منڈی بہاوالدین: قبل مسیح کا تجارتی خطہ


منڈی بہاؤ الدین تاریخی اعتبار سے آثار قدیمہ سے گہری وابستگی رکھتا ہے اس کی تاریخ میں بہت سے تاریخی راز پوشیدہ ہیں۔ منڈی بہاؤ الدین کے مضافاتی علاقوں سے ملنے والے سکوں سے بے شمار عقدے کھل رہے ہیں کہ دوسری صدی قبل مسیح سے بھی تجارتی نظام کرنسی کی بنیاد پر قائم تھا اور خطہ منڈی بہاؤ الدین ایک اہم تجارتی مرکز تھا جہاں سے مختلف ہمسایہ سلطنتوں سے تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی تھی۔ ایسی ہی ایک ریاست کنندہ ہے جس کا سکہ منڈی بہاؤ الدین سے دریافت ہوا۔

کنندہ ریاست ایک قدیم ریاست تھی جو ہندوستان کے شمالی حصے میں، موجودہ ریاست اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش اور نیپال پر مشتمل تھی۔ یہ سلطنت تیسری صدی قبل مسیح میں قائم ہوئی تھی مورخین کے مطابق پہلی صدی عیسوی تک موجود تھی۔

کنندہ سلطنت ان بہت سی چھوٹی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو موری سلطنت کے دوران شمالی ہندوستان میں قائم ہوئی تھی۔ ریاست بنیادی طور پر جدید دور کی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے کے ارد گرد قائم ہوئی، جس کا دارالحکومت کیرتی پور شہر میں واقع تھا۔ یہ بذات خود ایک بڑی ریاست نہیں تھی بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا مجموعہ تھی۔ اس میں شامل مختلف ریاستوں کی فہرست مرتب کرنا بھی مشکل ہے۔

کنندہ لوگ لوہے کے کام کے جدید علم کے لیے مشہور تھے اور لوہے کے اوزار اور ہتھیار بنانے میں ماہر تھے۔ ان کے بارے میں یہ بھی جانا جاتا تھا کہ وہ ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ تجارت کرتے تھے مٹی کے برتن درآمد اور گھوڑے اور ہتھیار برآمد کرتے تھے۔ ان کی ہمسائیگی میں متوازی چلنے والے سلطنت یونانی سلطنت باہتریا یا بکٹریا تھی جو تیسری صدی قبل مسیح سے موجودہ پاکستانی علاقوں اور ہندوستانی علاقوں پر قائم تھی۔ اس سلطنت کے ساتھ کنندہ سلطنت کی تجارت عروج پر تھی۔

کنندہ سلطنت کے عظیم بادشاہ جس نے ہمسایہ سلطنتوں کے ساتھ تجارت شروع کی اس کا نام اموگھبھوتی تھا اموگھبھوتی کنندوں کا ایک ممتاز حکمران تھا اور یہ اپنے سکوں کے حوالے بہت مشہور تھا۔ یہ وہ بادشاہ تھا جس کا سکہ منڈی بہاؤ الدین کے مضافاتی علاقے سے دریافت ہوا۔ یہ سکہ ہمالیہ سے منڈی بہاؤالدین پہنچا کیسے؟ یقیناً تجارتی غرض سے، یہ بات تو طے ہے کہ تین سو قبل مسیح میں جو تجارتی نظام رائج تھا وہ انہی سکوں پر انحصار کرتا تھا۔

اس دور میں ریاستیں پڑوسی ریاستوں کے سکے بالکل اسی شکل، اسی دھات اور اسی دھات میں ڈھالا کرتی تھیں جن سے وہ پڑوسی سلطنتوں سے تجارت کرتی تھیں۔ دوسرا خیال یہ کیا جاتا ہے یہ سکے اسی دھاتوں کے بدلے لے لئے جاتے تھے پھر یہ سکے تجارت کے مقصد کے لئے استعمال ہوتے۔ منڈی بہاؤالدین میں کنندہ سلطنت کے سکے کا ملنا بھی یہی وجہ ہو سکتی ہے۔

کنندہ سلطنت کے جاری کردہ سکے ہندوستان میں پائے جانے والے سکے کی ابتدائی مثالوں میں سے کچھ ہیں۔ یہ سکے کنندہ سلطنت کے دوران جاری کیے گئے تھے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً تیسری صدی قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک رائج تھے۔ کنندہ سکے بنیادی طور پر چاندی کے بنائے گئے تھے، حالانکہ اس کی کچھ مثالیں تانبے میں بھی پائی گئی ہیں۔ وہ عام طور پر سائز میں چھوٹے ہوتے تھے، جن کا قطر تقریباً 8 ملی میٹر سے 12 ملی میٹر تک ہوتا تھا۔

سکوں پر براہمی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا، جو قدیم ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا رسم الخط تھا۔ ان سکوں پر عام طور پر حکمران کا نام، جاری کرنے والے عہدے دار کا نام اور بعض اوقات جاری ہونے کا سال شامل ہوتا تھا۔

سکوں کے اوپر کے حصے پر مختلف جانوروں، جیسے ہاتھی، گھوڑے، بیل اور شیر کی تصویر کشی کی گئی تھی، جبکہ اس کے الٹے حصے میں عام طور پر ایک علامت یا نوشتہ ہوتا تھا۔ کچھ سکوں میں تجریدی علامتیں بھی دکھائی دیتی ہیں، جیسے سواستیکا اور دائرے۔

کنندہ کے سکے بہت تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ کنندہ سلطنت کے معاشی اور سیاسی حالات کے بارے میں کافی حد تک تاریخی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ وہ ہندوستان میں سکے کی ابتدائی تاریخ کو جانچنے کے لئے بھی مفید ثابت ہوئے، جو آخر کار ملک کے اقتصادی نظام کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔

کنندہ سلطنت کے زوال کی صحیح وجوہات معلوم نہیں ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بادشاہت کو بالآخر پہلی صدی عیسوی میں طاقتور کشان سلطنت نے ضم کر لیا تھا۔

Facebook Comments HS

One thought on “منڈی بہاوالدین: قبل مسیح کا تجارتی خطہ

  • 05/06/2023 at 12:54 شام
    Permalink

    Good indo.

Comments are closed.