریق نہیں ہوتی۔ اپنے گزشتہ بلاگ میں میں نے مختصر بتانے کی کوشش کی کہ ایک عام پاکستانی عورت کو آج کل کن مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں صرف مسائل بیان کرنے والے ہیں، حل بتانے والا نہیں۔ میں نے سوچا کہ چلیں میں یہ کوشش کر کے دیکھتی ہوں۔ بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔ سوچا اس کو اقساط میں شائع کروں تاکہ پڑھنے والے طوالت سے اکتاہٹ کا شکار نہ ہو جائیں۔ کچھ خواتین کو یہ پھیکا اور بد مزا لگے گا کیونکہ نہ اس میں کسی کی بہو کا تذکرہ، نہ کسی کی ساس کی برائی، نہ کہیں مظالم کی داستان اور نہ کوئی چٹخارا۔

تو شروع کرتے ہیں، ان کے لیے جو حالات بدلنا چاہتی ہیں۔ کسی بھی مشکل سے نمٹنے کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے اپنی سوچ بدلنا۔ جس سوچ کے رہتے، آپ مسائل کا شکار ہوئی ہیں، اسے بدلے بغیر آپ ان مسائل کا حل نہیں تلاش کر سکتیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سوچ میں کیا بدلنا ہے؟

زیادہ نہیں بس اتنا ہی کہ میرے مسائل کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ میں بھی ہوں۔ تو کیوں نہ میں اپنے آپ کو تو بدلوں، اگر اپنی حالت بدلنا چاہتی ہوں۔ ورنہ کوئی نہیں جہاں کروڑوں خجل ہیں، میں بھی سہی۔ دوسری بات بدلاؤ کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ اس میں وقت، محنت، تکلیف، ناکامی، صبر اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ جو مسائل سالوں میں پیدا ہوئے، ان کا حل منٹوں یا دنوں میں ممکن نہیں۔ قطرہ قطرہ دریا والی مستقل مزاجی چاہیے۔

اب میں آتی ہوں کہ سب سے پہلے معاشی مسائل کی طرف۔ جیسے کہ میں نے گزشتہ بلاگ میں سب سے پہلے معاشی مسائل کا ذکر کیا تھا کہ ہر انسان دور حاضر میں تنگدستی کا شکار ہے۔ ان کا حل کیا ہے؟ کیا مہنگائی کم ہو گی؟ یہ سوال بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ امریکہ کب پاکستان سے قرضے کی اپیل کرے گا؟ ہم میں سے کوئی بھی مہنگائی کم نہیں کر سکتا اور نہ یہ کم ہو سکتی ہے۔ جو چیز ایک بار مہنگی ہو گئی۔ اب آنے دوانیوں کا تو فرق پڑے گا، ایسی کمی جس کا ہم سب پہ گہرا اقتصادی اثر پڑے، وہ بعید از امکاں ہے۔ تو ایک ہی حل ہے، اخراجات کو گھٹانا اور آمدنی کو بڑھانا۔

اخراجات کو کیسے کم کیا جائے؟ سب سے پہلے تمام اخراجات کی فہرست بنائی جائے اور ان میں سے تمام ایسے اخراجات جو غیر ضروری ہیں، ان کو ختم کیا جائے یا ان کو کم سے کم کیا جائے۔ کمی چاہے سو روپے کی ہو یا پچاس کی، وہ مثبت ہے، یہ سوچنا کہ اتنے سے کیا فرق پڑے گا، بالکل غلط ہے۔ اسی سوچ کو تو بدلنا ہے۔

اگر سبزی تین پاؤ پک کر پوری ہو سکتی ہے تو ایک کلو پکا کر ایک کٹوری کام والی ماسی کو دینے کی کوئی تک نہیں۔ اس کی مدد کرنا چاہتی ہیں تو باسی سالن کی بجائے کوئی اور مناسب طریقہ سوچ لیجیے، جس سے باسی نہیں تازہ سالن کا مستقل انتظام ہو جائے۔ دن میں تین بار چائے بنتی ہے تو ایک بار گرین ٹی کا اہتمام کر لیا جائے۔ میاں کی توند اور دودھ دونوں میں کمی آ سکتی ہے۔ (اس دودھ سے چار دن بعد گھر پہ آئس کریم بن سکتی ہے۔

تین سو روپے فی سکوپ والی کھانے میں کوئی دانشمندی نہیں ) ۔ میں نے گھر کے انٹرنیٹ کے پیکج میں ہی تبدیلی کر کے بارہ سو روپے کی کمی کر لی۔ بجلی، گیس، پانی کے استعمال میں احتیاط بھی بڑھتے بلوں میں کمی لا سکتا ہے۔ پیک آورز میں بجلی کے نرخ بڑھ جاتے ہیں، اس دوران بھاری اشیا کا استعمال ترک کر دیجیے اور سختی سے عمل پیرا رہیے۔ کبھی نوٹ کیجیے گا کہ ٹی وی چلانے کے اوقات بدلنے سے ہی بلوں میں چند یونٹوں کا فرق پڑ جاتا ہے۔

اے۔ سی، استری، پانی کی موٹر، فریج اور دیگر بھاری اشیا کو ”آف پیک“ میں چلائیں۔ یہی احتیاط راشن میں بھی برتی جا سکتی ہے۔ سبزی، گوشت، پھلوں کا استعمال احتیاط سے کیا جائے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ان میں کمی نہ کی جائے بس ان کو ضائع یا لاپروائی سے استعمال نہ کیا جائے۔ کھانے میں روٹی کم پڑنے پہ ایک اضافی روٹی ڈالنے کی تکلیف اس تکلیف سے کم ہے جو روٹی بچ کر ضائع ہونے پہ ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کچھ لوگ اسی ایک روٹی کو ترستے ہیں جو آپ کے ہاٹ پاٹ میں اکڑی ہوئی پڑی ہے۔

اگر آپ دس فیصد بھی کمی کر سکیں تو یہ ایک بڑی جیت ہے۔ یہی احتیاط دیگر اشیا کے متعلق بھی ہے۔ کپڑے، جوتے، کاسمیٹکس بھی احتیاط سے اور انتہائی اہم ضرورت کے تحت خریدیں۔ بے دریغ اور بلا ضرورت خریداری انسان کی مشکلات میں صرف اضافہ کرتی ہے، اس کا فائدہ کوئی نہیں۔ ایک اہم بات یاد رکھیں۔ اگر آج آپ وہ چیزیں خریدتی ہیں جن کی ضرورت نہیں تو کل کو وہ بیچنا پڑ سکتا ہے جس کی ضرورت ہے۔

میں کئی ایسی فیملیز کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنا مضافاتی علاقے کا عالیشان مکان کرائے پہ دے کر بچوں کے سکول/کالج کے قریب کرائے کا مکان یہ سوچ کر لیا کہ پٹرول اور وقت کی بچت ہو گی۔ یہ وقت ایسا ہے کہ بچوں کی بھی تربیت ہونی چاہیے کہ ہر خواہش تو دور، ہر ضرورت بھی پوری ہو، یہ ممکن نہیں۔ ان کے جیب خرچ کو بھی متعین کریں تاکہ ان کو بھی وسائل کے مطابق خرچ کرنا آ جائے۔ میں نے اپنی جزو وقت ملازمہ کا خرچ بچا لیا۔ گھر کا کام کچھ خود کیا، کچھ بچوں کے ذمہ لگایا۔ بچوں میں ایک مثبت تبدیلی بھی بتدریج دیکھی کہ جس بچے نے صفائی کی ہو، اس کو کسی دوسرے بہن بھائی کا پھیلایا کچرا شدید ناگوار گزرتا ہے۔ چلو اپنی محنت کے رائگاں ہونے کا تو احساس ہوا۔ یہ بھی کم جیت نہیں۔

نمائشی اور دکھاوے کے خرچوں پہ آج سے ہی روک لگا دیجیے۔ ورنہ کل کلاں کو اپنے بیٹے کی شادی پہ اربوں خرچ کرنے کے بعد آپ ملازمین کو تنخواہ دینے سے قاصر ہوں گے۔ اتنی ”واہ واہ“ نہیں ہوئی جتنی ”تھو تھو“ ہو گئی۔ آپ کی گاڑی تیرہ سو ہے یا اٹھارہ سو سی سی، پڑوس کی شگفتہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تیرہ کلومیٹر فی لیٹر سے دس پہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ”تن پہ پہنا دکھتا ہے، پیٹ میں کھایا کس نے دیکھنا ہے؟“ یہ فلاسفی سو سال پرانی ہے، اب کھایا زیادہ اہم ہے ورنہ غیر متوازن خوراک سے چہرے پہ جو لعنت اور پھٹکار برستی ہے وہ برانڈ کے سوٹ سے بھی دور نہیں ہو پاتی۔ ایسی عیاشیاں جو جیب اور صحت پہ بھاری ہوں، ان کا متبادل ڈھونڈیں اور ان کو زندگی سے کم کرتے جائیں۔

خریداری کا طریقہ سیکھیں، پرچون کی بجائے تھوک میں خریدیں تاکہ دو چار فیصد بچت ہو سکے۔ اپریل میں بارہ سو فی کلو انگور کھانے سے بہتر ہے، ڈیڑھ سو فی کلو آڑو کھائے جائیں، انگور اگست میں کھا لیجیے گا، انشا اللہ اللہ اگست بھی دیکھنا نصیب کرے گا اور انگور بھی۔ موسمی پھل/سبزیاں صحت اور جیب دونوں پہ خوشگوار ثابت ہوتے ہیں۔ کپڑے اور دیگر کئی چیزیں آف سیزن میں اپنی اصل سے کئی بار پچاس فیصد کم قیمت پہ میسر ہوتی ہیں، آپ تب خریدیں اور اگلے سیزن میں پہن لیجیے۔ چنداں فرق نہیں پڑتا، ہماری قوم کی یاداشت بڑی کمزور ہے۔ تبھی تو ہم ذلیل و رسوا ہیں۔ برانڈز کے ڈھکوسلے میں نہ پڑیں اور صرف کوالٹی پہ یقین رکھیں۔ کوالٹی کے حساب سے جس کی جتنی قیمت بنتی ہو، اس سے زیادہ پہ کبھی نہ خریدیں۔ یاد رہے بچت صرف اضافی اور غیر ضروری چیزوں میں کی جائے۔

اب اس کا سماجی پہلو سن لیجیے۔ آپ کی ان تبدیلیوں کا سب سے پہلا ناقد آپ کا اپنا کنبہ ہی ہو گا۔ اس لیے یہ سب مرحلہ وار کرنا ہو گا۔ آہستہ آہستہ جب وہ ایک ایک کر کے ان تبدیلیوں کو تسلیم کرتے جائیں تو آپ بہتری کی جانب بڑھتی جائیں گی۔

ثابت قدمی بڑی ضروری ہے۔ دل للچائے گا اور آپ کا اپنا ایمان بھی ڈگمگائے گا مگر جو ایک بار ٹھان لی، اس کو سرے چڑھا کے ہی دم لینا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی بچت کو لوگ آپ کی بخیلی سمجھیں اور اس کا پرچار بھی کریں۔ ہنسی ٹھٹھول کریں اور مذاق اڑائیں۔ ان کو ان کا شوق پورا کرنے دیجیے۔ کسی غیرمتعلقہ کی داد و تحسین سے اگر میرا بجٹ متاثر ہوتا ہے تو وہ اپنی تعریف اپنے پاس رکھے۔ گانٹھ باندھ لیجیے کہ اسراف اور ضیاع دونوں گناہ ہیں۔ آپ کو اپنی بھلائی کرنے پہ کسی سے قبولیت کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے۔

اب یہ حقیقت سنیے۔ بچت کرنے سے کوئی امیر نہیں ہوتا، صرف آمدنی بڑھانے سے لوگ خوشحال ہوا کرتے ہیں۔ تو اوپر والی یہ ساری فضولیات کس لیے تھی؟ جب آپ امیر ہو جائیں تب بھلے بچت نہ کیجیے گا۔ بچت کرنے والے امیر ہمیشہ امیر رہتے ہیں۔

تمام خواتین جو معاشی تنگدستی کا شکار ہیں، سب سے پہلے ان کو اپنی آمدن کے ذرائع پیدا کرنے ہوں گے۔ اگلا بلاگ اسی موضوع پہ ہو گا کہ خواتین کیسے پیسے کما سکتی ہیں۔

 

Facebook Comments HS