اس بار سیاست نہیں، ریاست کا معاملہ تھا


کم و بیش پچھلے 14، 15 ماہ سے پاکستانی سیاست میں شدید ہنگامہ برپا ہے جس نے تقریباً پاکستانیوں کی اکثریت کو بیزار کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ ان کی زندگی میں کئی نہ کئی اس بات کا اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن 9 مئی کو جو ہوا اس نے پاکستانی ریاست کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا اور پھر ریاست نے فیصلہ کر لیا کہ اب کسی قسم کی رعایت نہیں دینی اور ہر قسم کے، ہر طبقے کے ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 9 مئی سے پہلے عمران خان اپنے شہرت کی بلندیوں پر تھے اور ان کا سچا جھوٹا بیانیہ ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا۔ شاید وہ اسی خوش فہمی کا بری طرح شکار ہو گئے۔ 9 مئی کے واقعے میں ملوث بہت سے لوگ جیل میں ہے اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس سانحے کے پیچھے بڑے بڑے چہروں کے نام آرہے ہیں جو اس کام میں پس پردہ شریک تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ سانحہ 9 مئی اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں کی برین واشنگ تھی۔ ساتھ ساتھ اس کی پلاننگ بھی ہوئی اور اس میں بڑے بڑے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ردعمل اچانک نہیں سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس میں عوام کی طاقت دکھا کر سپورٹ حاصل کرنی تھی اور اداروں پر دباؤ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے تھے مگر اداروں کی عقل مندی سے بہت بڑا منصوبہ پسپا ہو گیا۔

ایک لمحے کو اگر یہ مان لیا جائے کہ اس سانحے کے پیچھے کوئی سازش ہے اور اس میں ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر شامل ہیں تو پھر عام پاکستانی کا فیصلہ کیا ہونا چاہیے؟ تو پھر اس سیاسی پارٹی کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟ تو پھر ان سیاسی کارکنان کا کیا ہونا چاہیے جو اس گھناؤنے عمل میں شریک تھے؟ تو پھر کیا صرف کارکنان کو سزا ملنی چاہیے یا لیڈر کو بھی پابند سلاسل کرنا چاہیے؟ ان سارے سوالات کے جواب بہت سے پاکستانی جاننا چاہتے ہیں۔

پچھلے کئی دنوں سے پنجاب کے شہروں کی پریس کلب کافی مصروف رہی۔ اس کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس اور پارٹی سے علیحدگی کا اعلان تھا۔ یاد ماضی سے کچھ مثالیں لے کر کہا جانے لگا کہ یہ پریس کانفرنس بھی کسی دباؤ کا نتیجہ ہے جس طرح ماضی میں بزور طاقت پارٹی چھڑائی جاتی تھی، اسی طرح یہ عمل دوبارہ سے جاری ہے اور بہت سے لیڈران کو بلیک میل کر کے اور خوف پھیلا کر اس کو زبردستی پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

لیکن ماضی کے اور موجودہ دور کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ماضی میں کبھی اس طرح سے ریاست دشمنی نہیں دکھائی گئی اور اب واضح طور پر ریاست دشمنی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کے پارٹی چھوڑنے والوں کو کچھ ایسے ناقابل تردید ثبوت دکھائے گئے ہو جس کو مان کر خود انھوں نے پارٹی کو الوداع کیا ہو۔ بہت ممکن ہو کہ الوداع کہنے والوں نے یہ دیکھ لیا ہو کہ اب سیاست کا نہیں بلک ریاست کا مسئلہ ہے۔ شاید ان کے سامنے راز کھل گیا ہو کہ اب پارٹی لیڈر کی انا کے بجائے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

ماضی میں طرح طرح کی لڑائی ملتی ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف رہی ہے مگر اس دوران کسی بھی سیاسی جماعت نے کبھی بھی شہدائے وطن یا ریاست پاکستان کے خلاف اس طرح کا قدم نہیں اٹھایا۔ اندر کی خبریں جاننے والے بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ اس قدم نے ایک بڑی سیاسی جماعت کو حقیقی طور پر تنہا کر دیا ہے اور اس حرکت کی وجہ سے وہ پاکستانی سیاست میں اپنا مقام کھو چکی ہے اور اب بہت سے سیاسی تجزیہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ تحریک انصاف کی پاکستانی سیاست میں واپسی بہت مشکل نظر آتی ہے۔

Facebook Comments HS