بیاد آصف فرخی


کہتے ہیں، سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ ادب کا موضوع زندگی ہے اور تنقید کا موضوع ادب۔ زندگی میں ایکشن اور ادب میں اسلوب بندے کو دوسروں سے الگ اور ممتاز کرتے ہیں۔ آصف فرخی نے جس طرح ادب میں اپنی الگ شناخت اور اسلوب بنایا تھا وہ انھوں نے زیست نامکمل کے بعد زیست مکمل میں بھی منتقل ہونے سے پہلے پہلے بقول میر اس کا اہتمام کیا تھا کہ

مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو
اس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں۔

میرا خیال ہے بلکہ مجھے قوی یقین ہے کہ جس طرح مجھے، آصف فرخی میرے تصورات میں ایک جیتے جاگتے متحرک اور ایک ہنستی ہوئی مجسم تصویر کی صورت میں ہر وقت دکھائی دیتے ہیں وہ میرے دیگر ان سے متعلقہ دوستوں کے ساتھ بھی پیش آتا ہو گا۔

دو جون کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے جوش ملیح آبادی لائبریری میں ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کی جانب سے بیاد آصف فرخی ایک طویل نشست افضال احمد سید کی صدارت اور انعام ندیم کی نظامت میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں انعام ندیم کی ابتدائیہ باتوں کے بعد آصف فرخی کے چھوٹے بھائی طارق اسلم نے گو کہ بظاہر غیر روایتی انداز میں اپنے بھائی کے حوالے سے اپنی باتوں کا آغاز کیا جو در حقیقت داخلیت میں بھرپور روایتی خلاصہ تھا۔ ان کی گفتگو آصف فرخی کے حوالے سے داخلیت اور خارجیت کے خانگی امتزاج کا مرقع تو تھا ہی اوپر سے طارق اسلم کے فطری انداز نے اس کو مزید پرکشش بنا دیا۔

سید کاشف رضا نے آصف فرخی کے تراجم کو موضوع سخن بنایا اور ان کی تراجم میں ان کے اپنے جداگانہ اسلوب کو نہ صرف سراہا بلکہ بقول ان کے ان کا یہ وصف ان کو دوسروں سے ممتاز بھی کرتا ہے، اور ترجمے پر ترجمے کا گمان نہ ہونے کو مترجم کی کمزوری سے تعبیر کیا۔

شاہ محمد پیرزادو صاحب نے آصف فرخی کے سندھی اور اردو ادب کے ملاپ، تراجم اور تنقید کے تانے بانے شیخ ایاز کی ادبی تخلیقات کے تناظر میں حاضرین نشست کے گوش گزار کیے اور بقول ان کے شیخ ایاز پہلی بار آصف فرخی کے تنقیدی کام سے نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ مطمئن بھی ہوئے تھے اور شیخ ایاز نے یہ بھی فرمایا کہ ان کا جو نقاد سے گلہ تھا اب وہ گلہ باقی نہیں رہا۔

رفاقت حیات نے شہر زاد اور دنیا زاد سے منسلک رہنے اور آصف فرخی سے سیکھنے سکھانے اور ادارتی ذمہ داریوں کے باہم ادبی سفر کو موضوع بحث بنایا اور اپنی رفاقت کی داستان اپنے چند جملوں میں ملبوس کرا کے حاضرین مجلس کے لئے زیب اذکار کی۔

امینہ سعید نے ان کی کراچی اور بیرونی ممالک میں ادبی میلوں اور ان کے تراجم اور ادب سے کمٹمنٹ کے حوالے سے مختصر لیکن جامع خراج تحسین پیش کیا اور خاص طور پر آصف فرخی کے مطالعے اور ترجمے کی مستعدی کو ورطہ حیرت کا سامان قرار دیا۔ ڈاکٹر نعمان نقوی نے ان کے ساتھ بطور ڈین رہنے اور اس دوران ان کی ادبی سرگرمیوں اور طلبا کے ساتھ رکھ رکھاؤ پر بڑے انہماک اور پرسوز انداز میں بیان کیا جو حاضرین مجلس کے لئے معلومات سے بھی لبریز تھا۔

تنویر انجم صاحبہ نے آصف فرخی کی نظم پر گفتگو کی۔ اور ایک دو نظمیں پڑھ کر بھی سنائیں اور اس میں سیاسی اپروچ، ادبی چاشنی اور نظم سے آصف فرخی کی جان کاری حاضرین نشست سے نہ صرف ڈسکس کی بلکہ یہ باور بھی کرایا کہ وہ ایک مکمل شاعر تھے اور ان کی یہ نظمیں ان کے شاعر ہونے کی پکی دلیل ہے۔

فاطمہ حسن نے اپنی لکھی ہوئی تحریر جو آصف فرخی کی ادبی تحریک کو مزید جلا بخش رہی تھی کو سامعین کے ساتھ شیئر اور ائر کیا۔ انھوں نے آصف فرخی کی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کے ادبی کلچر کو فروغ دینے اور ترجمے کی کاوشوں کو تہہ دل سے سراہا۔

غازی صلاح الدین نے ان کے ساتھ مختلف فارم پر ان کے ساتھ بیتے دنوں اور کی ہوئی ادبی کاوشوں کا ذکر بڑے وثوق سے کیا، اور یہ بات بڑی دیدی دلیری سے کی کہ وہی ان موضوعات کو جانتے تھے یا علم رکھتے تھے جو وہ ان سے ڈسکس کرنا چاہتے تھے اور وہی اس کے اصل حل کے پیش بند تھے اب یہ خلا پر کرنا مشکل ہے۔

ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اپنا مقالہ جو انھوں آصف فرخی کی رحلت کے کچھ دنوں بعد تحریر کیا تھا پڑھ کر سنایا اور آصف فرخی کا خاندانی پس منظر، ہمہ گیر ادبی کاوشیں، مختلف زبانوں کے ساتھ تعلق اور رشتہ، اندورن اور بیرون ممالک کے سفر کے دوران ادبی مستعدی اور جامعات میں تسلسل کے ساتھ نشستوں کے انعقاد کو طوالت کے ساتھ نہ صرف بیان کیا بلکہ ستائش کے سانچے میں بھی بڑے احسن طریقے سے سمویا۔

خطبہ صدارت سے پہلے حاضرین کو بھی بولنے کا موقع دیا گیا۔

اس دوران اس طفل مکتب نے بھی آصف فرخی کے ساتھ بیتے لمحوں اور پشتو اردو ادب کے ملاپ پر گفتگو کی۔ جیسے کہ وہ پہلے جب ہم سے ریاض تسنیم کے ساتھ ملے تو ریاض تسنیم نے کہا یہ ماخام خٹک ہیں۔ پوچھا ماخام کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا شام، کہا چلو، ایک قافیہ تو مل گیا۔ پھر میں نے بولا ذرا مشکل ہے، کہا میں اس کا حل نکالوں گا۔ جب دوسری بار ملے تو کہا ایوننگ خٹک کیا حال ہے۔ شاید ترجمہ ان کے نفسیات کا حصہ بن چکا تھا۔ پھر کیفے میں جہاں ریگل چوک پر ہماری درمیاں جس میں، میں قیصر آفریدی، ریاض تسنیم، محب وزیر بیٹھا کرتے تھے۔ اور دنیا زاد کے لئے سوات قبائلی علاقہ جات اور جنوبی وزیرستان پر ہونے والی ادب کو اردو میں منتقل کرنے یا نائن الیون کے پشتو ادب کے اثرات کے موضوع کو اردو زبان میں منتقل کرنے کے بعد دنیا زاد میں شائع کرنا۔ یا پھر فاروق سرور کے افسانے لیوہ کا جب اردو میں بھیڑیے کے نام سے ندی کی پیاس افسانوی مجموعے کا اشاعت ہوا کو انگلش میں ترجمہ کرنا اور ان ہی کے کہنے پر فاروق سرور نے پشتو میں سگوان ناول لکھا جو پروفیسر اسیر منگل نے اردو میں ترجمہ کیا اور پشتو ادب میں پہلا علامتی ناول کہلایا۔

اور راقم خود جو نظموں کا مجموعہ اکیسویں صدی اردو میں لانے جا رہا ہے وہ آصف فرخی کی ڈھارس اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔ آصف فرخی بڑے عجیب شخص تھے کبھی دور سے ملنے آ جاتے تھے اور کبھی پاس ہی کھڑے اگنور کر دیتے تھے تو ہم بھی آگے بڑھ جاتے تھے جس پر کہہ دیتے ناراض ہو گئے، نہیں ہم ناراض نہیں ہوتے ہم خفا ہوتے ہیں جس پر بولتے، اچھا، کیفے جہاں میں تین بجے ملیں گے۔

آخر میں نشست کے صاحب صدر نے تمام بحث کو بڑے بحسن و خوبی سمیٹا اور اس نشست کی خاص طور پر آصف فرخی کے ادبی خدمات کو جو مختلف گوشوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور اس پر جو باتیں ہوئیں کو نہ صرف خراج تحسین پیش کیا بلکہ یہ بھی گوش گزار کرایا کہ ایک گوشہ آصف فرخی کا جو ان کی تنقید کا تھا وہ اس نشست میں تشنہ رہا۔ بقول ناظم نشست افضال احمد سید آصف فرخی کے منٹور تھے بلکہ ان کے درمیان عشق کا معاملہ تھا۔ اور اسی عشق نے افضال احمد سید کو بھی اپنے آخری الفاظ جو ان کو آصف فرخی کی خبر دینے سے متعلق تھا وہ کہہ نہیں پائے اور ان کو آبدیدہ کر دیا جو سارے حاضرین مجلس کو قدر اداس بھی کیا۔

یہ نشست کافی دیر تک جاری رہی اور تمام سامعین اور مقررین اپنی اپنی نشستوں پر تا آخر جمے رہیں۔ جو حاضرین کا آصف فرخی کے ساتھ تعلق اور وابستگی کا بین ثبوت ہے۔

Facebook Comments HS