"حلال” ملک میں حلال گوشت کی تلاش

’زید‘ جب صبح کو اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے ادارے کی طرف رواں دواں ہوتا ہے تو اسے راستے میں بڑے اور چھوٹے گوشت جس کو عام طور پر ”کٹے“ اور ”بکرے“ کا گوشت کہا جاتا ہے کے چار ”پھٹے“ ملتے ہیں۔ یہاں سے خریداری کرنے والوں کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سوال تو یہ کہ جو گوشت ”کٹے“ یعنی بھینس یا بھینس کے بچے کا ہے وہ واقعی انہی کا ہے یا بچھڑے یا گائے کا۔ اس سوال کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بڑا گوشت (Beef) پسند کرنے والے عام طور پر بھینس کا گوشت تو شوق سے کھا لیتے ہیں لیکن بعض اوقات کچھ طبی وجوہات کی بنا پر گائے کے گوشت پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ البتہ عیدالاضحیٰ پر صورت حال اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اس موقع پر بڑی قربانی کے طور پر ملک بھر میں زیادہ تر گائیں اور بچھڑے ہی ذبح کیا جاتے ہیں، بھینسیں نہ ہونے کے برابر۔ بس اکا دکا۔ کراچی میں تو بھاری بھرکم بیل مقابلے میں ذبح کیے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ عام دنوں میں گائے کے گوشت کو نسبتاً دوسرے درجے پر رکھنے والے عید کے موقع پر بڑی رغبت اور ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا جو چھوٹا گوشت (Mutton) کے نام پر بک رہا ہے وہ بکرے کا ہے، مینڈھے کا یا دنبے کا؟ اس سوال کے پیچھے بھی وجہ وہی کہ عام طور پر لوگ دنبے یا مینڈھے کی بجائے بکرے کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جب کہ عید الاضحیٰ پر مینڈھے اور دنبے کا گوشت بھی بکرے کے ساتھ ساتھ خوب کھایا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے گوشت کے ایسے مراکز پر لوگوں کے انہی سوالوں کے جوابات کے لیے قصائی حضرات ذبح ہوئے جانوروں کی کھالیں، سر اور پائے وغیرہ ثبوت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں اعتبار والا ماحول ہو تو نہ لوگوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہوں اور نہ ہی قصاب حضرات کو اپنی صفائیاں دینے کے لیے ان جانوروں کے اعضاء کی نمائش لگانی پڑے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ لوگوں کے یہ خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اسی لیے تو لوگ اس قسم کی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
’زید‘ کا مسئلہ ان سے مختلف نوعیت کا ہے۔ وہ جب بھی ان جگہوں سے گوشت خریدنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اخبارات کی خبریں اور میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز چلنا شروع ہو جاتی ہیں کہ فلاں جگہ پر مبینہ طور گدھے اور فلاں جگہ پر کتے ( مبینہ) کا گوشت فروخت ہوتے پکڑا گیا۔ کئی ہوٹلوں کے بارے میں یہ خبریں پڑھنے کو ملیں کہ وہاں مبینہ طور پر ایسے ہی مشکوک گوشت کا پلاؤ پکڑا گیا۔ ہمارے کھانے پینے کے مراکز پر رش اس بات کا گواہ ہے کہ ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ مسئلہ صرف اس شعبے کی کالی بھیڑوں کا ہے جنہوں نے پورے جگ کو مشکوک کر دیا ہے۔ ایک دن ’زید‘ کو اس کے پشاور والے دوست کا فون آیا کہ کبھی آپ پشاور آئیں اور آپ کا چپلی کباب کھانے کو من کرے تو ہم سے پوچھ کر کھانا کہ کہاں سے کھانے ہیں۔ ہمارے پاس اس میں موجود قیمے کے بارے میں اصلی اور حقیقی معلومات ہوتی ہیں۔ بس یہی باتیں اس کے ذہن میں گھومتی رہتی ہیں اور وہ گوشت کی خریداری کو مؤخر کر دیتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک حل اس کے پاس ہے۔ وہ زیادہ پیٹرول ضائع کر کے اس علاقے سے تھوڑا دور ایک اعتبار والے بندے کے پاس جاتا ہے جس کو لوگوں کو یقین دلانے کے لیے جانوروں کے اعضاء نہیں رکھنے پڑتے۔ بیمار جانور بھی ’زید‘ کے ذہن میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ کیوں نہ گھومیں، ایک دن ان کے ہاں دودھ دینے والے گوالے نے چہرے دائمی سکون طاری کر کے اسے بتایا کہ کل بیماری کی وجہ اس کے پاس موجود بیل ذبح کرنا پڑا اور گوشت ایک قصاب کو بیچ دیا۔ قصاب نے کون سا اس کو مفت تقسیم کرنا تھا۔ بیمار بیل ظاہر ہے لوگوں کے معدوں میں جا کر ہی تندرست ہوا ہو گا۔ حساب برابر کرنے کے لیے بیل کی کھال مسجد کو ہدیہ کر دی گئی۔
مرغی کا گوشت بھی وہ زیادہ تر اپنے سامنے ہی تیار کرواتا ہے، احتیاطاً تکبیر بھی پڑھ لیتا ہے۔ مردہ مرغیوں کے لیے ”ٹھنڈے“ کا کوڈ ورڈ تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا۔ یاد رہے کہ یہ بھی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ مبینہ طور پر مردہ مرغیاں ضائع نہیں کی جاتیں۔ ”ٹھنڈے“ کی کیٹگری بنا کر ”گاہک“ کی مرضی سے اس کو فروخت کر دی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے گاہک اس کو گھر میں تو نہیں پکاتا ہو گا۔
’زید‘ جب پاک صاف گوشت کی تگ و دو میں ہلکان ہو رہا ہوتا ہے تو سوچتا ہے کہ ایک ”حلال“ ملک میں جو اسلامی بھی ہے اور جمہوریہ بھی، جمہور کے لیے حلال گوشت کا حصول اس قدر مشکل اور تکلیف دہ کیوں ہے؟ اصل کی پیکنگ میں نقل کیوں بک رہی ہے؟ بہت سے ممالک جمہوری بھی نہیں اور نہ ہی اسلامی، پھر بھی وہاں خالص مال ملتا ہے۔ اندر اور باہر سے ایک جیسا۔
آرٹیکل لکھنے کے دوران ہی ایک دوست نے پنجاب کے شہر عارف والا کی ایک ویڈیو بھیجی جس میں لوگ فصلوں میں چھپ کر گدھے کو ذبح کر کے اس کی کھال اتار رہے تھے کہ پکڑے گئے۔ نہ جانے اس گوشت نے کہاں کہاں کس کس کے شکم میں جا کر دولتیاں مارنی تھیں۔ بے چارے گدھے کی قربانی رائیگاں گئی۔ پر کب تک۔ پتہ نہیں کتنے قربان ہو چکے اور کتنے ابھی باقی ہیں؟
نوٹ: اس بلاگ کو پڑھ کر ایمان داری سے کام کرنے والے دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ تو ان کے بارے میں ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ”دھندا ہے پر گندا ہے۔“

