مدفن کی تلاش: ظہیر عباس کے افسانوں میں حیرت اور تخیل کا آمیزہ
مجھے جب یہ اطلاع ملی کہ محمد عباس اور ظہیر عباس اپنی دیرینہ دوستی کے باعث اپنے افسانوں کی کتابیں ساتھ لے کر آرہے ہیں تو مجھے ظہیر عباس کے متعلق تشویش لاحق ہو گئی۔ تب تک میں نے آج کے کسی شمارے میں اس کے ایک دو افسانے ہی پڑھے تھے، جو میرے ذہن پر کوئی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے برعکس میں محمد عباس کے کئی افسانے پڑھ کر اس کے فن کا گھائل ہو چکا تھا۔ اسی بنا پر میں نے اس سے کہا کہ تم اپنے دوست کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔ بہتر ہو گا کہ اپنی کتاب ظہیر عباس کے ساتھ مت لاؤ، کیوں کہ تم منجھے ہوئے افسانہ نگار ہو، اس لیے تمہاری کتاب کے سامنے اس کی کتاب پٹ جائے گی۔ جو اباً اس نے نہایت اعتماد سے کہا کہ آپ جب اس کی کتاب پڑھیں گے تو اس کے قائل ہوجائیں گے۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
پھر جب ان کی کتابیں چھپ کر آئیں تو میں نے پہلے محمد عباس کی کتاب پڑھی اور اس پر تبصرہ بھی کر دیا۔ اس کے کافی عرصے بعد میں نے ظہیر عباس کی کتاب ”مدفن کی تلاش“ پڑھنا شروع کی تو اس کے مطالعے کے دوران واقعی تحیر کے نت نئے دریچے وا ہوتے چلے گئے اور دھیرے دھیرے اس کی افسانہ نگاری کا فسوں سر چڑھ کر بولنے لگا۔ مجھے محمد عباس سے اتفاق کرنا ہی پڑا۔
اردو میں ایسے افسانے شاذونادر ملتے ہیں جن میں حیرت اور تخیل باہم مل کر افسانے کی بنت کچھ اس طرح کریں کہ پڑھنے والا دنگ رہ جائے۔ حیرت ہر آن اک نئی کہانی سنائے اور اس میں جو کمی رہ جائے، تخیل اس میں رنگ آمیزی کرتا چلا جائے۔ حیرت تخیل کو مہمیز کرے اور تخیل ایک نئی حیرانی کو جنم دے۔ ان دونوں کی یہ باہمی کارفرمائی، اردو میں کم از کم رفیق حسین، نیر مسعود اور محمد سلیم الرحمن کے علاوہ کم ہی افسانہ نگاروں کے ہاں ملتی ہے۔ مغرب میں یہ ایڈگر ایلن پو، کافکا اور بورخیس کے ہاں پوری شدت کے ساتھ جاری و ساری دکھائی دیتی ہے۔
یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اردو فکشن میں ورطہ حیرت میں ڈالنے والے تخیل کی اس نادر کارفرمائی کی کمی کا سبب سہل پسندی اور مطالعے کی کمی کے سوا کچھ اور نہیں۔ ظہیر عباس کے افسانوں کی پہلی کتاب ”مدفن کی تلاش“ اس کمی کا ازالہ کرنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔ کامیاب اس لیے کہ اس مجموعے میں شامل ان کے آٹھ افسانے نہ صرف ہمارے تحیر کو مہمیز کرتے ہیں بلکہ ہمارے تخیل کو بھی دیر تک مسحور رکھنے کے ساتھ ہمارے ذوق سلیم کی آبیاری بھی کرتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی نے نیر مسعود کے افسانوں کے حوالے سے کہیں لکھا تھا کہ وہ نہ صرف افسانوی فضا بنانے میں کامیاب رہتے ہیں بلکہ اسے برقرار رکھتے ہوئے قاری کے ذہن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ بے کم و کاست یہی بات ظہیر عباس کے افسانوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ وہ بہت کامیابی سے افسانوی ماحول تیار کرتے ہیں، کہانی کو بڑھاوا دیتے ہیں اور ایک نکتے سے شروع کر کے اسے کامیابی سے انجام تک پہنچاتے ہیں، اور وہ بھی کچھ اس طرح کہ پہلے نکتے سے شروع ہونے والی حیرانی انجام تک آتے آتے دو آتشہ بلکہ سہ آتشہ ہو کر ہمارے ذہن میں کھلبلی مچا دیتی ہے۔ ظہیر عباس نے یہ سارا اہتمام شعوری اور ارادی طور پر کیا ہوا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا قاری اس کے افسانوں سے کسی بھی قسم کے حتمی اور متعین معانی اخذ کرسکے۔ وہ انہیں اپنے تخلیق کردہ ماحول میں ہمیشہ کے لیے بھٹکتا چھوڑ دیتا ہے۔
”مدفن کی تلاش“ میں شامل سبھی افسانے کسی جگسا پزل سے کم نہیں لیکن اس کے باوجود ان میں ایک جاذبیت اور کشش محسوس ہوتی ہے۔ مطالعے کے بعد وہ قاری کے ذہن میں ایک آسیب کی طرح گوشہ گیر ہو جاتے ہیں۔ وہ ان کے معنی و مطالب کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن کوئی کلید ہاتھ نہیں لگتی۔ وہ اپنے قاری کو بہلا پھسلا کر اپنی کہانیوں کی غلام گردش میں داخل کر دیتا ہے لیکن اس کے بعد اسے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں سجھاتا۔ ایسی انوکھی نادر کاری طویل ریاضت، غور و فکر اور تدبر کے بغیر پیدا نہیں کی جا سکتی۔ گویا یہ افسانے نہ ہوئے بلکہ افضال احمد سید صاحب کی نثری نظمیں ہو گئیں۔ جن کے مطالب تو بے پناہ ہوسکتے ہیں لیکن حتمی مطلب پر گرفت کرنا مشکل اور ادق دکھائی دیتا ہے۔
ظہیر عباس کے افسانے خالص کہانیوں کے حامل افسانے ہیں۔ ان کے پلاٹ جامد و ساکت نہیں بلکہ متحرک اور ارتقا پذیر ہیں اور ایک نکتے پر پہنچ بظاہر افسانہ ختم ہوجاتا ہے لیکن ایک گپھا میں گھرے ہوئے کرداروں کی گمبھیرتا میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور وہ افسانہ ختم ہونے کے بعد بھی جاری و ساری رہتی ہے۔ ان افسانوں میں موجود دنیا، اس میں زندگی کرتے کردار اور ان کی طلسماتی صورت حال، خالصتاً افسانہ نگار کی تخلیق کردہ ہے۔
اس پر کسی کا اثر نہیں بلکہ وہ خود اپنے ہی زیر اثر محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے علامتی اور تجریدی افسانوں سے ہزار معنی و مطالب تلاش کرنے والوں کو یہاں منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ یہ افسانے کسی طور علامتی یا تجریدی نہیں ہیں۔ ظہیر عباس کو علامت اور استعارہ سازی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ صرف حیران و پریشان کردینے والے افسانے لکھنا چاہتا ہے اور اس میں کافی حد کامیاب بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے زمانے کا کوئی ناقد اس کے افسانوں میں معانی و مطالب کا کوئی سلسلہ تلاش کر لے لیکن تب تک ہمیں ان میں جاری و ساری حیرت اور تخیل کے اس ملے جلے کھیل سے لطف اندوز ہوتے رہنا چاہیے۔
دنیا میں بہت سی چیزیں معانی و مطالب سے عاری ہوتے ہوئے بھی پرلطف و دلچسپ ہوتی ہیں جیسے کہ خود یہ دنیا اور اس میں موجود تمام اشیا اور ان کے بیچ گزرتی ہوئی آدم زاد کی یہ زندگی۔ کیا ان سب کا کوئی مطلب ہے؟ کیا ان سب میں کوئی تعلق ہے؟ اگر اپ کا جواب بھی میری طرح نفی میں ہے تو آپ کو ظہیر عباس کے یہ افسانے ضرور پڑھنے چاہئیں۔



