برائے نام لیڈرز
اپنی خاص صلاحیتوں اور تجربے کے ذریعے دیگر عوام کو ان کی مشترکہ مقصد کے حصول کی جانب ہدایت اور رہنمائی کرنے والا شخص لیڈر ہوتا ہے۔ ان صلاحیتوں میں خاص طور پر قابلیت، احترام کرنے کی صلاحیت، صبر و تحمل، سمجھوتہ اور قیادتی صلاحیت کا ہونا بہت ہی اہم ہے۔ اب ہمارے ہاں لیڈر صرف اسی کو مانا جاتا ہے جو سیاسی طور پر مشترکہ مقصد کی طرف ہمت بخشتا ہے، جو کہ بالکل غلط ہے۔
لیڈر مختلف میدانوں میں پائے جاتے ہیں جیسے سیاسی، تعلیمی کھیل اور سماجی وغیرہ اور وہ اپنی فیلڈ میں تجربہ رکھتے ہیں۔ اب چونکہ ہمارے ملک میں سیاسی صورتحال گرم ہے اور لوگ کسی نہ کسی ایک کو لیڈر تسلیم کیے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کے رشتوں کا لحاظ نہیں رکھتے، جو کہ یہ بھی سیاسی لیڈر شپ کے فقدان کا ایک نتیجہ ہے۔ آج ہم چند ایک دنیا کے سیاسی لیڈرز کا ذکر کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا آج کے ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر بھی ان کے ساتھ کچھ مماثلت رکھتے ہیں یا صرف برائے نام لیڈر کا تاج اپنے سر لے ہوئے ہیں اور ذاتی مفادات کے لئے بیچارے عوام کو ایک دوسرے کے دست و گریبان کیا ہوا ہے۔
کیا یہ لوگ نیلسن منڈیلا جیسی قیادتی صلاحیتوں کے حامل ہیں؟ کیا یہ اس کی طرح لوگوں کو قومی مقصد کی طرف رہبری کرتے ہیں؟ کیا ان میں قوت برداشت اتنی ہے جتنا انہوں نے 27 سال قید و بند میں گزارے۔ کیا یہ لوگ امن، یکجہتی اور مصالحت پسندی کی تربیت کرتے ہیں یا ذاتی مفادات کے لیے گالم گلوچ کو فروغ دیتے ہیں؟ کیا ان میں قائداعظم محمد علی جناح جیسے لیڈر کی طرح کوئی ایسی خصوصیت موجود ہے جو کہ انہوں نے معاشرے کے مختلف طبقات اور اقلیتی مذاہب کے درمیان انصاف اور برابری کی بات کی اور حقوق کی حفاظت کی۔ کیا ان کو قائداعظم کی طرح تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ کیا یہ مشکل حالات میں صبر و تحمل اور نئے راستے تلاش کر کے ان کا حل نکال لیتے ہیں؟
کیا یہ گاندھی کی طرح جدوجہد اور انصاف کے لئے لڑ سکتے ہیں؟ کیا یہ لوگ ننگ محسوس کرتے ہیں؟ کیا اپنے مقاصد کو اخلاقی اور اصولی قیمتوں کے تحت تلاش کرتے ہیں؟ کیا یہ غیر تشدد کی ترویج کرتے ہیں؟
کیا ان میں شیخ محمد عبداللہ کی طرح ہماری کسی بھی حقوق کی حفاظت کرنے والا کوئی شخصیت موجود ہے؟ کیا کوئی ان کی طرح ہماری سیاسی رہنمائی کر سکتا ہے؟
اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان موجودہ سیاسی لوگوں میں کوئی تھوڑی بہت ان لیڈروں جیسے خصوصیات شامل ہیں یا ان کی طرح کوئی ہمیں لیڈ کر سکتا ہے تو پھر صحیح ہے آپ اس کی حمایت کرتے رہیں اور اس کی رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو خدارا اپنی سمت درست کریں اور ان جیسے اقتدار کے پجاری لوگوں کے لیے اپنی زندگی برباد نہ کریں۔

