اردگان, ترکیہ اور پاکستان

میں نے ہوٹل استنبول کی مشہور نیلی مسجد کے بالکل سامنے لیا تھا، یہ کافی لمبا فاصلہ تھا اس لئے میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی طیب اردگان اور اس کی حکومت کی تعریفیں شروع کر دیں، میرا خیال تھا کہ یہاں تو ہر کوئی طیب اردگان کا دیوانہ ہی ہو گا، لیکن مجھے اس وقت شدید حیرانی ہوئی جب اس نے کچھ کرپشن کیسز کا ذکر کرتے ہوئے اردگان کی متعدد پالیسیوں پر تنقید شروع کردی، تب مجھے ہلکا سا اندازہ ہوا کہ یہاں خلیفہ اردگان کے مخالفین بھی موجود ہیں، اسی طرح چند ایک اور لوگوں سے بات کر کے یہ اندازہ مزید پختہ ہوا۔
طیب اردگان ایک انتہائی چالاک اور منجھا ہوا سیاستدان ہے، اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کن حالات اور کن لوگوں پر حکمرانی کر رہا ہے، بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر اس کی گرفت کے ساتھ معیشت میں متعدد کامیابیاں اس کو نمایاں کرتی ہیں، دن میں 18 گھنٹے کام کرنے والا یہ شخص حکومتی تمام معاملات پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ آرمی بغاوت کو کچلنے میں اس کا ویژن اور اس کے ساتھ اس کا Always at his toes ہونا مخالفین پر ہمیشہ بھاری پڑا، کچھ لوگ پاکستان میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریکوں اور لیڈروں کا مقابلہ اردگان سے کرتے ہیں جو کہ انتہائی کمزور تقابل ہے، پاکستان ایک سکیورٹی اسٹیٹ ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کا طاقت میں حصہ بقدر جثہ ہے، یعنی ”کوئی ثانی نہیں دور دور تک“ اس لیے یہاں ایسی کسی بھی تحریک کا کامیاب ہونا انتہائی مشکل ہے،
گزشتہ کئی دہائیوں سے دفاع، خارجہ اور معاشی امور بالخصوص اور بقیہ تمام امور بالعموم حضرت آرمی کے کنٹرول میں ہی رہے ہیں، یہ طاقت انہوں نے ایک دن میں حاصل نہیں کی، چار ڈکٹیٹرز نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے یہ طاقت بتدریج اداروں کو مہیا کی ہے، سیاستدان اور عدالتیں نظریہ ضرورت کے نام پر ان تمام حرام کاموں کو حلال کرتی رہی ہیں۔ سیاستدان طاقت میں رہتے ہوئے ان تمام چیزوں پر خاموشی اختیار کرتے رہے اور جیسے ہی انہیں آؤٹ کیا گیا تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپناتے رہے، یہ بھی نظریہ ضرورت کی ایک بدصورت سی کی شکل ہے، حکومتی اور خارجی معاملات میں کمزور اور کام چور سیاستدان اس گراوٹ میں برابر کے شریک ہیں۔
سو جناب لیڈر چاہے سڑکیں بنانے میں شیر شاہ سوری کی قبر پر لات مارتا ہو، خوبصورت ہو، مذہب کا نام لیوا ہو، اچھی انگریزی بولتا ہو، کچھ لوگوں کے نزدیک ”کلٹ“ کی صورت اختیار کر چکا ہو، وغیرہ وغیرہ سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ ہاں البتہ مایوسی گناہ ہے، اس لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے، پاکستان جیسی ریاستوں میں اچانک کچھ نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی کا عمل بتدریج، دہائیوں کی کوششوں کے بعد عملی شکل اختیار کرتا ہے۔

