عالمگیریت، گلوبل ویلج اور رشین آسٹن مارکیٹنگ


گلوبل ویلج یا گلوبلائزیشن دنیا کو جوڑنے اور فاصلوں کو ختم کرنے کی ایک آسان اور خوبصورت عالمی اصطلاح ہے۔ اس مد میں متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں واقع ’گلوبل ویلج‘ اور رشین گلوبل مارکیٹنگ کمپنی ’آسٹن‘ عملی اور قانون طریقوں سے پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

گلوبلائزیشن کی اصطلاح کو سب سے پہلے اقتصادیات اور مینیجمنٹ کے لٹریچر میں ہارورڈ بزنس سکول کے سابق پروفیسر تھیوڈورے لویٹ (Theodore Levitt) نے 1983 میں استعمال کیا تاکہ کاروبار کرنے والوں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ چیزوں کو کیسے تیار کرنا اور بیچنا ہے۔ اگرچہ تہذیبی و ثقافتی مطالعات میں 1960 کے عشرے میں مارشل ملکو ہانس (Marshel Mcluhans) نے اپنی کتاب Understanding Medi میں بھی اسے استعمال کیا۔ لیکن ذرائع ابلاغ اور اکیڈیمک سطح پر یہ اصطلاح انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ 80 کی دہائی کے بعد استعمال ہونا شروع ہوئی۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ گلوبلائزیشن کی اصطلاح پوری دنیا میں صحیح معنوں میں جنگ عظیم دوم کی سیاسی اتھل پتھل کے نتیجہ کے طور پر سامنے آئی، جبکہ 1981ء اور 1990ء کی دہائیوں میں گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کے مختلف تصورات نے عالمی مقبولیت حاصل کر لی۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں گلوبلائزیشن کے نام پر دبئی کے تھیم پارک ایریا میں ایک پورا شہر تعمیر کیا گیا ہے جسے ’گلوبل ویلج‘ (Global Village) کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر کو اکٹھا کرنے اور اسے تجارتی بنیادوں پر انسانیت کی ایک لڑی میں پرونے کے لئے ایک ’کاروباری میلہ‘ ہے جو ہر سال گرمی کا زور ٹوٹنے کے بعد معتدل مزاج موسم میں اکتوبر سے لے کر اپریل تک 6 ماہ کے لئے لگتا ہے۔ اس میلے میں ہر سال 100 سے زیادہ ممالک اپنے پویلین اور سٹال لگاتے ہیں جہاں وہ اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کرتے ہیں اور دنیا کی متحدہ تہذیب (Mixed Civilization) میں شامل ہونے کے لئے وہ اپنے کلچر، فنون لطیفہ، گیت سنگیت اور ڈانس وغیرہ کے شوز کرواتے ہیں۔

جبکہ آسٹن (ASTON) مارکیٹنگ اپنی نوعیت کی پہلی رشین کمپنی ہے جس کا کام انوسٹمنٹ کی بنیاد پر یورپ وغیرہ کے کچھ ممالک کی امیگریشن، پاسپورٹ اور سٹیزن شپ دلانا ہے۔ سرمایہ دار لوگ پرامن اور قدرتی حسن والے ممالک میں چھٹیاں گزارنا پسند کرتے ہیں اور بعض متمول لوگ ان ممالک کی شہریت خرید لیتے ہیں یا بڑے کاروباری افراد سفری مشکلات سے بچنے کے لئے کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ لے لیتے ہیں یعنی وہ اس ملک کی قانونی شہریت حاصل کر لیتے ہیں جس میں کچھ یورپیئن، کیربیئن اور ساوتھ پیسفک کے جزیروں کے علاوہ مالٹا، سینٹ کٹس، وینوآتو، ترکی، ڈومینیکا، اینٹیگوا، باربودا، سینٹ لوسیا اور گرینیڈا وغیرہ بھی سرفہرست ہیں۔ ان ممالک کی شہریت ایک لاکھ ڈالر سے لے کر تین لاکھ ڈالر تک ان ملکوں کا قبل از وقت وزٹ کیے بغیر 2 سے 4 ماہ میں آسانی کے ساتھ مل جاتی ہے جس پر آپ برطانیہ، سنگاپور اور یورپین ممالک سمیت کم و بیش 200 ممالک میں ویزہ کے بغیر آ جا سکتے ہیں!

عالمگیریت نے پوری انسانی آبادی کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور اس کی وساطت سے نہ صرف ذہنوں اور دلوں میں معلومات کا خزانہ جمع ہو گیا ہے بلکہ انسان کے فکر و خیال میں نہ تھمنے والا انقلاب بھی برپا ہو گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر شخص ایک دوسرے کے معاملات سے بھر پور واقفیت رکھتا ہے۔ اس دور میں علم و حکمت اور معلومات میں ہر دن بے حد اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ آج بین الاقوامی سطح پر فکری، تہذیبی، معاشرتی اور ثقافتی طور پر وسیع پیمانے پر تبادلہ ہو رہا ہے اور افکار و نظریات، علوم و سائنس اور معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل ہو رہی ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ایک عالمی تجارتی تنظیم ہے جو عالمگیریت (Globalization ( کی سب سے بڑی داعی ہے جو گلوبلائزیشن کی تعریف یوں کرتی ہے : ’عالمگیریت دنیا کے ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا نام ہے یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کا مقصد جغرافیائی حدود کو ختم کر کے پوری دنیا کو ایک عالمی و تجارتی خاندان میں تبدیل کرنا ہے۔ ‘

ماہرین سیاسیات اور اقتصادیات دنیا کو اقتصادی سیاسی، سماجی اور تہذیبی سطح پر گاؤں سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا بالکل ایک گاؤں کی طرح ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے نہ صرف مانوس ہیں بلکہ اچھی واقفیت بھی رکھتے ہیں۔ تھامس لارسن (Thames Larson)

گلوبلائزیشن کی تعریف اس طرح سے بیان کرتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’گلوبلائزیشن ایک ایسے عمل کا نام ہے جس کے ذریعہ دنیا نے سکڑ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لی ہے، فاصلے بہت کم اور مختصر ہو گئے ہیں، انسانی تعلقات وسیع پیمانے پر بڑھ گئے ہیں۔ ’جیسا کہ ایک دانشور کا بھی خیال ہے کہ عالمگیریت اس عمل کا نام ہے جس میں پوری دنیا نے ایک سماجی رخ اختیار کر لیا ہے۔ یعنی اب یہ تصور ٹوٹ رہا ہے کہ جس کا نوحہ جاوید اختر نے لکھا تھا کہ:

’پنچھی ندیا پون کے جھونکے،
کوئی سرحد نہ انہیں روکے،
سرحد انسانوں کے لئے ہے، سوچو!
تم نے اور میں نے، کیا پایا انسان ہو کے!