موٹیویشنل اسپیکر اور اسپیچز



اکثر گروپس میں اور یوٹیوب سمیت دیگر سوشل ایپس پر لوگ موٹیویشنل اسپیکرز کی ویڈیوز اور تحاریر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ موٹیویشنل اسپیکرز دراصل لوگوں کو ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھ کر اس سے استفادہ حاصل کرنے کا گر سکھاتے ہیں۔ اور بے حد پر اثر اور دل لبھانے والی باتیں کرتے ہیں۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ سب گفتار کے غازی ہوتے ہیں۔ ان کی تقاریر سن کر کوئی بھی شخص پرجوش ہو سکتا ہے۔ خیالی پلاؤ پکا سکتا ہے خیالی قلعے تعمیر کر سکتا ہے لیکن عملی طور پر چند گنے چنے لوگ ہی ہوں گے جنہوں نے ان تقاریر سے کوئی استفادہ حاصل کیا ہو گا۔

میں نے سب سے پہلی موٹیویشنل کتاب شاید 1995 میں پڑھی تھی۔ جو کسی امریکن رائٹر کی تھی شاید اس کا نام ’سیون ہیبٹس آف ہائلی ایفیکٹیو پیپل‘ تھا۔ اس کے بعد کئی مغربی موٹیویشنل اسپیکرز کو سنا اور پڑھا بھی۔ جب پاکستان میں انٹرنیٹ عام ہو گیا تو یہاں بھی برساتی کھمبیوں کی طرح ایسے اسپیکرز اگنے لگے۔

ان میں سے بیشتر تو انہی مغربی کتب اور تقاریر کا بعینہ ترجمہ کر کے ان کا اردو ورژن ڈلیور کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ چند ایک اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے کچھ جدت بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے لوگوں نے ان کی باتوں سے متاثر ہو کر کچھ ایسا کیا بھی ہو جس نے ان کی زندگی بدل دی ہو۔ جب کہ میرے خیال میں ان کی باتیں صرف کتابی باتیں ہوتی ہیں۔ عملی زندگی بہت مختلف اور غیر متوقع ہوتی ہے۔

میری ایک بہت پیاری ساتھی مصنفہ دیا مرزا نے چند دن پہلے لاء آف ایٹریکشن کے بارے میں لکھا کہ انسان جیسا گمان رکھتا ہے جس چیز کی خواہش رکھتا ہے، وہ کام ہو جاتا ہے، وہ چیز حاصل کر لیتا ہے۔ یقین مانیے ایسا کچھ نہیں ہوتا الا یہ کہ اللہ تعالٰی نے وہ کام اور چیز ہمارے مقدر میں لکھ دی ہو۔ بعض اوقات ہم کسی چیز کا تصور کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ اے کاش اللہ تعالٰی ہمیں یہ دے دے اور کچھ لمحوں بعد وہ مل جاتی ہے۔ اور بعض اوقات ہم برسوں ایک چیز کے لیے دعا کرتے ہیں اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں مگر مرتے دم تک حاصل نہیں کر پاتے۔

اچھا گمان، مثبت سوچ اور احسن عمل یہ تو اسلامی تعلیمات بھی ہیں اور ایک مسلمان کا طرز زندگی بھی اور قرآن سے بہتر کوئی موٹیویشنل کتاب نہیں نبی ﷺ سے بڑھ کر کسی کی بات موٹیویشنل نہیں۔ ایک چیز ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہم جتنی مرضی کوشش کر لیں تدابیر اختیار کر لیں ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالٰی نے ہمارے مقدر میں لکھ دیا ہوتا ہے۔ واحد عمل جو ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے دعا اور صلہ رحمی ہے اس لیے دعاؤں کی کثرت کیجئے۔ اور رشتے داروں سے حسن سلوک کیجئے۔

Facebook Comments HS