کیا ”ریڈ لائن“ کی سرخی کم ہو گی؟
پاکستان کی سیاست سیاسی بت پرستی کی ”ریڈ لائن“ پر کھڑی ہے۔ اس بت پرستی کا آغاز اس وقت ہوا جب ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی۔ بھٹو نے اپنی جذباتی تقریروں سے سحر طاری کیا، عوام کی آنکھوں کا تارا بنے اور پھر چند سال کے بعد بت پرستی اور ”ریڈ لائن“ پار کرنے کے کھیل میں وہ تارا مسیح کے ہاتھوں تاریخ کا حصہ بن گئے۔
1990 میں نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کے اندر بھی انا کا بت ترشنا شروع ہو گیا تھا۔ 1993 میں انہوں نے ”ڈکٹیشن نہیں لوں گا“ کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ پھر 1997 میں دو تہائی اکثریت کا تاج اور امیر المومنین کا چغا پہننے کا شوق چرایا، ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لینا، سانحہ کارگل اور واجپائی کا دورہ لاہور وہ واقعات تھے جس پر یہ محسوس کیا گیا کہ ”ریڈ لائن“ پار ہو گئی ہے اور ذاتیات کے بت نے میاں صاحب کو چت کر لیا ہے اس پر ان کو وزیراعظم ہاؤس سے جیل اور پھر جیل سے جدہ بھیج دیا گیا۔
بھٹو اور نواز شریف کی نسبت عمران خان کی بات کی جائے تو وہ اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ انہیں فوری اقتدار نہیں ملا۔ مسلسل 22 سال تک سیاسی میچ ہارنے کے بعد 2018 میں انہیں بڑی کامیابی ملی اور وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے لیکن یہ کامیابی صرف ساڑھے تین سال تک رہی اور پھر زوال کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں 9 مئی کے واقعات نے عمران خان کی سیاست کو بظاہر پاتال میں اتار دیا۔
9 مئی کے بعد کیا ہوا؟ تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن تین اور سولہ ایم پی او کے تحت جیل گئے، جو بچ گئے وہ روپوش ہوئے اور پھر محمود مولوی سے تحریک انصاف سے لاتعلقی کا سلسلہ شروع ہوا وہ کئی دیرینہ ’الیکٹ ایبلز‘ کو ساتھ بہا کر لے گیا۔ اب تک 135 کے قریب چھوٹے بڑے رہنما تحریک انصاف کو خیر باد کہہ چکے ہیں جو بچے ہیں وہ دیکھتے ہیں کب تک بچے رہتے ہیں کیونکہ جو کل تک یہ کہتے تھے کہ عمران خان ہماری ”ریڈ لائن“ ہے سانحہ 9 مئی کے بعد انہوں نے اپنی ریڈ لائن کو تو کراس نہیں کیا البتہ عمران خان کی ”ریڈ لائن“ کو کراس کر کے اپنی قیادت پر بھی بڑا کراس ضرور لگا دیا۔
یہاں پر یہ سوال اٹھانا مقصود نہیں جو کہتے تھے کہ ہم ”اے پولیٹکل“ ہو گئے ہیں وہ اب کیوں ”پولیٹکل“ ہو گئے ہیں اور نہ ہی اس نکتہ پر بات کرنا مقصود ہے کہ جناح ہاؤس کی عزت عزیز ہے تو جناح کے پاکستان کی عزت اور تکریم کا بھی کچھ خیال کر لیں۔ سوال سادہ سا ہے کہ کیا ہم سب اپنی اپنی ”ریڈ لائن“ کی سرخی کو قدرے ماند کرنے کو تیار ہیں؟
فوج ریاست کا ستون نہیں بلکہ انتظامیہ کے نیچے ایک منظم ادارہ ہے جس کا کام ریاست کی حفاظت کرنا ہے اس پر کوئی حرف آتا ہے تو یقیناً ریاست کی سلامتی پر حرف آئے گا اور اس کا اثر براہ راست عوام اور خواص پر پڑے گا۔ اس لئے اس کی ”ریڈ لائن“ کو کوئی اندر یا باہر سے کمزور کرنے کی کوشش کرے گا تو فوج کے ادارہ کا ردعمل فطری ہو گا اس پر کوئی دوسری رائے نہیں۔ امریکا، برطانیہ یا دنیا کے کسی بھی ملک کی فوج ہو وہ ایسی صورتحال میں جوابی کارروائی ضرور کرے گی، لیکن پاکستان کے حالیہ واقعات میں جب ایک فریق یہ کہتا ہے کہ اس معاملہ پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے تو اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ آخر وہ کون سے چہرے ہیں اور کون سے کردار ہیں جس نے ملک کو اس صورتحال سے دوچار کیا۔ یاسمین راشد کی جناح ہاؤس حملے سے بریت بہت بڑا پیغام ہے اگر کوئی سمجھے تو۔
دوسرا عوام کے لئے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں میں اپنی اپنی قیادت کی صورت میں جس بت پرستی میں مبتلا ہیں اس سے باہر آئیں۔ اول تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے لیڈرز انسان ہیں اور انسان غلطیاں کرتا ہے دوسرا یہ کہ دوسروں کی قیادت کو تسلیم کریں اور تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں تیسرا اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کریں کہ سوائے چند ایک کو چھوڑ کر کسی سیاسی جماعت کے اندر جمہوریت نہیں ہے۔
خاندانی ملوکیت کی جونکیں ان جماعتوں کو چمٹی ہوئی ہیں جو نہ تازہ خون بننے دیتی ہیں اور نہ نئی قیادت کو آگے آنے دیتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں جھانکیں تو کیسے کیسے تجربہ کار اور گھاگ سیاسی نگینے موجود ہیں لیکن مجال ہے کہ وہاں بلاول اور مریم کے سوا کسی اور کی گڈی چڑھ سکے اور کل کلاں یہی دونوں شخصیات اپنے اپنے کارکنوں کی ”ریڈ لائن“ بن جائیں گی۔
اس لئے خاطر جمع رکھیں، آج عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے خاکم بدہن کل مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے اور جہانگیر ترین کی کنگز یا کوئین پارٹی کو بھی ”ریڈ لائن“ کا عفریت چمٹ سکتا ہے لیکن وطن عزیز میں سیاست کا جو چلن ہے جس میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں اور خان تیرے جانثار بے شمار بے شمار۔ وہاں ”ریڈ لائن“ جس کسی کی بھی ہو، بدقسمتی سے ہم اس کی سرخی آج بھی کم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔


